آٹا بحران منصوبہ بندی سے پیدا کیا گیا، حکومتی لوگ بھی ملوث

وزیراعظم کو حالیہ آٹا بحران کے حوالے سے بھجوائی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں سات حکومتی سیاسی شخصیات سمیت گیارہ اعلی افسران، 47 سرکاری اہلکاروں اور 16 تاجروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ یہ ثابت ہونے کے بعد کہ آٹا بحران باقاعدہ منصوبہ بندی سے پیدا کیا گیا، کرپشن پر زیرو ٹالرنس کا دعوی کرنے والے کپتان کیا اس تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں سات اہم سیاسی شخصیات اور اعلی افسران سمیت دیگر ذمہ داران کے خلاف مؤثر کاروائی کریں گے یا پھر یہ رپورٹ بھی ماضی کی رپورٹوں کی طرح ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جائے گی۔
حالیہ دنوں ملک بھر میں آٹے کے شدید بحران کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کی سربراہی میں اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ پتہ چلایا جائے کہ یہ بحران کس کی نا اہلی کی وجہ سے پیدا ہوا اور اس سے کس کس نے فائدہ اٹھایا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ تحقیقاتی کمیٹی نے اس حوالے سے رپورٹ مرتب کرنے کے بعد وزیراعظم کو بھجوا دی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آٹا بحران باقاعدہ منصوبہ بندی سے پیدا کیا گیا، اس میں 11اعلی افسر، 47 سرکاری اہلکار، 7 سیاسی شخصیات اور 16 بڑے تاجر ملوث ہیں۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بحران میں حکومتی اور اتحادی جماعت سے تعلق رکھنے والے کئی افراد ملوث ہیں۔ سیاسی شخصیات اور اعلی افسران کی ملی بھگت سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران کئی لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کی گئی اور بڑی مقدار میں گندم بیرون ملک بھی بھجوائی گئی۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2019 میں گندم مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہوگئی اور سیاستدانوں اور صنعتکاروں کی ملی بھگت سے لاہور کی فلورملز کا کوٹہ کم کرکے راولپنڈی کی ملوں کا کوٹہ بڑھا دیا گیا۔ پنجاب میں گندم کی کمی کے بعد 1550 فی من فروخت ہونے والی گندم 1950 روپے تک پہنچ گئی۔ چکی مالکان کو صاف گندم 2100 روپے فی من ملنا شروع ہوئی تو انہوں نے چکی آٹے کی فی کلو قیمت 70 روپے کردی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبہ بندی کے ساتھ آٹے کا بحران پیدا کیا گیا جبکہ سیاسی قیادت اور اعلی افسران کی جانب سے مسلسل حقائق کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے محکمہ خوراک کے سیکرٹری، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز نے بھی اپنا کردار درست طریقے سے ادا نہیں کیا اور سب اچھا کی رپورٹ دیتے رہے۔
آٹا بحران کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات میں یہ حقیقت بھی سامنے آچکی ہے کہ محکمہ خوراک پر سیاسی دباؤ تھا اور سات سیاسی شخصیات بھی اس بحران کی ذمہ دار ہیں۔ لہذا اب اب سیاسی اور سماجی حلقوں میں یہ سوال پوچھا جارہا ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کرپشن پر زیرو ٹالرنس کا عملی ثبوت دیتے ھوئے حکومتی اور اتحادی سیاست دانوں سے بازپرس کریں گے یا پھر یہ معاملہ بھی مٹی پاؤ پالیسی کی نظر ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button