نئے صوبوں کے حمایتی اب اس کی مخالفت کیوں کرنے لگے؟

ابتدا میں چھوٹے صوبوں کی تشکیل کی حمایت کرنے والے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے بھی اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اسٹیبلشمنٹ کے لیے دونوں بڑی حکمران اتحادی جماعتوں کو نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر راضی کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

انصار عباسی کے مطابق فوری طور پر نئے صوبوں کے قیام کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں، تاہم انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات، بااختیار انتظامی یونٹس اور مؤثر بلدیاتی نظام کے ذریعے عوام کو اختیارات کی منتقلی کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی گفتگو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بحث اب صرف صوبائی حدود کی تبدیلی تک محدود نہیں رہی بلکہ اصل توجہ انتظامی اختیارات، مالی وسائل اور فیصلہ سازی کو نچلی سطح تک منتقل کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ انصار عباسی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے بھی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر حکومتی شخصیات کی گفتگو سے بھی انتظامی اصلاحات کی ضرورت کے اشارے ملتے ہیں۔ تاہم سیاسی اتفاق رائے کے بغیر نئے صوبوں کی تشکیل ایک انتہائی مشکل عمل ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ فوری طور پر نئے صوبے بنانے کی بجائے ایک قابلِ عمل درمیانی راستہ بااختیار انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی نظام کی صورت میں اختیار کیا جا سکتا ہے۔ عام شہری کے لیے ریاست کا سب سے اہم ادارہ وہی ہے جو اس کے گھر کے قریب ہو اور اسے صاف پانی، سڑک، اسپتال، سکول، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرے، لیکن اس مقصد کے لیے مقامی حکومتوں کو محض سیاسی نمائندگی نہیں بلکہ حقیقی انتظامی اور مالی اختیارات بھی دینا ہوں گے۔
پاکستان میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات کی منتقلی میں پیش رفت ہوئی، تاہم صوبوں سے مزید نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے کا معاملہ توقعات کے مطابق آگے نہیں بڑھ سکا۔ تعلیم، صحت، صفائی، ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولیات جیسے شعبوں میں مقامی سطح پر فیصلہ سازی بڑی حد تک صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور احساس محرومی کی شکایات برقرار ہیں۔

نئے صوبوں کے معاملے پر سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ اس کے مطابق کے مطابق فی الحال نئے صوبوں کا قیام یا کراچی کو وفاق کے زیر انتظام دینے کی تجویز عملی شکل اختیار کرتی دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی تجویز قبول نہیں کرے گی کیونکہ کراچی صوبے کے معاشی وسائل میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے، تاہم آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت بلدیاتی نظام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ایک ممکنہ درمیانی راستہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے ترقیاتی وسائل کی غیر مساوی تقسیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں فی شہری تقریباً 13 ہزار 240 روپے جبکہ لودھراں میں صرف 460 روپے خرچ ہونے کی مثال مختلف علاقوں کے درمیان موجود بڑے فرق کو واضح کرتی ہے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب، جہاں ملک کی تقریباً 30 فیصد آبادی آباد ہے، ترقیاتی بجٹ میں اس کا حصہ صرف 4 فیصد رہنے کا معاملہ بھی موجودہ نظامِ تقسیم پر سوالات اٹھاتا ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث کے پس منظر میں بنیادی سوال وسائل اور انتظامی اختیارات کی تقسیم کا ہے۔

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے مالی وسائل اور انتظامی اختیارات مزید تقسیم کرنے کے لیے آسانی سے تیار نہیں ہوں گی، کیونکہ نئی انتظامی اکائیاں بننے کی صورت میں وزرائے اعلیٰ اور صوبائی حکومتوں کا ترقیاتی ترجیحات طے کرنے اور وسائل خرچ کرنے کا اختیار محدود ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہی سیاسی مفادات انتظامی اصلاحات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اصولی طور پر اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی حمایت کرتی ہیں، لیکن جب ایسی اصلاحات سے ان کے اپنے سیاسی اور انتظامی اختیارات محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہو تو عملی پیش رفت سست پڑ جاتی ہے۔ ان کے مطابق صرف نئے صوبوں کے نام رکھنے یا نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ایسی تبدیلی ضروری ہے جس سے عوام کو حقیقی سہولت حاصل ہو۔

دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار عمر چیمہ کے مطابق نئے صوبوں کا معاملہ بنیادی طور پر سیاسی جماعتوں کو آگے بڑھانا چاہیے، تاہم سیاسی قیادت اس موضوع پر واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کریں گے، اپنے اندر اہم آئینی اور سیاسی سوالات رکھتا ہے کہ فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے ہوگا، پارلیمان کرے گی یا کوئی دوسرا آئینی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترامیم، سیاسی اتفاق رائے، وسائل کی تقسیم، نئی اسمبلیوں، انتظامی ڈھانچے اور مالی معاملات سمیت متعدد پیچیدہ مراحل طے کرنا ہوں گے، اس لیے فوری طور پر بڑی پیش رفت کے امکانات محدود ہیں۔ اس کے مقابلے میں موجودہ صوبائی ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے علاقائی یا ڈویژنل سطح پر اختیارات میں اضافہ اور آرٹیکل 140 کے تحت بااختیار بلدیاتی نظام نسبتاً قابلِ عمل راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔

Back to top button