یوسف رضا گیلانی اور سیاست کا ظالم دھندا

تحریر:نصرت جاوید، بشکریہ :نوائے وقت
سیاست دان کا بنیادی وصف ”من باتوں سے“ موہ لینا ہے اور یوسف رضا گیلانی صاحب مذکورہ ہنر کے انتہائی تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔ گزرے جمعہ کے دن وہ سینٹ کے اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ ان کی عدم موجودگی میں عمران حکومت نے کمال مکاری اور مہارت سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو کامل خودمختاری فراہم کرنے والا قانون عملاً بل ڈوز کر دیا، عالمی معیشت کا نگہبان ادارہ۔
آئی ایم ایف۔ مذکورہ قانون کی منظوری کے لئے بہت عرصے سے اصرار کر رہا تھا۔ وہ قانون اگر پاس نہ ہوتا تو پاکستان کو چھ ارب ڈالر کے ”امدادی پیکیج“ سے ایک ارب ڈالر کی قسط میسر نہ ہوتی۔ ریاستی دھندا چلانے کے لئے ہمیں عالمی منڈی کے کمرشل بینکوں سے بھاری بھر کم شرح سود کے وعدوں پر قرض حاصل کرنا پڑتے۔
بہتر تو یہی تھا کہ 1988 ء سے تین حکومتوں کے مدارالمہام رہے پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہ نما کھلے دل سے لوگوں کے روبرو اعتراف کرتے کہ مذکورہ بل پاس کرنا ہماری مجبوری بن چکا ہے۔ گیلانی صاحب کی جماعت نے مگر اس کے برعکس دہائی مچانا شروع کردی۔ مصررہی کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت کامل خودمختاری عطا کرتے ہوئے عمران حکومت درحقیقت پاکستان کی ”خودمختاری“ قربان کرنے کو آمادہ ہو گئی ہے۔ غریب عوام کی حقیقی غم خوار اور پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کو ہمہ وقت بے چین پیپلز پارٹی مگر اس قانون کو پارلیمان سے منظور نہیں ہونے دے گی۔
ہم سادہ دلوں نے ان کے دعوے پر اعتبار کیا۔ اعتبار کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی نگاہ میں رکھی کہ سو افراد پر مشتمل ایوان بالا میں ان دنوں 57 افراد اپوزیشن نشستوں پر براجمان ہیں۔ ایک قد آور رہ نما اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سینٹ میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں۔ مذکورہ حقائق کی بنیاد پر امید باندھ لی گئی کہ عمران حکومت سٹیٹ بینک کو خودمختاری دینے والا قانون منظور نہیں کرواپائے گی۔
ہماری امید بھڑکانے کے باوجود حکومت نے جب مذکورہ قانون جمعہ کے دن اجلاس کے سامنے رائے شماری کے لئے رکھا تو اپوزیشن کے آٹھ سینیٹروہاں موجود ہی نہیں تھے۔ ”اپوزیشن“ کی صفوں سے سینیٹر دلاور خان اور ان کے حامیوں نے ڈھٹائی سے حکومت کی حمایت میں ووٹ بھی ڈال دیا۔ حکومت کی کامیابی کا دوش جائز بنیادوں پر مجھ جیسے کئی پارلیمانی رپورٹروں نے تاہم فقط یوسف رضا گیلانی صاحب کے سرڈال دیا۔
گیلانی صاحب پارلیمان میں نووارد نہیں۔ 1985 ء میں پہلی بار ملتان سے قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ 1993 ء سے 1996 ء کے دوران قومی اسمبلی کے سپیکر بھی رہے۔ 2008 ء کے انتخاب کے بعد وزیر اعظم کے منصب پر فائز بھی ہو گئے۔ ان جیسے تجربہ کار سیاست دان کو مجھ جیسے قلم گھسیٹ سے یہ سیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ حکومتیں اپنی ترجیح کے قوانین پارلیمان سے زور زبردستی منظوری کروانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔
اس تناظر میں ان کا یہ بہانہ ”بدترازگناہ“ محسوس ہوا جس کے ذریعے وہ یہ شکوہ کرتے پائے گئے کہ گزشتہ جمعرات کی رات حکومت نے ”اچانک“ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو کامل خودمختاری دینے والا قانون جمعہ کی صبح طلب ہوئے اجلاس کے ایجنڈے میں ڈال دیا۔ انہیں اس کاعلم جمعرات کی رات ایک بجے ہوا۔ وہ اس وقت ملتان میں موجود تھے۔ ان کے لئے ممکن ہی نہیں تھا کہ جمعہ کی صبح بروقت اسلام آباد پہنچ کر حکومت کو سٹیٹ بینک والا قانون بل ڈوز کرنے سے روک پاتے۔ گیلانی صاحب کا تراشا یہ عذر اس لئے بھی مزید تنقید کا نشانہ بناکیونکہ حکومت محض ایک ووٹ کی اکثریت سے مذکورہ قانون کو منظور کرواپائی تھی۔
گیلانی صاحب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مجھ جیسے سادہ لوح یہ حقیقت فراموش کر گئے کہ سیاستدانوں کی ہڈی بہت ڈھیٹ ہوتی ہے۔ وہ عام انسانوں کی طرح ”لوگ کیا کہیں گے“ والے خوف میں مبتلا نہیں ہوتے۔ پروین شاکر نے انتہائی بے بسی سے اپنے ایک شعر میں اعتراف کیا تھا کہ محبوب سے تکرار کرتے ہوئے وہ سچ بولتے ہوئے بھی گنہگار قرار پائے گی۔
