اداکار علی رحمان نے ٹرولنگ کو ذہن کیلئے منفی قرار دیدیا؟

اداکار علی رحمان نے کہا ہے کہ ڈرامے ہوں یا فلم ناظرین نئی کہانیاں دیکھنا پسند کرتے ہیں، ہمیں آہستہ آہستہ اب ٹرینڈ کو تبدیل کرنا چاہئے، یہ کہنا غلط ہے کہ لوگ ایسی کہانیاں نہیں دیکھیں گے کیونکہ یہ جدت کا دورہ ہے ابھی تو ہمیں اور مختلف کہانیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ جیو ڈیجیٹل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں اداکار علی رحمان نے ٹی وی سکرین پر مختلف کہانیوں کے بڑھتے رحجان پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو کہانیوں کے درمیان جب کوئی الگ کہانی آتی ہے تو ناظرین اسے دیکھنا پسند کرتے ہیں، یہ کہنا بلکل غلط ہے کہ لوگ ایسی کہانیاں نہیں دیکھیں گے، یہ ٹیلی ویژن کی کہانیوں میں جدت کا دور ہے ابھی تو ہمیں اور مختلف کہانیاں دیکھنے کو ملیں گی۔اداکار نے مستقبل کے پروجیکٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی ہر پل جیو کے ڈرامے ’منت مراد‘ میں نظر آئیں گے جس کے ہدایتکار وجاہت حسین ہیں اور جلد ہی ان کی ایک کامیڈی فلم بھی آنے والی ہے جس میں وہ ایک ولن کے منفی کردار میں دکھائی دیں گے، اس سوال پر کہ اکثر اداکار سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں رہتے ہیں، پاکستان میں بیوٹی سٹینڈرز کو برقرار رکھنے کی جدوجہد ان کی ذہنی صحت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے؟ اس پر علی رحمان نے جواب دیا کہ’ہم نے خوبصورتی کے پیمانے مقرر کر رکھے ہیں جب کہ حقیقی خوبصورتی تو انسان کے اندر ہوتی ہے، سوشل میڈیا ٹرولنگ ہر شخص کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے، کسی کی تعریف کریں گے یا برائی کریں گے تو لازماً اس کا اثر ہوگا، اسی طرح لوگوں کی کہی باتوں کا بہت اثر پڑتا ہے، سوشل میڈیا پر مسلسل فیڈ بیک ملتا ہے، بہتر ہے کہ انسان کی شخصیت کی تعریف کریں نہ کہ اس کی ظاہری شکل و صورت پر تنقید کرنا شروع کر دیں۔علی رحمان نے حال ہی میں ایک خواجہ سرا کا کردار بھی نبھایا ہے، اداکار نے اس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب سے انہوں نے یہ کردار کیا ہے ان کے دل میں خواجہ سراؤں کے لیے عزت اور بڑھ گئی ہے کیونکہ ہر روز ایک ایسے معاشرے میں باہر نکلنا جہاں ہر دوسرا شخص آپ کا مذاق اڑاتا ہے، جملے کستا ہے بڑی بہادری کی بات ہے، ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اکثر لوگ ان کی آنکھوں کی تعریف کرتے ہیں، علی رحمان کئی ڈراموں میں اداکاری کرچکے ہیں جبکہ 2022 میں وہ جیو فلمز کے بینر تلے ریلیز ہونے والی فلم ’پردے میں رہنے دو‘ میں ہانیہ عامر کے ساتھ نظر آئے تھے
