کیا میر شکیل نے کپتان کو لیڈر بنانے کی سزا بھگتی؟
جنگ گروپ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کی احتساب عدالت سے بریت نے ان پر لگنے والے الزامات کو جھوٹا تو ثابت کر دیا لیکن اہم سوال یہ ہے کہ حکومت کو انکے خلاف جھوٹا مقدمہ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مبصرین کا کہنا ہے کہ دراصل میر شکیل الرحمان نے عمران خان کو لیڈر بنانے کا خمیازہ بھگتا ہے۔
خیال رہے کہ احتساب عدالت نے میر شکیل کو بری کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ انہیں تمام تر الزامات سے بری کیا جاتا ہے اور انکی جو چیزیں نیب کی تحویل میں ہیں وہ انہیں واپس کی جاتی ہیں۔ عمران کے دور حکومت میں نیب کے ہاتھوں جھوٹے کیس میں شکیل الرحمان کی گرفتاری کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے نیا دور سے وابستہ سینئر صحافی علی وارثی کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان ایک زمانے میں میر شکیل کے بہت قریب تھے چنانچہ جنگ اور جیو گروپ کے اکثر ناقدین الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے عمران کو لیڈر بنانے کی سزا بھگتی ہے۔ وارثی کہتے ہیں کہ اپوزیشن کے زمانے میں سینئیر اینکر پرسن حامد میر ہر چوتھے روز عمران کو اپنے پروگرام میں مدعو کیا کرتے تھے۔
کسی اور لیڈر کو اتنے مواقع ون آن ون انٹرویو میں آسان ترین سوالات کے ساتھ نہیں ملے جتنے عمران خان کو دیئے گئے لہذا انہیں بنانے میں سب سے بڑا کردار جیو نیوز کا تھا۔ بقول علی وارثی، بدلے میں جیو نیوز عمران سے چھوٹے موٹے کام نکلوا لیا کرتا تھا۔ مثلاً اگر کسی حکومت پر جیو سوپر کے لئے میچوں کے رائٹس کے لئے دباؤ ڈلوانا ہو تو عمران کھل کر جیو سوپر کے حق میں بیان دیا کرتے تھے۔ دونوں نے مل کر سیلاب زدگان کے لئے بھی اکٹھے مہم چلائی۔
تاہم، 2014 میں عمر چیمہ کی ایک ٹوئیٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عمران اور میر شکیل کے درمیان وجۂ تنازع بنی۔ یہ ٹوئیٹ ایک نامعلوم سیاستدان اور اسلام آباد کی ایک نوجوان خاتون کے درمیان جنسی تعلقات کا اشارہ دے رہی تھی۔ اس میں کسی کا نام نہیں تھا۔
علی وارثی کہتے ہیں کہ خان صاحب نے تصور کر لیا کہ یہ ٹوئیٹ انہیں بلیک میل کرنے کے لئے کروائی گئی ہے کیونکہ اس میں کسی کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ عمران نے ایک پریس کانفرنس میں اس کا ذکر بھی کر ڈالا۔ جھلا کر بولے کہ میر شکیل نے مجھ پر ذاتی حملہ کروایا ہے۔ بعد ازاں تب کے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے حامد میر پر 2024 میں ہونے والے قاتلانہ حملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم غلیل والوں کے ساتھ نہیں ہیں، ہم دلیل والوں کے ساتھ ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ پرویز رشید آج تک اس جملے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ 2021 کے سینیٹ انتخابات میں ان کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے میں بھی اسی جملے کا کردار ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد عمران مسلسل جیو نیوز سے حالتِ جنگ میں ہیں۔
2014 کے دھرنے کے دوران یہ لڑائی اس حد تک بڑھ گئی کہ جیو نیوز کے دفتر پر متعدد مرتبہ حملے ہوئے۔ ان کے اینکرز پر حملے ہوئے۔ سلیم صافی کو اتنی دھمکیاں موصول ہوئیں کہ انہیں کسی بھی قسم کا نقصان پہنچنے کی صورت میں جوابی کارروائی کی دھمکی والا کالم لکھنا پڑا۔
علی وارثی کہتے ہیں کہ حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوا تو تحریکِ انصاف کے حامی ماننے کے لئے تیار نہیں تھے کہ انہیں گولی لگی تھی حالانکہ انہیں 6 گولیاں ماری گئیں اور وہ آج بھی اپنے جسم میں گولیاں لیے گھومتے ہیں۔ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ عمران ی جیو سے طلاق بھی تب ہوئی جب جنگ اور جیو گروپ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ناپسندیدہ گروپ بن چکا تھا۔
