اسلام آباد کے لوگ مجھ سے ناراض ،کارکردگی سے مطمئن نہیں،مصطفی کمال

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کاکہناہے کہ اسلام آباد کے لوگ مجھ سے ناراض ہیں، کارکردگی سے مطمئن نہیں، کیا ان کے پاس مجھے ہٹانے کا اختیار ہے؟ہر شخص کو جواب دوں ایسا نہیں ہو سکتا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرصحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد چار صوبوں کا نظام فلاپ ہوگیا ، یہ نظام کام نہیں کرپارہا ، لوگ انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹوں کی حمایت کررہے ہیں۔
وزیرصحت نےکہا کہ موجودہ نظام میں ملک نہیں چل سکتا، صوبوں کو چھوٹا کرنے کی ضرورت ہے، لاہور، کوئٹہ، پشاور ایک شہر اور ایک ضلع ہے، کراچی بھی ایک ضلع ہوتا تھا، واحد شہر ہے جس میں 7 اضلاع ہیں، جو کام کراچی میں کیا گیا ہے وہ پورے ملک میں کردیں ، اس میں اعتراض کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کوئی بھی نہیں لڑے گا، سب آپس میں پیار اور محبت کے ساتھ رہیں گے، اگر اکثریت نے کہہ دیا کہ ملک میں انتظامی یونٹس نہ بنے تو نہیں بنیں گے، ایک ایسا نظام ہونا چاہیے کہ لوگوں کے ووٹ سے وزیر اعلیٰ کو تبدیل کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نلکوں میں آنے والا پانی ٹینکر میں عوام کو بیچا جا رہا ہے، کےفور کا پانی شہر کے علاقوں میں کیسے جائے گا کوئی پلان نہیں، مجھے میئر بنے 18 سال ہوگئے ہیں، مصطفیٰ کمال کے خراب پلان کو درست کرنے کیلئے اور کتنا وقت چاہیے، کےفور پروجیکٹ پونے دو ارب روپے پر پہنچ گیا ہے، 260 ملین گیلن پانی ٹینکر مافیا تک جانے کا خدشہ ہے، یہ شہر پہلے سے کھدا ہوا ہے تو پہلے سے کے فور کے لیے لائن ڈال دیتے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اسی وجہ سے پاکستان میں بھی لیوی ٹیکس بڑھا ہے، وفاقی حکومت کے جماعت اسلامی سے مذاکرات حتمی مراحل میں داخل ہیں۔

Back to top button