احسان اللہ احسان فوجی اہلکاروں کی ملی بھگت سے فرار ہوا

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پہلی مرتبہ ان خبروں کی تصدیق کی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فوج کی تحویل سے فرار میں چد فوجی اہلکار ملوث تھے جن کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا رہی ہے۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل افتخار بابر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کارروائی بارے پیش رفت جلد میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ انہوں نے یہ باتیں 24 فروری کو راولپنڈی میں غیر ملکی میڈیا نمائندگان سے ملاقات میں کیں۔
یاد رہے کہ تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے فروری 2020 میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان فوجی تحویل سے فرار ہو کر بیرون ملک جانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس دعوے کے چھ ماہ بعد اگست 2020 میں میجر جنرل بابر افتخار نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ احسان اللہ احسان کو ایک آپریشن میں استعمال کیا جا رہا تھا کہ اس دوران وہ فرار ہو گئے۔ انہوں نے احسان اللہ احسان کی جانب سے جاری کردہ آڈیو ٹیپ کو بھی جھوٹا قرار دیا تھا۔ تاہم ہم اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ احسان اللہ نے اپنی آڈیو ٹیپ میں جو باتیں کی تھیں وہ سچ تھیں اور اس کی آڈیو ٹیپ بھی جعلی نہیں تھی۔
دوسری طرف گذشتہ دنوں احسان اللہ احسان کے نام سے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ملالہ یوسف زئی کے خلاف دھمکی آمیز ٹویٹ کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ وہ اکاؤنٹ احسان اللہ احسان کا اصلی اکاؤنٹ ہے اور اس حوالے سے ان کے پاس مزید کوئی معلومات نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ احسان اللہ احسان اس وقت کہاں ہیں اس بات کا علم نہیں ہے۔ تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر کی لاعلمی کا ثبوت یہ ہے کہ احسان اللہ احسان چند روز پہلے بی بی سی سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کر چکا ہے کہ ملالہ کو دھمکی آمیز پیغام اس نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ سے بھیجا تھا جس کو بعد میں ٹویٹر کی انتظامیہ نے معطل کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری لینے والے احسان اللہ احسان نے جنوری 2020 میں پشاور کے ایک سیف ہاوس سے فوج کی حراست سے فرار ہونے کے بعد فروری کے مہینے میں ایک آڈیو ٹیپ جاری کی تھی جس میں اس نے اپنے فرار کی تفصیل بتائی تھی۔ اس نے دعوی کیا تھا کہ وہ پاک فوج کے ہاتھوں گرفتار نہیں ہوا تھا بلکہ اس نے 2017 میں رضاکارانہ طور پر خود کو انٹیلی جنس اداروں کے حوالے کیاتھا۔ آڈیو پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ اس نے تین برسوں تک اس معاہدے کی پاسداری کی لیکن سکیورٹی اداروں نے اسے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیوی بچوں سمیت قید کر لیا تھا۔
احسان نے دعویٰ کیا کہ ’ان تین برسوں میں پاکستانی فوج نے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور معاہدے کی خلاف ورزی کی‘ جس کے بعد وہ ’اپنی رہائی کے منصوبے پر کام کرنے کے لیے مجبور ہوا۔ دو منٹ طویل اس آڈیو پیغام کے مطابق احسان اللہ احسان مبینہ طور پر 11 جنوری 2020 کو بھاگنے میں کامیاب ہوا۔
بعد ازاں احسان اللہ احسان نے ایک اور آڈیو ٹیپ جاری کی جس میں اس نے یہ الزام عائد کیا کہ اس کو فوج کی حراست کے دوران اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ ایک ڈیتھ سکواڈ تشکیل دے اور ان لوگوں کا خاتمہ کرے جن کے نام اس کو دی گئی ایک لسٹ میں موجود تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو قتل کیا جانا تھا ان میں پاکستان کے چند سینئر صحافیوں کے نام بھی شامل تھے۔ تاہم احسان اللہ احسان نے دعوی کیا کہ اس نے یہ کام کرنے سے معذرت کر لی تھی جس کے بعد اس کے سکیورٹی اداروں سے اختلافات پیدا ہوگئے تھے جسکے بعد اس نے سیف ہاوس سے بھاگ جانے کا فیصلہ کیا۔
احسان اللہ احسان نے اپنے فرار کی جو تفصیل بتائی وہ ہوشربا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے فرار ہونے کے لئے اپنے موبائل فون سے اوبر ٹیکسی سروس کو کال کی اور پھر سیف ہاوس کے پچھلے دروازے سے اپنے خاندان سمیت فرار ہو گیا۔
احسان اللہ احسان نے اپنی اس آڈیو ٹیپ میں اور کیا کہا؟ پیغام سننے کیلئے نیچے دئیے گئے لنک پر کلک کریں
