آمدن سے زائد اثاثوں کی کڑکی میں قائد اعظم بھی پھنس جاتے

وزیر اعظم عمران خان کے ہاتھوں میں کھیلنے والے قومی احتساب بیورو کی جانب سے آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے الزام میں خواجہ محمد آصف کی اچانک گرفتاری کے بعد نیب کو دوبارہ سے اس پرانے الزام کا سامنا ہے کہ اس ادارے کو کپتان کھلم کھلا اپنے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے اور سیاسی جوڑ توڑ کے لیے استعمال کر رہا ہے، لہذا جب کسی مخصوص ٹارگٹ کے خلاف کوئی کرپشن کیس نہیں بن پاتا تو اس کو آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنا کر گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ نیب کے سینئر افسران ان اس قانون کو ایک ایسی کڑکی قرار دیتے ہیں جس میں محمد علی جناح کو بھی پھنسا دیا جاتا تو وہ اپنی آمدن اور اثاثوں کا حساب دینے میں ناکام ہو جاتے۔ لہذا جب 1999 میں مشرف دور میں سیاسی انجینئرنگ کے لیے نیب کا ادارہ بنایا گیا تو یہ مبہم قانون بھی اسمیں شامل کر لیا گیا جسے آج دن تک سیاسی مخالفین کو ٹارگٹ کرنے کے لئے بڑی بے شرمی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔ بقول خواجہ آصف، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔ لیکن اب تو سپریم کورٹ بھی اپنے ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ نیب سیاسی جوڑ توڑ کے لیے بنایا گیا ادارہ ہے۔۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس ادارے کی حراست میں ایک درجن سے زائد لوگ اپنی جانیں ہار چکے ہیں اور دو سینئر سرکاری افسروں نے تو نیب حکام کی بد سلوکی سے تنگ آ کر سر میں فولی مار کر خود کشی بھی کرلی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ قومی احتساب بیورو آج دن تک آمدن سے زائد اثاثوں کی کڑکی میں پھنسنے والے کسی بھی سیاستدان کے خلاف اپنا کیس ثابت نہیں کر سکا۔ نیب حکام کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا کیس ثابت نہیں کر پائیں گے لیکن یہ ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت مطلوب ٹارگٹ کو لمبے عرصے تک ضمانت کے بغیر حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ بنیادی طور پر خواجہ آصف کی گرفتاری کا بھی یہی مقصد ہے کہ انکو قید میں ڈال کر ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کے لیے کی جانے والی انکی سیاسی سرگرمیاں معطل کردی جائیں۔ اس سے پہلے شہباز شریف کو بھی اسی وجہ سے نیب کی حراست میں دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ شہباز شریف اور خواجہ آصف دونوں کو نواز لیگ میں مفاہمتی بیانیے کا امین اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب خیال کیا جاتا تھا اور یہی دو لوگ اب نیب کی حراست میں ہیں جو کہ وزیراعظم عمران خان کے اشاروں پر چلتی ہے۔
نیب کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات اور ان کی وجہ سے مبینہ کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا ہے۔ نیب کے مطابق 1991 میں سرکاری عہدہ حاصل کرنے کے بعد سے خواجہ آصف کے اثاثہ جات پانچ ملین روپے سے بڑھ کر 2018 تک 221 ملین روپے ہو چکے تھے۔ نیب کا کہنا ہے کہ ‘خواجہ آصف یہ بتانے میں ناکام رہے کہ ان کی اثاثہ جات ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں۔’ نیب کے بیان کے مطابق خواجہ آصف کی طرف سے دی جانی والی یہ وضاحت مبینہ طور پر قابلِ قبول نہیں تھی کہ اس میں 130 ملین روپے انھیں اس نوکری سے تنخواہ کی مد میں ملے جو وہ متحدہ عرب امارات میں ایک کمپنی کے ساتھ کرتے رہے تھے۔ نیب کا کہنا ہے کہ اس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ کرپشن میں ملوث تھے۔
