اب صرف ٹوئیٹر صارفین ہی ایک دوسرے کے ٹوئیٹس پڑھ سکیں گے

اب ٹوئیٹر اکائونٹ نہ رکھنے والے افراد ٹوئیٹر صارفین کے ٹوئیٹس نہیں پڑھ سکیں گے، اس کے لیے افراد کو پہلے ٹوئیٹر پر اپنا کائونٹ بنانا پڑے گا جس کے بعد ان کو دیگر صارفین کے ٹوئیٹس پڑھنے کی اجازت مل سکے گی۔
ٹوئٹر انتظامیہ کے اس حالیہ اقدام کو سماجی رابطے کے اس مقبول پلیٹ فارم کے مالک ایلون مسک نے ’عارضی ہنگامی اقدام‘ قرار دیتے ہوئے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ ٹوئٹر کا ڈیٹا اس حد تک چوری کیا جا رہا تھا کہ عام صارفین کے لیے ٹوئٹر سروس تنزلی کا شکار ہو کر رہ گئی تھی۔
ٹوئٹر کی جانب سے اعلان کردہ اس نئی مگر عارضی ہنگامی اقدام کے بعد اس پلیٹ فارم پر مواد دیکھنے کی کوشش کرنے والے صارفین سے ان کے پسندیدہ ٹوئیٹس دیکھنے کے لیے کسی اکاؤنٹ سے سائن اپ کرنے یا پھر باہر نکلنے والے اکاؤنٹ سے دوبارہ لاگ ان ہونے کا کہا جائے گا۔
ایلون مسک کے مطابق سینکڑوں یا اس سے بھی زائد تنظیمیں ٹوئٹر کے ڈیٹا کو ’انتہائی جارحانہ انداز میں‘ اس طرح کھرچ رہی تھیں کہ ٹوئٹر صارفین کا تجربہ متاثر ہو رہا ہے۔
مسک اس سے قبل مصنوعی ذہانت کی اوپن اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی جیسی کمپنیوں کیخلاف بھی ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں، جو ان کے مطابق ٹوئٹر کے ڈیٹا کو اپنے وسیع لسانی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
’ہم بالکل ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے جنہوں نے ہمارا ڈیٹا چوری کیا اور انہیں عدالت میں دیکھنے کے منتظر ہیں، جو کہ اب سے 2 سے 3 سال بعد ممکن ہوگا۔
مائیکروسوفٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ستیہ نڈیلا کو مئی میں لکھے گئے ایک خط میں، ایلون مسک کے وکیل الیکس اسپیرو نے ونڈوز ڈویلپر پر سوشل میڈیا کمپنی کا ڈیٹا استعمال کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ٹیک کمپنی سے ٹوئٹر ڈیٹا کے استعمال کا آڈٹ کرنے کو کہا۔
کمپنی نے مسک کی ملکیت میں پلیٹ فارم چھوڑنے والے مشتہرین کو واپس لانے اور تصدیقی چیک مارکس کو ٹوئٹر بلیو پروگرام کا حصہ بنا کر سبسکرپشن ریونیو بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔
رواں مہینے کے آغاز میں، ٹوئٹر نے ڈیجیٹل اشتہارات سے ہٹ کر سوشل میڈیا کمپنی کے کاروبار کو زندہ کرنے کے لیے ویڈیو، تخلیق کار اور تجارتی شراکت داری پر توجہ مرکوز کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔
اپنے ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) تک رسائی کے لیے ٹوئٹر پہلے ہی تھرڈ پارٹی ایپس اور محققین سے معاوضہ طلب کرنے کا آغاز کرچکا ہے۔
دریں اثنا چیف ٹوئیٹ نے سماجی پلیٹ فارم ٹوئٹر نے ٹوئٹ پڑھنے کے لیے عارضی طور پر حد مقرر کر دی ہے، نئی پالیسی کے اعلان کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے پلیٹ فارم کے ڈیٹا کے استعمال کو روکنا ہے۔
ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک نے اپنی ٹوئٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ بلیو ٹک صارفین ایک دن میں 10 ہزار ٹوئٹس پڑھ سکیں گے، غیر تصدیق شدہ اکاؤنٹس رکھنے والے صارفین ایک دن میں ایک ہزار ٹوئٹس پڑھ سکیں گے جبکہ ٹوئٹر پر آنے والے نئے صارفین کے لیے ٹوئٹ پڑھنے کی حد صرف 500 ٹوئٹس ہوگی۔
ایلون مسک کے اعلان کے بعد امریکا میں ’ٹوئٹر گُڈ بائے‘ ٹاپ ٹرینڈنگ پر رہا تاہم ٹوئٹر کے ارب پتی مالک نے اس حوالے سے معلومات ظاہر نہیں کیں کہ یہ پالیسی کتنے روز کے لیے لاگو ہوگی اور کون سے ادارے ڈیٹا چوری کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ٹوئٹر واحد سوشل میڈیا پلیٹ فارم نہیں ہے جسے اے آئی سیکٹر کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے، گزشتہ ماہ سوشل نیوز پلیٹ فارم ’ریڈٹ‘ نے تھرڈ پارٹی ڈیولپرز پر عائد فیس میں اضافہ کیا تھا۔
