آ ٹھویں تا بارہویں کے طلبہ کو پہلے بلانے کی تجویز

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ اسکولوں میں آ ٹھویں تا بارہویں کے طلبہ کو پہلے بلانے کی تجویز ہے، پھر چھٹی تا آٹھویں کے بچوں کو بلایا جائے گا، کوشش ہے کہ تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولا جائے، محرم میں کورونا کی صورت حال کا 7 ستمبر کے اجلاس میں جائزہ لیں گے۔ انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ہفتے میں کورونا سے متعلق تمام انڈیکیٹرز کو دیکھیں گے ،کیسزکی تعداد کود یکھا جائے گا، اسی لیے 15ستمبر رکھا تھا،تاکہ محرم کو بھی دیکھ لیں گے۔
7 ستمبر کو میٹنگ ہوگی جس میں ساری چیزوں کودیکھا جائے گا۔ اس میں پہلی چیز محرم الحرام میں کیسز کو دیکھا جائے گا، اسکول کھولنے کےلیے سب سے مقدس چیز بچوں کی صحت ہے، ہمیں وزارت صحت جو بھی ہدایت دے گی اس پر عملدرآمد کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں ایس اوپیز پر عمل کروانا ضروری کام ہے، ایک تجویز ہے کہ اسکولوں میں کلاسوں کے بچو ں کو دو حصوں میں تقسیم کرلیا جائے۔
ایک حصے کو ایک دن بلایا جائے آدھی کلاس کو دوسرے دن بلایا جائے۔ پھر ماسک پہننا یقینی بنانا ہے، ماسک ضروری نہیں بازار سے خریدا جائے ، کپڑے کا ماسک بھی پہنا جاسکتا ہے۔ روز اس کو واش بھی کیا جاسکتا ہے۔ ایس اوپیز پر عمل کروانے کی ذمہ داری اساتذہ پر ہے، اساتذہ کو ایس اوپیز کی تربیت دی جائے گی۔ اسکولوں میں کیسز کی تعداد کو نوٹ کرنے کےلیے ٹیسٹنگ کےلیے ٹریکنگ بھی کریں گے۔
اگر کسی اسکول میں کوئی مسئلہ آیا، یا علاقے میں مسئلہ ہو، وہ بند کردیا جائے گا۔ بچوں کی پڑھائی کا پہلے کافی نقصان ہوچکا ہے۔ لیکن سب سے اہم بچوں کی صحت ہے۔ کوشش ہے کہ مرحلہ وار تعلیمی اداروں کو کھولا جائے۔ جامعات کو تو فوری کھول دیں گے۔ اسکولوں کے بارے تجویز ہے کہ پہلے کلاس ہشتم سے بارہویں تک طلبہ کو بلایا جائے، پھر چھٹی کلاس سے آٹھویں تک طلبہ کو اسکول آنے کی اجازت دی جائے۔ جب کہ چھوٹے بچوں کو بعد میں بلایا جائے لیکن یہ بڑی حیرانی والی بات ہے کہ وزارت صحت کی تجویز ہے کہ چھوٹے بچوں کو پہلے بلایا جائے۔ کیوں کہ چھوٹے بچوں میں متاثر ہونے کی شرح سب سے کم ہے لیکن عمومی رائے یہی ہے کہ پہلے بڑے بچوں کو بلایا جائے۔
