نون لیگ اور PPP اختلافات آخری حدوں کو چھونے لگے

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی اتحادی حکومت کے باہمی اختلافات میں اضافے کے بعد دونوں جماعتوں کے قائدین کے مابین بھی تعلقات کشیدہ ہوتے نظر آ رہے ہیں، بلاول بھٹو نے شہباز شریف حکومت کے ساتھ مزید کسی قسم کا تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے باعث اتحادی حکومت کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگانے کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نون لیگی حکومت کے ساتھ تعاون سے انکاری ہے۔ ادھر حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی اختلافات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے باہمی خلیج کم کرنے کی ذمہ داری سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو سونپ دی ہے۔ اسی دوران شہباز حکومت نے اپنی بڑی اتحادی جماعت پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات طے ہونے تک قومی اسمبلی کا اجلاس مؤخر کرنے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ ایاز صادق کو پیپلز پارٹی کی قیادت سے بات چیت کا باقاعدہ مینڈیٹ دیا گیا ہے اور وہ پارٹی کی مرکزی قیادت سے مسلسل رابطوں میں ہیں۔ حکومتی حلقوں کو امید ہے کہ سپیکر کی کوششوں کے ذریعے ایسے نکات پر پیش رفت ممکن ہوگی جو حالیہ دنوں میں دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ بنے ہوئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایاز صادق کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن سمیت مختلف سیاسی طاقتوں سے رابطوں کا تجربہ رکھتے ہیں اور ان کی کوششوں کو براہِ راست حکومتی مذاکرات کے بجائے ایک مفاہمتی عمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔حکومت اور پیپلز پارٹی کے اختلافات میں آزاد کشمیر اسمبلی کے الیکشن نتائج کے ساتھ ساتھ بلوچستان حکومت کا معاملہ بھی خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن بلوچستان حکومت کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے کیلئے تیار ہے اور اس سلسلے میں بات چیت کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ سپیکر ایاز صادق کا حالیہ دورہ کوئٹہ بھی اسی سیاسی رابطہ کاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومت کی کوشش ہے کہ بلوچستان کے ایشو کو کسی سیاسی تصادم کی شکل اختیار کرنے سے پہلے باہمی مشاورت کے ذریعے حل کر لیا جائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا معاملہ محض ایک صوبائی مسئلہ نہیں بلکہ وفاق میں موجود دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے باہمی اعتماد کا امتحان بھی بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت پیپلز پارٹی کے تحفظات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان پر بات چیت کیلئے آمادگی ظاہر کر رہی ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اگر صوبائی سطح پر پیدا ہونے والے اختلافات وفاقی اتحاد کو متاثر کرتے ہیں تو اس کے اثرات پارلیمانی معاملات اور حکومتی کارکردگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔بسپیکر ایاز صادق کی کوششیں صرف پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان براہِ راست ملاقات کرانے کیلئے بھی سرگرم ہیں۔

ذرائع کے مطابق حلقوں کو احساس ہے کہ موجودہ سیاسی اور معاشی صورت حال میں پیپلزپارٹی کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی حکومت کیلئے مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے۔ اسی لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ پارلیمانی سطح پر کسی بڑے اختلاف یا تصادم سے قبل معاملات کو مذاکرات کے ذریعے طے کیا جائے۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری کشیدگی کا براہِ راست اثر قومی اسمبلی کے اجلاس پر بھی پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق 21 ستمبر کو مجوزہ قومی اسمبلی کا اجلاس اب مؤخر ہونے کا امکان ہے اور شیباز حکومت اسکی تاریخ تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان معاملات معمول پر آنے تک اجلاس نہ بلانے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ پارلیمان کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنے سے پہلے کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔

یاد رہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ ہوئے تو شہباز شریف حکومت کو قانون سازی سمیت کئی اہم معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس صرف معمول کی پارلیمانی کارروائی نہیں بلکہ اتحادی یکجہتی کے امتحان کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ اتحادی حکومت کے معاملات محض عددی اکثریت کی بنیاد پر نہیں چلائے جا سکتے بلکہ اتحادی جماعتوں کے درمیان صوبائی اور وفاقی معاملات پر باقاعدہ مشاورت اور سیاسی مفاہمت ضروری ہے۔ پارٹی کے تحفظات کا تعلق صرف ایک معاملے تک محدود نہیں بلکہ پیپلز پارٹی یہ چاہتی ہے کہ حکومت کے اہم فیصلوں میں اتحادی جماعت کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ دونوں جماعتوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ برقرار رہے۔

مسلم لیگ ن کیلئے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر مطمئن کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتی معاملات میں بھی اپنے ساتھ چلاتی رہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کیلئے بھی یہ فیصلہ اہم ہے کہ وہ حکومت پر دباؤ کس حد تک بڑھاتی ہے اور اختلافات کو اتحادی حکومت سے علیحدگی یا پارلیمانی محاذ آرائی تک جانے سے کیسے روکتی ہے۔ سیاسی حلقوں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سپیکر ایاز صادق کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف انہیں پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے کیلئے اعتماد میں لیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ممکنہ ملاقات کیلئے بھی وہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر ان کی کوششوں سے دونوں جانب کی اعلیٰ قیادت براہِ راست مذاکرات پر آمادہ ہو جاتی ہے تو موجودہ بحران کو سیاسی مفاہمت کے ذریعے ختم کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

Back to top button