آف شور کمپنیاں قانونی اجازت لے کر کھولیں

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آف شور کم کمپنیاں باقاعدہ قانونی اجازت لے کر کھولی گئیں جب کہ نہ ہی ان کمپنیوں کا کوئی بینک اکاؤنٹ کھولا اور نہ ہی کوئی ٹرانزیکشن ہوئی۔
پنڈورا پیپرز میں نام آنے کے حوالے سے وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ آف شور کمپنیاں تب کھلیں جب فواد ملک، یو اے ای کی ’طارق بن لادن‘ کمپنی کے لیے کام کرتے تھے اور انہوں نے سلک بینک میں سرمایہ کاری کے لیے باقاعدہ اجازت لی تھی۔
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ نہ ان کمپنیوں نے کوئی بینک اکاؤنٹس کھولا اور نہ ان سے کسی قسم کی کوئی ٹرانزیکشن ہوئی اور یہ آف شور کمپنیاں 2014ء اور 2015ء کے درمیان بند ہوگئی تھیں۔