تاہم خواجہ آصف وہ پہلے سیاستدان یا سرکاری عہدیدار نہیں ہیں جو نیب کے قانون ’آمدن سے زائد اثاثہ جات‘ کی بنا پر کرپشن کے الزامات میں گرفتار ہوئے ہوں۔ حال ہی میں ان ہی کی جماعت کے کئی دیگر رہنما ان ہی الزامات میں گرفتار ہوئے۔ ان میں سے کچھ کے خلاف احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کیے گئے تاہم بہت سے مقدمات تاحال ریفرنس تک بھی نہیں پہنچ پائے۔ ایسے سیاستدانوں کے خلاف نیب اب تک آمدن سے زائد اثاثہ جات کے الزامات نہ تو عدالت میں ثابت کر پایا اور نہ ہی مبینہ کرپشن سے کمائی جانے والی رقم برآمد کر کے سرکاری خزانے میں ڈالی جا سکی۔
نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل راجہ عامر عباس کے مطابق سابق وزیرِاعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دی جانے والی سزا کے علاوہ کسی سرکاری عہدیدار یا سیاستدان کو تاحال اس قانون کے تحت سزا نہیں ہو پائی۔ نواز شریف کو بھی شاید اسی وجہ سے سزا ہوئی کے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ان کو اقتدار سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ لیکن قوی امکان یہنہے کہ جب بھی اس سزا کے خلاف نواز شریف کی اپیل پر فیصلہ ہوا، وہ بڑی ہو جائیں گے۔
سیاسی جماعتوں کی طرف سے نیب پر الزام ہے کہ وہ اثاثہ جات قانون کو حکومت کے سیاسی مخالفین کے خلاف جانبدارانہ کارروائی کے لیے استعمال کرتا ہے یا پھر اسے ‘غیر سیاسی قوتوں کی جانب سے سیاسی جوڑ توڑ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا دشمن کے حلقوں کا کہنا ہے کہ پچھلے دو برس سے قومی احتساب بیورو صرف وزیراعظم کی کمانڈ میں ہے اور انہی کے کہنے پر چلتا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر نیب اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر چل رہا ہوتا تو خواجہ محمد آصف کی گرفتاری ممکن نہیں تھی۔
تاہم نیب ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ سوال یہنیے کہ کیا واقعی ’آمدن سے زائد اثاثہ جات‘ کا قانون اتنا مبہم ہے کہ اسے سیاسی مخالفین یا غیر جمہوری قوتوں کی طرف سے سیاسی جوڑ توڑ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
کیا نیب گرفتسری دے پہلے ملزم کی طرف سے دی جانے والی وضاحت کی چھان بین کر کے یہ پتہ چلاتا ہے کہ اسکے پاس۔موجود رقم کہاں سے آئی اور کس نوعیت کی کرپشن کی گئی؟ اگر ایسا نہیں تو کسی سرکاری عہدیدار کے پاس ایسی رقم کی موجودگی پر یہ مان لینا درست ہو گا کہ وہ رقم اس نے لازماً کرپشن سے حاصل کی ہے؟ اس حوالے سے قانون کیا کہتا ہے؟ سوال۔یہ بھینہے لہ ان الزامات کو عدالت میں ثابت کرنا کتنا آسان یا مشکل ہوتا ہے اور ثابت کرنے سے پہلے ملزم کو گرفتار کیوں کر لیا جاتا ہے؟
ان تمام سوالوں کے جوابات جاننے سے پہلے ’آمدن سے زائد اثاثہ جات‘ کے قانون پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ سابق پراسیکیوٹر جنرل نیب راجہ عامر عباس کے مطابق اس قانون کی گرفت میں کوئی بھی سرکاری عہدہ رکھنے والا شخص، اس کے بچے اور اس کے بے نامی اکاؤنٹ آتے ہیں۔
‘سادہ الفاظ میں قانون یہ ہے کہ اگر ایسے کسی عہدیدار کے اثاثہ جات اس کی آمدن سے زیادہ ہیں جس کے ذرائع معلوم نہیں تو یہ مان لیا جاتا ہے کہ اس نے یہ رقم کرپشن سے حاصل کی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق اپنے ذرائع آمدن کو ثابت کرنے کی ذمہ داری ملزم پر عائد ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کے اثاثہ جات ایک کروڑ روپے کے ہیں جبکہ اس کی آمدن کے ذرائع سے ملنے والی رقم 60 لاکھ ہے تو باقی کے 40 لاکھ کن ذرائع سے آئے اسے ان کی وضاحت کرنا ہوتی ہے۔ اگر وہ وضاحت نہیں دے سکتا تو قانون کے مطابق یہ مان لیا جائے گا کہ اس نے یہ رقم کرپشن سے کمائی ہے۔
سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ نیب کے قانون میں ذرائع آمدن کی وضاحت کے ساتھ ایک لفظ ڈالا گیا یعنی ’ریزن ایبل‘ یا موزوں وضاحت۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص کے اثاثے ایک کروڑ روپے ہیں لیکن ان میں سے 30 لاکھ روپے کے ذرائع معلوم نہیں ہیں اور ملزم تقریباً 28 سے 29 لاکھ کی وضاحت دے دیتا ہے تو اسے موزوں تصور کیا جائے گا۔ ’اگر یہ لفظ نہ ہو تو اگر وہ دس روپے کی وضاحت نہیں دے پایئے تو بھی اسے وہی سزا ملے گی جو زیادہ سے زیادہ 14 برس قید اور 10 سال کے لیے سرکاری عہدے سے نا اہلی ہے۔‘
یہاں سوال ییدا ہوتا ہے کہ کیا نیب ملزم کی طرف سے دی جانے والی وضاحت کی چھان بین کرتا ہے؟ خواجہ آصف کے مقدمے میں نیب نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ سابق وزیرِ دفاع کی جانب سے دی جانے والی متحدہ عرب امارات کی کمپنی میں نوکری والی وضاحت مبینہ طور پر غیر تسلی بخش تھی۔ نیب کے مطابق ’جس دور میں وہ وہاں ملازمت ظاہر کر رہے ہیں ان دنوں میں وہ پاکستان میں موجود تھے۔‘ نیب نے مزید الزام عائد کیا کہ خواجہ آصف نے یہ نوکری محض منی لانڈرنگ کے لیے ظاہر کی تھی۔ سابق اٹارنی جنرل اور نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر کے مطابق نیب کو عدالت میں اس کی وضاحت کرنا ہو گی۔
تاہم ان کا کہنا تھا یونکہ نیب کے قانون میں بارِ ثبوت ملزم پر ہوتا ہے تو اسکے خلاف ریفرنس میں یہ نکتہ ڈال دیا جاتا ہے کہ اس کی وضاحت مبینہ طور پر غلط ہے اور پھر عدالت پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ اس پر فیصلہ کرے۔ ’عدالت میں اس نکتے پر دونوں اطراف کے وکیل جوڑ توڑ میں لگے رہتے ہیں اور مقدمہ التوا میں چلا جاتا ہے۔‘
تو پھر سوال بنتا ہے کہ کیا ایسی صورت میں ملزم کو گرفتار کرنا درست ہے؟ اس سوال پر سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ ملزم کو اس وقت تک گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے جب تک اس پر جرم ثابت نہیں ہو جاتا لیکن نیب اسے پہلے ہی گرفتار کر لیتا ہے۔ ’اس سے نیب کی طرف سے سیاسی جوڑ توڑ کا تاثر قائم ہوتا ہے اور اب تو پاکستان کی عدالتِ عظمٰی نے بھی نیب کے حوالے سے سیاسی جوڑ توڑ کا لفظ استعمال کیا ہے۔‘ عرفان قادر کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت میں اس قانون کو ختم ہونا چاہیے اور اس کے تحت درج مقدمات بھی ختم ہونے چاہییں کیونکہ اس میں نہ تو کوئی زیادہ برآمدگیاں ہوئی ہیں اور اس قدر ابہام موجود ہیں کہ اس سے بے گناہ کو سزا مل سکتی ہے۔
عرفان قادر کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس قانون کے تحت کئی بے گناہ لوگوں کو بھی سزائیں دی گئی ہیں۔ ایک مثال دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایک خاتون کو نیب نے گرفتار کر لیا تھا جبکہ انھیں ملنے والا اثاثہ ان کے شوہر کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا۔ ’اب اگر آپ کو ایک چیز تحفے میں دی گئی ہے تو اس میں آپ کا قصور تو نہیں ہے اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے کرپشن کی ہے۔ اس خاتوں کے والد میرے پاس آئے کہ نیب نے اسے اور اس کے سرکاری افسر شوہر کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے میرے پاس رہ گئے ہیں۔‘ عرفان قادر کے مطابق اس قانون پر عملدرآمد کے حوالے سے کئی ابہام موجود ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ کرپشن کے ثبوت نہ ہونے کے باوجود کسی کو اس لیے مجرم تصور کر لیا جاتا ہے کہ وہ وضاحت نہیں دے پایا۔
لہذا اس قانون پر لازمی نظر ثانی ہونی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button