ان کے اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات تب شدید ہو گئے جب حامد میر پر حملے کا الزام ان کے بھائی عامر میر نے تب کے ڈی جی آئی ایس آئی لیکن جنرل ظہیر الاسلام پر عائد کر دیا۔ بعد ازاں جیو کی نشریات کئی دن تک معطل رہیں اور جیو ٹی وی کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ یاد رہے کہ تب کی نواز شریف حکومت نے جیو انتظامیہ کے خلاف کیسز درج کروائے تھے اور خواجہ آصف اس کام میں پیش پیش تھے۔ لیکن ناقدین الزامات لگاتے ہیں کہ جیو کو compensate کرنے کے لئے تب کی حکومت نے انہیں ٹیکس مراعات دیں۔
یوسف رضا گیلانی اور سیاست کا ظالم دھندا
علی وارثی کے بقول، 2016 کے اواخر میں پاناما پیپرز پر عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو پاؤلو کوئیلہو کے ناول کی ایک لائن کے مصداق کائنات کا ہر ذرہ میاں نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے میں جت گیا کیونکہ پاکستانی سیاست کا سورج یعنی اسٹیبلشمنٹ ایسا کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ لیکن جیو اور جنگ گروپ نواز شریف کے نکالے جانے کے بعد بھی عمران اور ان کے لانے والوں کے ساتھ ویسے کھڑا نہ ہوا جیسے وہ چاہتے تھے۔ تب مسلم لیگ ن کو اقتدار سے نکالنے کا راستہ ہموار کیا گیا اور اس کی واپسی کی تمام راہیں مسدود کی گئیں۔
چنانچہ 2018 کے انتخابات کے بعد ‘ہائبرڈ رجیم’ نے ایک ایک کر کے میڈیا سے تنقیدی آوازوں کی صفائی کی۔ عمران خان کے سیاسی دشمنیوں کی فہرستیں لمبی ہیں۔ صحافیوں میں جیو کے طلعت حسین کا نمبر سب سے پہلے آیا۔ پھر حامد میر کی باری آئی اور اسکے بعد ایک ایک کر کے کئی اور ٹی وی اینکز کو میدان سے غائب کر دیا گیا۔ اس کے باوجود بھی حکومتِ وقت راضی نہ ہوئی کیونکہ جیو کی قدرے آزدانہ پالیسیاں اسے کانٹے کی طرح چبھ رہی تھیں۔ تب یہ فیصلہ کیا گیا کہ جیو کو سبق سکھانے کا سب سے مؤثر طریقہ میر شکیل کو پابندِ سلاسل کرنا تھا۔
لیکن بقول علی وارثی، اس فیصلے کا نقصان درحقیقت کپتان حکومت کو ہی ہوا۔ ایک طرف عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے میر شکیل کی حراست کو خوب اٹھایا اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں۔ دوسری طرف ایسے صحافی جو عمران خان کو لانے میں پیش پیش تھے، انہیں بھی مجبوراً اس فیصلے کی مذمت کرنی پڑی اور میڈیا عمومی طور پر عمران خان حکومت کے مزید خلاف ہو گیا۔
میڈیا اس خوف میں مبتلا ہو گیا کہ اگر سب سے بڑے میڈیا گروپ اور ارب پتی میر شکیل کے ساتھ ایسا سلوک ممکن ہے تو چھوٹے چینل تو کسی شمار قطار میں نہیں۔ ان کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جانا بالکل ممکن تھا۔ تاہم اس طفلانہ اور فسطائی فیصلے کے بعد عمران حکومت کو لینے کے دینے پڑ گئے۔
علی وارثی کہتے ہیں کہ تاریخ گواہ ہے کہ فسطائیت کا نظام برقرار رکھنا قریباً ناممکن ہے۔ آپ وقتی طور پر اس طرح کے ہتھکنڈے تو آزما سکتے ہیں لیکن جبر کا موسم زیادہ دیر چلتا نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ اب ہائبرڈ نظام اپنی آخری ہچکیاں لے رہا ہے اور اس نظام کے خالق بھی نوشتۂ دیوار پڑھ چکے ہیں۔ البتہ عمران ایک سیاستدان ہیں اور عوام میں اپنا ایک ووٹ بینک رکھتے ہیں۔ ان کو یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ آزاد میڈیا کے بغیر ان کی سیاست بھی خطرات سے دوچار ہے۔ عمران خان کو چاہیے اب بھی سمجھ جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