پیر کے روز گیلانی صاحب بھی مرحومہ کے بیان کردہ محبوب ثابت ہوئے۔ دکھی دل سے سینٹ کا اجلاس شروع ہوتے ہی تقریر فرمائی۔ ان کی تقریر سنتے ہوئے مجھے اکثر یہ گماں ہوا کہ میں کسی سیاسی فورم میں ہوئی بحث کا شاہد نہیں بلکہ تھیٹر میں بیٹھا ہوں جہاں لارنس اولیور جیسا کوئی مہا اداکار شیکسپیئر کے کسی شہرۂ آفاق کردار کی طرح اپنے دل پر ”شہر سنگ دل“ کے لگائے زخم آشکار کر رہا ہے۔
گیلانی صاحب کی تقریر اتنی پراثر تھی کہ اس کے بعد مسلم لیگ (نون) کی سخت گیر تصور ہوتی سینٹر سعدیہ عباسی صاحبہ نے مائیک سنبھالا اور پرخلوص درد مندی سے گیلانی صاحب سے درخواست کی کہ وہ سینٹ کے قائد حزب اختلاف کے منصب سے مستعفی ہونے کا ارادہ ترک کردیں۔ ایوان بالا کو اپنی متحرک موجودگی سے وقار فراہم کرتے رہیں۔ گیلانی صاحب کی جمعہ کے دن سینٹ کے اجلاس سے غیر حاضری والا معاملہ اس تقریر کے بعد ”رات گئی بات گئی“ ہو گیا۔ اپوزیشن نشستوں پر بیٹھے تمام اراکین اس کے بعد ”اسی تنخواہ“ پر گزارہ کرنے کو آمادہ نظر آئے۔ صدارتی نظام کی حمایت میں ”نامعلوم“ افراد کی جانب سے جو مہم چلائی جا رہی ہے اس کی مذمت کے لئے ایک قرار داد بھی حکومتی حمایت کے ساتھ منظور کروالی گئی۔ اللہ اللہ خیر صلیٰ ہو گیا۔
اس حقیقت سے اندھی نفرت کے ہاتھوں مغلوب ہوا کوئی شخص ہی انکار کر سکتا ہے کہ یوسف رضا گیلانی صاحب نے اپنے سیاسی کیرئیر میں بے تحاشا اذیتیں بھی برداشت کی ہیں۔ تعلق ان کا ملتان کے ایک جاگیردار گھرانے سے ہے۔ یہ گھرانے جبلی طور پر مائی باپ کہلاتی سرکار کی جی حضوری کے عادی ہیں۔ گیلانی صاحب نے مگر بسا اوقات فدویانہ روایت سے انحراف کیا۔
کیا میر شکیل نے کپتان کو لیڈر بنانے کی سزا بھگتی؟
جنرل مشرف کے دور میں ان کے خلاف احتساب کے بہانے ایک سنگین مقدمہ بنایا گیا تھا۔ ایسے مقدمات دیگر کئی سرکردہ سیاستدانوں کے خلاف بھی قائم ہوئے تھے۔ ان کی اکثریت نے معافی تلافی طلب کرنے میں عافیت محسوس کی۔ اس کے بعد جنرل مشرف کی چھتری تلے قائم ہوئی وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں بھی شامل ہو گئے۔ گیلانی صاحب مگر اپنے دفاع میں ڈٹے رہے اور پانچ برس تک جیل میں رہے۔ ان کی ثابت قدمی نے آصف علی زرداری کو انہیں 2008 ء کے انتخاب کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب پر نامزد کرنے کو مائل کیا۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر نام نہاد عوامی مقبولیت کی بنیاد پر بحال ہوئے افتخار چودھری صاحب مگر گیلانی صاحب سے تقاضا کرنا شروع ہو گئے کہ وہ بطور وزیر اعظم سوئس حکومت کو ایک خط لکھیں اور استفار کریں کہ پاکستان کے ان دنوں منتخب ہوئے صدر نے اس ملک کے بینکوں میں کتنی رقم ”چھپا“ رکھی ہے۔ گیلانی صاحب نے آئینی طور پر منتخب ہوئے صدر کی تذلیل میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔
اس کی وجہ سے وزارت عظمیٰ سے فارغ کردیے گئے۔ اس فراغت کے باوجود 2013 ء کی انتخابی مہم کے آخری دن گیلانی صاحب کے فرزند کو مذہبی انتہا پسندوں نے ملتان سے اغواکر لیا۔ اس کے بعد کئی برسوں تک گیلانی خاندان اپنے جواں سال فرزند کی گمشدگی کا عذاب سہتا رہا۔
سیاست مگر ایک ظالم دھندا ہے۔ ایک مسلسل عمل جہاں لمحہ موجود ہی میں ہر سیاستدان کے کردار پر نگاہ رہتی ہے۔ بلھے شاہ نے اسے ”آئی صورت“ کہا تھا۔ گزرے جمعہ کے دن گیلانی صاحب ”آئی صورت“ کے تقاضے نبھاتے نظر نہیں آئے۔ انتہائی تجربہ کار سیاست دان ہوتے ہوئے مگر پیر کے روز سینٹ میں اپنی تقریر کے ذریعے انہوں نے انگریزی محاورے والی میز الٹ دی ہے۔ اپنی وفاداری، قربانیاں اور ثابت قدمی کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے روبرو سرخرو بھی ہو گئے۔ ان کی ذات پر نازل ہوئی طعنوں کی بارش تو ٹل گئی ہے۔ میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی جو محدود آمدنی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہیں اپنے دکھوں کے ازالے کی کوئی صورت اگرچہ دریافت نہیں کر پائیں گے۔
