بابراعظم ٹیم میں سرفراز کو پہلی چوائس کیوں بنانا چاہتے ہیں؟

کرکٹ حلقوں میں کافی عرصہ سے سرفراز احمد اور محمد رضوان کے انتخاب کی بحث چل رہی ہے، دونوں کی ہی پرفارمنس قابل تعریف ہے، لیکن وکٹ کے پیچھے ایک ہی کیپر موجود ہوتا ہے، اس حوالے سے بابراعظم کا کہنا ہے کہ سرفراز نے پہلی سیریز اچھی کھیلی، کوشش کروں گا کہ وہ پہلی چوائس بنیں۔
پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں جب سے محمد رضوان نے بطور وکٹ کیپر بیٹسمین اچھی کارکردگی دکھا کر اپنی جگہ بنائی، تب سے ہی سرفراز احمد کی ٹیم میں واپسی کا سوال ہر اس موقع پر اُٹھتا ہے جب کوئی ٹیسٹ سیریز آتی ہے۔
ایک ایسا ہی موقع پھر سے آیا کیوںکہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹیسٹ سیریز راوں ماہ کے وسط سے شروع ہونے والی ہے، ایسے میں جب کپتان بابراعظم جمعرات کو پریس کانفرنس کے لیے پہنچے تو ان سے ایک صحافی نے سرفراز کا سوال پھر سے کر دیا۔نیشنل سٹیڈیم کراچی میں ہونے والی پریس کانفرنس میں مختلف سوالات کے جواب کے دوران بابراعظم سے پوچھا گیا کہ رضوان اور سرفراز کے درمیان ان کی پہلی چوائس کیا ہو گی اور کیا وہ سرفراز کو ایک بیٹسمین کے طور پر لیں گے؟ اس سوال کے جواب میں پہلے تو بابراعظم نے جوابا سوال اٹھا دیا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ بطور بیسٹمین کھیل سکتے ہیں؟
اس پر صحافی نے دوبارہ پوچھا کہ آپ کی چوائس کیا ہے جس پر بابراعظم نے کہا کہ چوائس کا ابھی بتانا قبل از وقت ہے تاہم انھوں(سرفراز) نے پچھلی سیریز بہت اچھی کھیلی، میری کوشش ہوگی کہ میری پہلی چوائس وہی ہوں گے لیکن کوشش کریں گے کہ وہاں جا کر دیکھیں کہ کس کمبینیشن کے ساتھ کھیلیں گے، ہماری بیٹنگ لائن کیا ہوگی؟ تاہم کوشش ہوگی کہ بیسٹ کمبینیشن کے ساتھ کھیلیں۔
2019 میں سرفراز احمد کی جگہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی پہلے اظہرعلی اور پھر بابراعظم کو سونپی گئی جس کے بعد سے وہ بطور ریزرو یا متبادل کیپر ٹیم کے ساتھ موجود رہے، اسی دوران پاکستان کو وکٹ کیپر کی صورت میں محمد رضوان مل گئے جنھوں نے تینوں ہی فارمیٹس میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔سرفراز احمد نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ایک سنچری بنائی لیکن پھر سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں وہ کم سکور پر آؤٹ ہوتے رہے جب نیوزی لینڈ کی ٹیم گذشتہ برس کے اختتام پر پاکستان آئی تو سرفراز احمد کو موقع دیا گیا اور پھر انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں انھوں نے دونوں اننگز میں نصف سنچریاں سکور کیں، جبکہ دوسرے ٹیسٹ میچ میں انھوں نے ایک اننگز میں نصف سنچری اور دوسری اننگز میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر پہلی سنچری سکور کر ڈالی۔
محمد رضوان نے اب تک پاکستان کے 27 ٹیسٹ میچوں میں 38 کی اوسط سے 1373 رنز بنائے ہیں جس میں دو سنچریاں اور سات نصف سنچریاں شامل ہیں، دوسری جانب سے سرفراز نے پاکستان کے لیے 51 ٹیسٹ میچوں میں 38 کی ہی اوسط سے 2992 رنز بنائے ہیں جس میں چار سنچریاں اور 27 نصف سنچریاں شامل ہیں۔بابر اعظم کا کہنا تھا میرا ماننا ہے کہ جو بیسٹ الیون ہو اس کے ساتھ کھیلا جائے اور موقع اور صورتحال کے مطابق دیکھا جاتا ہے کہ کیا سوٹ کرتا ہے، سرفراز احمد اور محمد رضوان دونوں پاکستان کے لیے بہت اہم ہیں،
اس حوالے سے بحث سوشل میڈیا پر بھی کافی گرم ہے، بہت سے صارف بابر اعظم کے دفاع میں بھی سامنے آ گئے، ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا ’کلاسک بلیم گیم کی حکمت عملی۔ چلیں پوری ٹیم کی کارکردگی کو آسانی سے بھول جائیں اور ساری ذمہ داری کپتان پر ڈال دیں۔خیال رہے کہ گذشتہ برس اظہر علی کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے پاکستان کا بیٹنگ آرڈر تاحال مکمل طور پر مستحکم نہیں ہے، ایسے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ٹیم مینجمنٹ کے نزدیک رضوان بطور ٹیم میں کھیل سکتے ہیں یا نہیں، تاہم شان مسعود کو جنوری میں تین میچوں کی ون ڈے سیریز کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا اور بابراعظم کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ ہم کسی انفرادی کھلاڑی کے بارے میں بات نہیں کر سکتے چاہے وہ نائب کپتان ہو یا کوئی اور ہم نے اپنی بہترین پلیئنگ الیون کھلانی ہے اور سیریز جیتنے کی کوشش کرنی ہے۔
