عالمی طاقتیں وسائل پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں: روسی وزیر خارجہ

ڈپلومیٹک فورم کے دوران روسی وزیر خارجہ لاوروف نے کہا کہ عالمی طاقتیں وسائل پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کررہی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ توانائی کے وسائل اور سٹریٹجک راستوں پر کنٹرول کی کوششیں خطے میں کشیدگی بڑھا رہی ہیں۔
کثیر قطبی عالمی نظام کی بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا مرکز صرف ایک یا دو ممالک نہیں رہیں گے، برکس اور دیگر علاقائی اتحاد اس تبدیلی کی علامت ہیں۔
مغربی ممالک کے قواعد پر مبنی عالمی نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ نظام یکساں اصولوں پر نہیں چلتا بلکہ حالات کے مطابق بدل دیا جاتا ہے، کبھی خود ارادیت کے حق کو تسلیم کیا جاتا ہے اور کبھی علاقائی سالمیت کو، جس سے عالمی قوانین کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
روسی وزیر خارجہ لاوروف نے کہا کہ یوکرین تنازع اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ یہ برسوں پر محیط پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جن میں نیٹو کی توسیع کو انہوں نے بنیادی وجہ قرار دیا، روس نے بارہا مغربی ممالک کو سیکیورٹی کے متبادل نظام کی پیشکش کی، لیکن اسے نظر انداز کیا گیا۔
لاوروف نے یوکرین کے حوالے سے الزام لگایا کہ اسے روس کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے اور یورپ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی قیادت عوامی مفاد کے بجائے بیرونی پالیسیوں پر چل رہی ہے۔
محمود اچکزئی قیادت سے نالاں، مردان جلسے میں عدم شرکت کا امکان
دوسری جانب انہوں نے روس اور چین کے تعلقات کے متعلق کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات متوازن، مستحکم اور اعتماد پر مبنی ہیں، اور یہ کسی روایتی فوجی اتحاد سے زیادہ مضبوط نوعیت رکھتے ہیں، موجودہ عالمی نظام میں تبدیلی ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوگا، اور آنے والے سالوں میں بین الاقوامی سیاست مزید غیر مستحکم اور مقابلہ جاتی ہو سکتی ہے۔
