آئی ایس آئی اور آئی بی نے عمران کو چارج شیٹ کر دیا


پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اور سویلین خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور آئی بی نے عمران خان کو لانگ مارچ کے دوران سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے کا قصور وار قرار دیدیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹر سروسز انٹیلی جنس، انٹیلی جنس بیورو اور اسلام آباد پولیس نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر تیار کردہ اپنی اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے گذشتہ ماہ لانگ مارچ کے دوران اپنے حامیوں کو ڈی چوک تک پہنچنے کی ترغیب دے کر جان بوجھ کر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں آئی ایس آئی، آئی بی، آئی جی اسلام آباد، سیکریٹری داخلہ اور دیگر ایجنسیوں نے الگ الگ رپورٹیں تیار کیں جن میں یہ مشترکہ موقف اپنایا گیا ہے کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کی جانب سے جلسے کی مشروط اجازت ملنے کے بعد اپنے حامیوں کو اسلام آباد ڈی چوک پہنچنے کے لئے اکسایا اور صریحاً عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی تھی۔

انتیلی جنس رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو لانگ مارچ کے شرکا کو ڈی چوک پہنچنے کا اعلان کرنے سے قبل عدالت کی جانب سے لانگ مارچ کا مقام تبدیل کرکے ایچ نائن کرنے کے حکم سے آگاہ کردیا گیا تھا۔ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس میں عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے مختلف رہنماؤں کے بیانات بھی شامل کیے گے ہیں، تاکہ یہ شناخت کرنے میں مدد ملے کہ 25 مئی کو ہجوم کو ریڈ زون کی طرف جانے کے لئے کب اکسایا گیا تھا۔ عدالتی احکامات پر تیار ہونے والی رپورٹس میں عمران خان کی ایک ویڈیو تقریر کی بھی نشان دہی کی گئی یے جس میں وہ عدالتی احکامات کے باوجود اپنے کارکنان کو ڈی چوک میں پہنچنے کی کال دے رہے ہیں۔

ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان نے سرکاری ملازمین کو دھمکی دی کہ اگر مارچ کرنے والوں کے لئے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو انہیں سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ جس وقت 26 مئی کو عمران خان کی تقریر ختم ہوئی، اس وقت بھی تقریباً 4 سے 5 ہزار لوگ ریڈ زون میں داخل ہو رہے تھے۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بلیو ایریا میں 315 درخت جلائے اور تین درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک خاتون بھی شامل تھی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست کا فیصلہ سناتے ہوئے خفیہ اداروں کو پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے احکامات کی خلاف ورزی کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی، تاکہ فیصلہ کیا جا سکے کہ عمران خان نے توہین عدالت کی یا نہیں۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں سے ایک ممبر جسٹس یحییٰ آفریدی نے باقی چار ججوں سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے واضح طور پر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی جس کے ویڈیو ثبوت بھی موجود ہیں لہٰذا تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف فوری طور پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

Back to top button