ورلڈ بینک نے پاکستان کو پیسے اکٹھے کرنے کا نیا کلیہ بتا دیا؟

ورلڈ بینک نے پاکستان کو مزید پیسے اکٹھے کرنے کا نیا کلیہ بتاتے ہوئے زور دیا ہے کہ پاکستان ناصرف ٹیکسوں پر دی گئی چھوٹ ختم کرے بلکہ زراعت، ریئل اسٹیٹ اور ریٹیل کاروبار کو بھی مؤثر ٹیکس نیٹ میں لائے تاکہ ٹیکس کلیکشن کو بہتر کیا جاسکے۔ورلڈ بینک کے پالیسی نوٹ کے مطابق پاکستان کا ٹیکس ریونیو کلیکشن خطے میں سب سے کم ہے، جب کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکس کی شرح سب سے زیادہ ہے، جس کی اہم وجہ زراعت، ریئل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر کے لیے مؤثر ٹیکس کا نظام نہ ہونا اور اپنے حصے کا ٹیکس ادا نہ کرنا ہے۔مالی سال 2022 میں پاکستان کی ٹیکس وصولیاں جی ڈی پی کا صرف 10.4 فیصد رہی ہیں۔ جبکہ گزشتہ دہائی میں یہ اوسط 12.8 فیصد رہی جو کہ جنوبی ایشیا کی 19.2 فیصد کی اوسط سے کہیں کم ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مجموعی وصولیاں بھی کم ہو رہی ہیں۔

زراعت ہماری معیشت کا سب سے بڑا شعبہ ہے، جس کا جی ڈی پی میں تقریباً 20 فیصد حصہ ہے لیکن ملک کے ٹیکس ریونیو میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اسی طرح ریئل اسٹیٹ کا بھی ٹیکس ریونیو میں حصہ بہت کم ہے۔ورلڈ بینک کی حالیہ سفارشات کے مطابق ریئل اسٹیٹ اور زراعت سے جی ڈی پی کا بالترتیب 2 فیصد اور ایک فیصد ریونیو حاصل کیا جانا چاہیے۔ جوکہ ریئل اسٹیٹ سے 2.1 ٹریلین روپے جبکہ زراعت سے 1 ٹریلین روپے بنتے ہیں۔ورلڈ بینک کے مطابق ریئل اسٹیٹ اور زراعت سے منسلک لوگوں کے پاس غیر ادا شدہ ٹیکس کی حامل دولت سب سے زیادہ ہے۔ صوبوں کو ان سے ٹیکس اکٹھا کرنے کے اقدامات کرنا چاہییں تاکہ مرکز پر بوجھ کم ہو سکے۔ ان دونوں شعبوں سے ٹیکس اکٹھا کرنا 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان میں زراعت، ریئل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے بحث جاری رہتی ہے کہ ان کا شعبوں کا ٹیکسوں میں حصہ کیوں کم ہے اور ان سے اس طریقے سے ٹیکس وصولی کیوں نہیں ہوتی جس طرح سیلری کلاس سے ہوتی ہے؟اس حوالے سے کچھ عرصہ پہلے سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے خیالات سامنے آئے تھے کہ کیسے سیاسی فائدوں کے لیے مختلف شعبوں پر ٹیکس لگانے اور اکٹھا کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔شبر زیدی نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب وہ چیئرمین ایف بی آر تھے اور انہوں نے زراعت پر ٹیکس کا ایک نوٹس جاری کیا تو تقریباً 40 کے قریب ایم این ایز جن کا تعلق حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں سے تھا، ان کے پاس آئے اور ٹیکس نوٹس واپس لینے کا تقاضا کیا۔شبر زیدی کے مطابق انہوں نے ان دونوں شعبوں پر ٹیکس لگانے کی کوشش کی تو کیسے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے ان کو بلا کر اس سے منع کیا۔

اس وقت جب پاکستان مشکل معاشی حالات کا شکار ہے اور حکومت مالی خسارے سے دوچار ہے تو سوال یہ ہے کہ پاکستان ان دو شعبوں سے وہ ٹیکس کیوں اکٹھا نہیں کر پا رہا جو ان شعبوں کو ادا کرنا چاہیے، حالانکہ ایف بی آر خود کئی دفعہ یہ نشاندہی کرچکی ہے کہ یہ شعبے اپنے حصے کا ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔ماہرین معیشت کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ یہ دونوں شعبے ٹیکس نیٹ کے اندر نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان شعبوں سے ٹیکس وصولی کے لیے اس طرح سے کوشش نہیں کی جارہی جس طرح ہونی چاہیے۔پاکستان میں پچھلے کئی سالوں سے جس شعبے میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری اور لیں دین ہوا وہ ریئل اسٹیٹ کا شعبہ ہے۔ پورے پاکستان میں زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائیٹز بنیں اور اس شعبے نے لوگوں کو راتوں رات کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ لیکن اس شعبے کا پاکستان کی ٹیکس کلیکشن میں حصہ بہت معمولی رہا۔ورلڈ بینک کے مطابق ریئل اسٹیٹ سے جی ڈی پی کا 2 فیصد ریونیو حاصل کیا جانا چاہیے جوکہ 2.1 کھرب روپے بنتا ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف دویلپمنٹ اکنامکس سے وابستہ محمود خالد کے مطابق ریئل اسٹیٹ میں ٹیکس کے حوالے 2 چیزیں سمجھنے کی ضرورت ہے ایک پراپرٹی ٹیکس ہے جو کہ صوبائی مینڈیٹ ہے۔ بنیادی طور پر مقامی حکومت کا مینڈیٹ ہے جو اس وقت پورے پاکستان میں اتنا زیادہ رائج نہیں ہے اس لیے صوبے پراپرٹی ٹیکس اکٹھا کرتے ہیں۔ لیکن پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ پراپرٹی ٹیکس اثاثہ جات کی قیمتوں سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس میں بہت سی چھوٹیں ہونے کے ساتھ ساتھ انڈررپورٹنگ کے بھی مسائل ہیں۔دوسرا بہت سی جگہوں پر اس پراپرٹی ٹیکس کے لاگو ہونے کے حوالے سے بھی ابہام ہے اور اگر کوئی اصلاحات کرنی ہیں تو ان سب چیزوں کو مد نظر رکھنا ہو گا۔دوسری طرف وفاقی ٹیکس کے نقطہ نظر سے ریئل اسٹیٹ ٹیکسیشن یہ ہے کہ لین دین تو ہو رہا ہے لیکن اس سے اتنا ٹیکس اکٹھا نہیں ہو رہا جتنا کہ ہونا چاہیے۔ اسی وجہ سے ایف بی آر نے 7 ای سیکشن آف ود ہولڈنگ ٹیکس متعارف کروایا ہے لیکن بدقسمتی اس کا بھی کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آرہا۔

پاکستان اس وقت جس طرح کے معاشی حالات سے گزر رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شعبوں سے ٹیکس اکٹھا کرنے کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے اور ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر کیا جائے نہ کہ ان ہی لوگوں پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا جائےجو پہلے ہی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

Back to top button