ترک صدر سے شاہ محمود قریشی کی ملاقات

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں ‘مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کےلیے پاکستان کے موقف اور کوششوں کو ترکی سراہتا ہے’۔
دفتر خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی جو فلسطین کی ابتر صورتحال کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کروانے کےلیے ترکی کے سفارتی مشن پر ہیں، نے بدلے میں فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے معاملات پر رجب طیب اردووان کے ‘واضح موقف’ کی تعریف کی۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تمام بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کےلیے ملک کی ‘مستقل اور زبردست مدد’ کےلیے ترک صدر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ بیان کے مطابق ملاقات کے دوران شاہ محمود قریشی اور رجب طیب اردوان نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ شاہ محمود قریشی نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے رجب طیب اردووان کےلیے نیک خواہشات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اور پاکستانی قیادت کی ‘فکر و نظر میں مماثلت’ دو طرفہ تعلقات میں استحکام کی وجہ ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک صدر نے شاہ محمود قریشی کے دورے پر خوشی کا اظہار کیا اور ترک صدر نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ترکی اعلی سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل (ایچ ایل ایس سی سی) کے ساتویں اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل وزیر خارجہ نے اپنے ترک ہم منصب سے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت روکنے میں مدد کےلیے عالمی برادری کو متحرک کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ ‘اس ملاقات کے دوران اس بات کی تصدیق کی گئی کہ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری عائد ہے کہ وہ سنگین صورتحال سے نمٹنے، امن کی بحالی اور ایک منصفانہ حل کےلیے ضروری اقدامات کو یقینی بنائے’۔ شاہ محمود قریشی نے ترکی کے وزیر خارجہ کو قومی اسمبلی کی متفقہ طور پر منظور کردہ قرار داد سمیت فلسطینی عوام کی حمایت میں پاکستان میں موجود جذبات سے آگاہ کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں فریقین نے ایچ ایل ایس سی سی کے 7 ویں اجلاس کی جاری تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات کے بعد شاہ محمود قریشی نے ٹوئٹ کیا کہ ‘کوئی بھی چیز ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتی ہے کیونکہ ہم فلسطین کے عوام کے ساتھ حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام سمیت 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے کے ان کے جائز حقوق کے ساتھ کھڑے ہیں’۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی ،نہتے فلسطینیوں پر جاری مظالم کی طرف، عالمی برادری کی توجہ مبذول کروانے کیلئے بدھ کو ترکی سے نیویارک روانہ ہوگئے۔ فلسطین، سوڈان اور ترکی کے وزرائے خارجہ بھی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے ہمراہ نیو یارک روانہ ہوئے۔ نیو یارک میں وزیر خارجہ 20 مئی کو فلسطین کے حوالے سے منعقدہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیر خارجہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں، وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر، پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے، مظلوم فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کی روک تھام کےلیے بھرپور آواز بلند کریں گے۔ وزیر خارجہ نیویارک میں صدر جنرل اسمبلی سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں اور مقامی و بین الاقوامی میڈیا نمائندگان سے گفتگو کریں گے اور اہم علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بدھ کو ترکی میں ،نیویارک روانگی سے قبل فلسطینی ہم منصب ڈاکٹر ریاض المالکی کے ساتھ ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق بات چیت کے دوران فلسطین کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے اسرائیلی فوج کی جارحیت، مسجد اقصٰی پر حملوں اور فلسطینیوں کی جبراً بے دخلی کی شدید مذمت کرتے ہوئے، معصوم فلسطینیوں بالخصوص بچوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان، فلسطینی عوام کی اس حق خود ارادیت کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کےلیے پر عزم ہے۔ وزیر خارجہ نے فلسطینی ہم منصب کو عالمی برادری کی توجہ فلسطین میں جاری اسرائیلی فوج کی جارحیت کی طرف مبذول کروانے اور مسئلہ فلسطین کے پر امن حل کےلیے پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے آگاہ کیا۔
انہوں نے فلسطینی ہم منصب کو وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی قیادت کی جانب سے حق خود ارادیت کی اس جدوجہد میں مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا۔
