انسانی جسم بغیر مشقت تھکاوٹ کا شکار کیوں رہتا ہے؟

بعض افراد روزمرہ زندگی میں جسمانی یا ذہنی مشقت نہ ہونے پر اکثر تھکاوٹ کا شکار رہتے ہیں، اور ان میں یہ احساس بڑی شدت سے پایا جاتا ہے، اس حوالے سے ’’ہیک اسپرٹ‘‘ میگزین میں شائع ایک رپورٹ میں ان عادات کا ذکر کیا گیا ہے جن کے باعث دائمی تھکاوٹ کا احساس غالب رہتا ہے۔انسانی جسم کی ضروریات کے لیے اگرگاڑی کی مثال دی جائے تو بے جا نہ ہوگا، جس طرح گاڑی کو رواں رکھنے کے لیے پیٹرول کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح اگر صبح بیدار ہونے کے بعد ناشتہ نہ کیا جائے تو خون میں شوگر لیول گرجاتا ہے جس سے جسم میں تھکاوٹ کے اثار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔اگرکوئی شخص دن بھر کافی کے متعدد کپ پینے کا عادی ہے تو اس صورت میں یہ اس کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث ہو سکتا ہے اگرچہ کافی فوری طور پر جسم کو طاقت بخشتی ہے، تاہم یہ توانائی عارضی ہوتی ہے۔ دوسرا کپ لینے پر جسم کو تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔یومیہ بنیاد پرجسم کی توانائی بحال رکھنے اور دوران خون کی روانی اور اینڈروفین کی مقدار کو مناسب رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ورزش کی عادت کو اپنایا جائے، خواہ دن میں 15 منٹ ہی کیوں نہ چہل قدمی کریں۔انسانی جس ایک کلاک کی مانند کام کرتا ہے جو کہ 24 گھنٹے کے مطابق سیٹ ہوتا ہے۔ یہ گھڑی نیند اوربیداری کے درمیان وقفے کا تعین کرتی ہے۔ رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے آپ کا جسمانی نظام بگڑ جاتا ہے جو تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔موجودہ دور میں جب کہ انسان روزمرہ کے معمولات میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اسے کام، گھر اوراہل خانہ کی مصروفیات کی وجہ سے اپنے لیے وقت نکالنا دشوار ہوجاتا ہے، یہ حقیقت ہے کہ خود پرتوجہ دینا جسم کی اہم ضرورت ہے، یہ کوئی عیاشی نہیں۔ انسانی جسم کو ضرورت کے مطابق آرام بھی درکار ہوتا ہے تاکہ وہ جسمانی نظام کو راحت پہنچا سکے۔میٹھا کھانے سے جسم کو فوری توانائی کا احساس تو ہوتا ہے مگر اس کی کثرت جسمانی صحت کےلیے مضر ہوتی ہے اس لیے بہتر ہے کہ کثرت سے میٹھا کھانے سے اجتناب برتیں۔موجودہ ڈیجیٹل دور میں بیشترافراد دن کا بیشترحصہ بیٹھ کرگزارتے ہیں۔ ان کا کام کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پرہوتا ہے۔ جسمانی مشقت زیادہ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ان کا جسم کسل مندی کا شکار ہونے لگتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض افراد اوقات تناو کی کیفیت کا شکار ہوتے ہیں، تناو سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ حالات اور پریشر کو لمبے عرصے کے لیے خود پر مسلط نہ ہونے دیں، پریشانی کو زندگی کا معمول سمجھیں ہرلمحہ ایک ہی فکر میں مبتلا نہ رہیں کیونکہ مستقل ایک ہی فکر میں پریشان رہنے سے تھکاوٹ اورجسمانی توانائی میں گراوٹ محسوس ہوتی ہے، فکروں کو مثبت رخ دیں، ورزش کی عادت کو اپنائیں اورسوچ کو بہتر کرنے کے لیے اچھے مشغلوں میں خود کو مصروف کریں تاکہ توجہ بٹ سکے۔
