ہمارے گھر میں ایک دوسرے کے مذہب پر بات نہیں کی جاتی

بھارتی اداکار و سپر اسٹار شارخ خان کا ایک ریئلٹی شو کے دوران اپنے خاندان کے مذہب سے متعلق کہنا تھا کہ ہمارے خاندان میں ایک دوسرے کے مذہب پر بات نہیں کی جاتی۔ کبھی ہندو اور مسلمان ہونے کے معاملے کو زیر بحث نہیں لایا گیا۔ میری بیوی ہندو ہیں اور میں مسلمان اور جب کہ میرے بچے ہندوستانی ہیں۔ شاہ رخ خان نے کہا کہ اسکول میں کئی بار فارم پر مذہب کا خانہ فل کرنا پڑتا ہے۔ جب میرے بچے مجھ سے آکر پوچھتے ہیں کہ ہمارا مذہب کیا ہے تو میں انہیں ایک ہی بات کہتا ہوں کہ ہم ہندوستانی ہیں۔
واضح رہے بھارت میں متنازعہ شہریت کے بل پاس کیا گیا تھا جس کے بعد بہت سے اداکاروں نے اس کی مخالف کی تھی تاہم امید کی جا رہی تھی کہ مسلمان ہونے کے ناطے بھارتی میں مسلمانوں کے خلاف پاس ہونے والے قانون پر بیان جاری کریں گے اور مسلمانوں کی حمایت کریں گے تاہم انہوں نے کہا کہ ہمارے خاندان میں ہندو یا مسلمان ہونے پر کبھی بات نہیں ہوئی ہم سب مسلمان ہیں۔
واضح رہے کہ نہ صرف اداکار بلکہ دنیا بھر کی اہم شخصیات نے مسلمان مخالف قانون کی مخالفت کی تھی۔ یہ بات بھی قابل غور رہے بنگلادیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بھارت کا شہریت قانون غیر ضروری قرار دے دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سمجھ میں نہیں آیا کہ بھارتی حکومت نے ایسا کیوں کیا؟ لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، مودی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ این آر سی سے بنگلادیشی لوگ متاثر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کا شہریت قانون غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ میں نہیں آیا کہ بھارتی حکومت نے ایسا کیوں کیا؟ شہریت قانون سے بھارت میں بسنے والے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button