شاہ محمود نے سائفر کا ملبہ کپتان پر ڈال دیا

سائفر سازش کیس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد جہاں شاہ محمود قریشی اور عمران خان کو طویل قید کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔وہیں دوسری طرف تازہ اطلاعات کے مطابق شاہ محمود قریشی نے دوران تفتیش سائفر کیس کا سارا ملبہ عمران خان پر ڈالتے ہوئے خود کو معصوم قرار دے دیا ہے۔
واضح رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اسلام آباد میں ایک خصوصی عدالت قائم کر دی گئی ہے۔ جہاں تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی کیخلاف درج سائفر کیس کی ان کیمرہ سماعت ہوئی۔ جس کے بعد انہیں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔ روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ سائفر کیس کے حوالے سے شاہ محمود قریشی سے تفیش جاری ہے۔ دوران تفتیش شاہ محمود قریشی خود کوسائفر کے معاملے پر بے گناہ قرار دے رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام ممالک سے جو سائفر آتے ہیں۔ پالیسی کے مطابق ان سے وزیر اعظم کو مطلع کیا جاتا تھا۔ امریکہ سے آنے والا سائفر بھی وزیراعظم کے علم میں لایا گیا تھا۔ ۔جسے انہوں نے ہی منگوایا تھا۔ جس کے بعد سائفر انھیں ڈی کوڈ کر کے دیا گیا۔ اس سے زیادہ انہیں کچھ معلوم نہیں
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سائفر کے حوالے سے شاہ محمود قریشی خود کو بے گناہ کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل کے تحت سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کی مدعیت میں مقدمے کا اندراج ہو چکا ہے۔ جس میں انہیں حساس سفارتی دستاویز سائفر کو عام کرنے اور اسے سیاسی مفاد کیلئے اداروں کے خلاف استعمال کرنے کا ذمہ دارٹھہرایا گیا ہے۔ لیکن شاہ محمود قریشی نے دوران تفتیش بتایا ہےکہ ان کے خلاف یہ کیس بوگس ہے۔ وہ وزیر خارجہ ضرور تھے لیکن انہوں نے اس سائفر بارے روٹین کے مطابق وزیر اعظم پاکستان کو آگاہ کیا تھا۔ جسے انہوں نے منگوالیا۔ اس کے بعد ان کے اور اعظم خان کے مابین اس پر کیا گفتگو ہوئی۔ اس بارے میں انہیں معلوم نہیں۔ وہ سائفر دوبارہ ان کے پاس نہیں آیا۔ ذرائع نے بتایا کہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ در اصل امریکی سائفر ڈی کوڈ کر کے وزیر اعظم کو دیا گیا تھا۔ یہ الزام درست نہیں کہ انہوں نے سائفر کو توڑ مروڑ کر وزیر اعظم کو پیش کیا۔ جس طرح جو کچھ لکھا ہوا تھا۔ وہی کچھ وزیر اعظم کو پیش کیا گیا۔ اس میں ان کے یا کسی کے کہنے پر تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے تفتیش میں مزید کہا کہ گم شدہ سائفر کو تلاش کیا جائے ۔ اس سے حقائق واضح ہو جائیں گے۔ معلوم نہیں ہے کہ گمشدہ سائفر کہاں ہے اور کس کے پاس ہے۔ ان کا کام صرف یہ امانت وز یراعظم تک پہنچانا تھا۔ذرائع کے مطابق دوران تفتیش شاہ محمود قریشی کو سائفر بارے وزیر اعظم کی آڈیو کال بھی سنائی گئی۔جس پر ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ آڈیو کال سچی بھی ہے تو اس میں ان کی آواز موجود نہیں ہے۔ اس سوال پر کہ آیا ان پر کوئی دباؤ بھی ہے کہ وہ سلطانی گواہ بن جائیں۔ تاکہ ان کی اس مقدمے سے جان چھوٹ جائے۔ تو اس ذرائع نے کہا کہ ایف آئی کی تفتیش کا رخ سائفر کی برآمدگی پر زیادہ ہے اور انہی خطوط پرشاہ محمود قریشی سے تفتیش ہو رہی ہے۔ لیکن شاہ محمود بدستور یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم سائفر کہاں ہے اور کس کے پاس ہے۔ ان سے یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ سائنفر امریکی اخبار کو کس نے بھیجا۔ ابھی تک تفتیش انہیں نکات پر مرتکز ہے۔ ایک سوال پر ذرائع کا کہنا تھا کہ بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ شاه محمود قریشی سے کسی اور ادارے کے افراد بھی ملاقات کر رہے ہیں۔ بالکل غلط ہے۔ وہ اس وقت صرف ایف آئی اے کی کسٹڈی میں ہیں اور صرف ایف آئی اے حکام ہی ان سے تفتیش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ کی جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ انڈر سیکشن 5 اور 9 آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923ء ترمیم شدہ سیکشن 34PPC ہے جو بہت سنگین دفعات میں شمار ہوتی ہے۔ اور اس کا ٹرائل آرمی عدالتوں میں بھی چلایا جاسکتا ہے۔ اس میں سب سے اہم بات اعظم خان کا وہ بیان ہے جو انہوں نے ایف آئی اے اور مجسٹریٹ کے سامنے دیا کہ عمران خان نے یہ سائفر جو سیکرٹ ڈاکومنٹس ہوتا ہے، اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اور اس کے بعد یہ سیکرٹ ڈاکومنٹ انہوں اپنے پاس ہی رکھا۔ جب واپس مانگا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر واپس نہیں کیا کہ وہ ان سے گم ہوگیا ہے۔ ایکٹ میں شامل ترامیم آرمی چیف کو بھی مزید با اختیار کرتی ہے اور سابق فوجیوں کو سیاست میں شامل ہونے یا ایسے منصوبے شروع کرنے سے روکتی ہے جو فوج کے مفادات کے خلاف ہو سکتے ہوں۔ اس میں فوج کو بدنام کرنے پر قید کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔آرمی ایکٹ کے مطابق کوئی بھی فوجی اہلکار ریٹائرمنٹ، استعفے یا ملازمت سے برطرفی کے دو برس بعد تک کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا۔ اس حوالے سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ سائفر کیس میں آرمی کے مفادات کے خلاف کام کرنے والے بعض سابق اہلکار بھی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔
ایک جانب شاہ محمود قریشی ایف آئی اے کی تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں تو دوسری طرف تحریک انصاف کے صدر پرویز الٰہی اڈیالہ جیل میں قید ہیںاور کرپشن کیس میں نیب نے ان کا ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے دونوں سینئر رہنما اس وقت پارٹی کی قیادت سنبھالنے کیغرض سے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ بظاہر تو پرویز الہی نے شاہ محمود کی گرفتاری پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور انہیں تحریک انصاف کے ساتھکھڑے رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ تحریک انصاف کی قیادت سنبھالنے کی ڈیل کے انتظار میں ہیں۔
ادھر چوہدری پرویز الہی کے خاندانی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کئی بار کوشش کر چکے ہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تحریک انصاف چھوڑنے پر رضامند کر لیں۔ لیکن فی الحال اس میں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ انہوں نے شجاعت حسین کو اسٹبلشمنٹ کے لیے یہ پیغام بھی بھجوایا ہے کہ وہ تحریک انصاف کی قیادت سنبھالنے کے اہل ہیں اور وہ پی ٹی آئی کی قیادت سنبھال کر تحریک انصاف کو راہ راست پر لا سکتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ شاہ محمود قریشی ہیں۔ ذرائع کے بقول اگر اس سنگین کیس میں شاہ محمد قریشی کوسزا ہوجاتی ہے تو پھر پرویز الٰہی کے لیے راستہ صاف ہو جائے گا۔ سابق وزیر اعلیٰ کو امید ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کی ڈیل کامیاب ہو جائے گی۔ اسی لیے وہ خاموشی سے جیل کاٹ رہے ہیں۔
