اداکارہ متھیرا فیمنزم پر یقین کیوں نہیں رکھتیں؟

ماڈل و اداکارہ متھیرا نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بالکل بھی فیمنزم پر یقین نہیں رکھتی ہیں اور نہ ہی فیمنسٹ ہیں، شوبز میں آنے سے قبل سیلز گرل کی نوکری کی، خدا میرے بہترین دوست ہیں۔اداکارہ نے احمد علی بٹ کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلز کی نوکری میں ماہانہ 10 ہزار روپے تنخواہ ملتی تھی لیکن ایک دن ان کے باس کے دوست ان کے دفتر آئے، جنہوں نے اپنے دوست کو مجھے ٹی وی چینل کے ایک دوست کے پاس بھیجنے کا مشورہ دیا۔متھیرا کا کہنا تھا کہ وہ باس کے دوست کے مشورے پر ان کے دوست سے ملنے گئیں جو اس وقت نجی میوزک چینل ’وائب‘ کو چلاتے تھے، میں نے یوگا کرنے کی آفر کی تو مان گئے اور انہیں اگلے دن سے ہی چینل پر آکر کام کرنے کا کہا، انہیں ٹی وی چینل پر ماہانہ 25 ہزار تنخواہ دی جانے لگی جب کہ ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی دی گئی جو ان کے لیے عیاشی تھی لیکن مختصر لباس میں یوگا کرنے پر ان کو کافی تنقید بھی برداشت کرنا پڑی۔متھیرا کے مطابق ایسے ہی کام کرتے ایک دن انہیں لکس اسٹائل ایوارڈز میں شرکت کی دعوت دی گئی، جہاں وہ زیر جامہ اور ٹی شرٹ میں چلی گئیں اور انہیں دیکھ کر سب دنگ رہ گئے، تب انہیں کسی نے آکر مہنگے برانڈ کا لباس دیا اور انہیں پہننے کی تجویز دی۔اُن کے مطابق جب کم عمری میں ان کی شادی طلاق پر ختم ہوئی تو انہیں وہم ہوگیا کہ ان کے ہونٹ خراب ہیں، جس وجہ سے انہیں ہونٹوں کو مصنوعی طریقے سے بڑا کروانے کی عادت پڑگئی، انہوں نے خواتین کو تجویز دی کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ ان کے جسم کا کوئی حصہ صحیح نہیں تو وہ اس وہم کو دور کرنے کے لیے پلاسٹک سرجری کا سہارا نہ لیں بلکہ اس وہم کو دور کرنے کے لیے روحانی طریقے تلاش کریں۔متھیرا کے مطابق کام کے بدلے جنسی تعلقات کا رجحان شوبز کے علاوہ میڈیکل، سیاست اور میڈیا سمیت ہر شعبے میں موجود ہے، لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی طرح کاسٹنگ کاؤچ کا نشانہ نہ بنیں، اگر انہیں کام ملنا ہوگا تو وہ ویسے بھی مل جائے گا لیکن کام کے بدلے جنسی تعلقات سے انہیں کام نہیں ملے گا۔فیمنزم سے متعلق پوچھے گئے سوال پر متھیرا کا کہنا تھا کہ وہ اس پر یقین نہیں رکھتیں اور نہ ہی خود کو فیمنسٹ سمجھتی ہیں، مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں، وہ تب ہی مکمل بنتے ہیں جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں، عورت کی زندگی میں مرد کا ہونا اس کے لیے سہولت کا سبب ہوتا ہے، اس پر شکرانے ادا کرنے چاہئے، وہ تنہا ماں ہیں، انہیں معلوم ہے کہ کما کر بچوں کو کھلانا کتنا مشکل ہوتا ہے لیکن اگر کوئی مرد ہوتا تو انہیں سپورٹ مل جاتی اور ہر اس عورت کو شکر کرنا چاہئے جس کی زندگی میں مرد ہے۔
