آئی ایم ایف کا تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس واپس لینے پر اعتراض

اگلے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح میں کمی کے فیصلے پر آئی ایم ایف نے اعتراضات اٹھا دیے ہیں اور حکومت سے یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اعتراض کے بعد وفاقی حکومت آئی ایم ایف سے قرض کےمعاہدہ بچانے کے لیے ٹیکس سلیب میں تبدیلی واپس لینے پر غور کر رہی ہے تاہم ابھی تک اس پر حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے قومی اسمبلی میں زیر غور بجٹ کے حوالے سے چند امور پر بات چیت کی جا رہی ہے تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ کم آمدنی والے تنخواہ دار طبقے کو دیا گیا ریلیف برقرار رکھا جا سکے۔‘ لیکن اگر زیادہ دباؤ آیا تو پھر یہ ٹیکس ریلیف واپس لینا پڑ جائے گی۔ یاد رہے کہ کابینہ کی جانب سے منظور ہونے والے فنانس بل کے مطابق انکم ٹیکس کے سلیبز کی تعداد 12 سے کم کر کے سات کر دی گئی ہے اور تقریبا ًہر سلیب میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح کو کچھ کم کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے متعدد بار پوچھا کہ کیا وہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر ٹیکس سلیب کو پھر تبدیل کرنے جا رہے ہیں تو انہوں نے اس کا جواب دینے سے گریز کیا۔ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ بحال کرنا اور تقریباً ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کی شدت سے ضرورت ہے اور اس ہی مقصد کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرکے ایک ہفتے میں قیمتیں ساٹھ روپے تک بڑھائی گئی تھیں۔ بعد ازاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیسرا اضافہ بھی کردیا گیا لیکن آئی ایم ایف ابھی تک راضی نہیں ہو پایا۔ ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھائی جائیں گی اور آئی ایم ایف کے مطالبات مانتے ہوئے ٹیکس سلیب پر دوبارہ غور سمیت سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی ریزیڈنٹ چیف ایستھر پیریز رویز نے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستانی حکام سے بجٹ کے حوالے سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ٹیکسز اور اخراجات کے حوالے سے وضاحت حاصل ہو سکے اور مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ابتدائی تخمینہ یہ ہے کہ بجٹ کو مضبوط بنانے اور اسے پروگرام کے کلیدی مقاصد کے مطابق لانے کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔‘ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا عملہ اس سلسلے میں حکام کی کوششوں اور عمومی طور پر معاشی استحکام کو فروغ دینے کی پالیسیوں کے نفاذ میں تعاون جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کو پاکستانی تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس چھوٹ دینے سے کیا مسئلہ ہے؟ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی حکومت نے ٹیکس سلیب میں ترمیم کرکے تنخواہ دار طبقے کو جو ٹیکس میں چھوٹ دی ہے اس سے ملک کے جمع کردہ ٹیکس میں 47 ارب روپے کی متوقع کمی ہو گی۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف کا پاکستان سے مطالبہ تھا کہ پاکستان 12 ٹیکس سلیب کو کم کرکے سات کر دے اور اس ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے۔ تاہم حکومت نے ٹیکس سلیب کو تو سات کر دیا مگر ٹیکس کی شرح بڑھانے کے بجائے کم کر دی۔ گویا آئی ایم ایف کی آدھی بات مانی اور آدھی نہیں مانی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدام کی وجہ سے 47 ارب روپے کا آمدنی میں نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ ناصرف 47 ارب کی ٹیکس کمی کو ختم کیا جائے بلکہ مزید ٹیکس لگا کر آمدنی بڑھائی جائے۔ تاہم پاکستانی حکومت کی اب بھی خواہش ہے کہ ایک لاکھ سے دو لاکھ تک روپے آمدنی والے صارفین کا ریلیف برقرار رکھا جائے۔
پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے والے ادارے ایف بی آر کے سابق ممبر شاہد حسین اسد نے بتایا کہ تنخواہ سے حاصل ہونے والا ٹیکس تقریباً 250 سے 300 ارب روپے ہے اور اس میں تھوڑی کمی بیشی سے ملکی معیشت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، اس لیے آئی ایم ایف کو اس حوالے سے حکومت پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ عموماً مڈل کلاس یا کم آمدنی والا ہوتا ہے اور یہ ہمیشہ ٹیکس دیتا ہے اس لیے ان کو ریلیف دینا بنتا ہے۔ آئی ایم ایف والے تو ڈالرز اور پاؤنڈز کے حساب سے سوچتے ہیں اور ان کے خیال میں پاکستانیوں کی قوت خرید بھی اتنی ہی مضبوط ہے مگر ایسا نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف کے پاکستان سے تین مطالبے ہیں، ایک پیٹرول پر سبسڈی ختم کریں، دوسرا بجلی کی قیمت میں اضافہ کریں اور تیسرا ٹیکس سلیب کم کرکے ٹیکس بڑھائیں۔ معاہدے کے تحت پاکستان نے تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس میں 125 ارب کا اضافہ کرنا تھا مگر حکومت نے ٹیکس میں الٹا 47 ارب کا ریلیف دے دیا جس پر آئی ایم ایف کو اعتراض ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کو معیشت بچانے اور چلانے کے لئے ہر صورت میں آئی ایم ایف سے معاہدہ بحال کرنا ہے کیونکہ دوست ممالک اور دیگر مالیاتی اداروں کی مدد بھی اسی سے مشروط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتی منصوبہ ساز عالمی مالیاتی ادارے کی ہر بات ماننے پر مجبور ہیں۔
