طیارہ حادثہ: لواحقین نے میتوں کی شناخت بارے سوالات اٹھا دئیے

مئی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز(پی آئی اے) کے مسافر طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے خاندانوں نے جاں بحق افراد کی شناخت اور حکومت سندھ کی فرانزک لیبارٹری کی جانب سے ان کی باقیات میں غفلت پر سوال اٹھادیے ہیں۔لواحقین کے سوالات کے باعث جاں بحق افراد کی شناخت کے عمل کو سنگین شکوک میں ڈال دیا ہے۔
خیال رہے کہ 22 مئی کو ماڈل کالونی میں پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 آبادی پر گر کر تباہ ہونے کے نتیجے میں 99 مسافروں اور عملے کے افراد میں سے 97 جاں بحق ہوگئے تھے۔بعدازاں طیارہ حادثے کے باعث جھلسنے والی لڑکی بھی جاں بحق ہوگئی تھی۔انہوں نے کراچی یونیورسٹی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز (آئی سی سی بی ایس) کو مبینہ طور پر حساس اور انسانی مسئلے میں غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا جبکہ اسی کارکردگی اور ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج سے متعلق سنگین شکوک و شبہات پیدا کردیے۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرہ افراد کے خاندانوں نے وفاقی اور صوبائی حکام سے مداخلت کرنے اور مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اکثر میتوں کی تدفین کی جاچکی ہے لیکن ان کی شناخت پہلے سے موجود نمونوں کے ذریعے کی جاسکتی ہیں اور ان کی شناخت ٹھیک کی جاسکتی ہے تاکہ ان کے لواحقین کو کچھ سکون مل سکے۔عارف اقبال نے کہا کہ ‘ میں نے اس سانحے میں اپنے پوری خاندان (اہلیہ اور3 بچوں) کو کھودیا، کیا یہ کافی نہیں تھا کہ ہمیں شناخت کے ایک اور دباؤ میں ڈال دیا گیا ؟’۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کراچی یونیورسٹی کے نتائج پر سنگین شبہ ہے، لواحقین اداروں اور حکام کے درمیان عدم تعاون کے باعث ایک جگہ سے دوسری جگہ ذلت کا سامنا کرنے جارہے ہیں۔
اپنے دعووں کی حمایت میں انہوں نے بہت سی باتوں کا حوالہ دیا جن میں سے کئی خاندانوں کو ایک ہی میت وصول کرنے کے لیے آگاہ کیا گیا تھا۔انہوں نے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی جانب سے ہر مرتبہ تیز ردعمل سامنے آیا ہے۔عارف اقبال نے کہا کہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کو رسائی سے روک دیا گیا تھا اور انہیں ذمہ داری مکمل کیے بغیر واپسی پر مجبور کیا گیا جبکہ ہمیں صرف کراچی یونیورسٹی پر انحصار کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
دوسری جانب جامعہ کراچی کی سندھ فرانزک ڈی این اے اینڈ سیرولوجی لیبارٹری (ایس ایف ڈی ایل) نے مسافر طیارہ حادثے سے متعلق جمع کرائے گئے نمونوں کے فرانزک ڈی این اے کے لیے تمام بین الاقوامی معیار طے کیے ہیں۔لیبارٹری اپنے نتائج کو ٹیسٹ شدہ اشیا سے جوڑتی ہے جبکہ سیمپلنگ، کوڈنگ، ٹیگنگ اور میتوں کو قانونی ورثا کے حوالے کرنے کی ذمہ داری میڈیکو لیگل ڈیپارٹمنٹ کی ہے۔مذکورہ بیان جامعہ کراچی کے انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز (آئی سی سی بی ایس) کے ڈائریکٹر اور کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے ایس ایف ڈی ایل کے ایگزیکٹو اجلاس میں دیا۔اس موقع پر ایس ایف ڈی ایل کے انچارج ڈاکٹر اشتیاق احمد اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔انہوں نے نجی چینل کے ٹاک شو میں ڈی این اے ٹیسٹس کے کچھ نتائج سے متعلق لگائے گئے ‘ جھوٹے الزامات’ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ڈاکٹر اقبال چوہدری نے کہا کہ ‘بدقسمتی سے کچھ عناصر کی جانب سے صوبہ سندھ کی پہلی معیاری لیبارٹری کے طور پر ایس ایف ڈی ایل کی کوششوں کو متاثر کرنے کے لیے بدنیتی پر مبنی میڈیا مہم جاری ہے’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button