اسرائیلی مظالم پر پاکستانی مذہبی عناصر خاموش کیوں؟

فلسطینیوں پر ہونے والی اسرائیلی بمباری اور دیگر کارروائیوں کے نتیجے میں بچوں سمیت سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے باوجود پاکستان میں کسی بھی مذہبی تنظیم نے ماضی کے برعکس ابھی تک کوئی اسرایئل مخالف بڑا مظاہرہ نہیں کیا جس پر مذہبی تنظیموں کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ ہماری مذہبی تنظیموں کا یہ رویہ ایران اور سعودی عرب کی مخاصمت کی وجہ سے بھی ہے جو کہ پاکستانی مذہبی جماعتوں کو فنڈنگ کرتے ہیں۔ جبکہ کچھ ناقدین کے خیال میں ہماری مذہبی تنظیموں نے کبھی بھی فلسطین کو اتنی اہمیت نہیں دی جتنی انہوں نے افغانستان اور کشمیر کو دی ہے کیونکہ وہاں جا کر جہاد کیا جائے یا انکے لیے یہاں رہ کر مظاہرے کیے جائیں، دونوں صورتوں میں پیسے اور دیگر فوائد ملتے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان پر 2001 کے امریکی حملے کے بعد پاکستان کے طول و عرض پر مذہبی تنظیموں نے بڑے بڑے جلوس اور ریلیاں نکالی تھیں جبکہ کئی شہروں میں بڑے بڑے جلسے بھی کیے تھے۔ اسی طرح مسئلہ کشمیر پر بھی مذہبی تنظیموں کے بڑے اجتماعات اور احتجاجی مارچ ہوتے ہیں۔ تاہم مسئلہ فلسطین پر اس طرح کا کوئی بڑا پروگرام دیکھنے میں نہیں آیا۔ ناقدین کے خیال میں اس کی ایک بہت بڑی وجہ تاریخی بھی ہے۔ تاریخی طور پر پی ایل او میں شامل تنظیمیں سیکولر رہی ہیں اور ان کا رجحان سوشلسٹ بلاک کی طرف تھا جب کہ پاکستان کی ریاست اور اس کی مذہبی تنظیمیں سرد جنگ کے دوران امریکا کی اتحادی رہیں اور افغانستان میں جہاد کیا لہازا پاکستانی مذہبی تنظیموں کی قیادت میں میں فلسطینیوں کے لیے وہ جذبات نہیں پائے جاتے جو کشمیر اور افغانستان کے جہادیوں کےلیے پائے جاتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر خالد جاوید جان کا کہنا ہے کہ پاکستانی مذہبی جماعتوں اور تنظیموں نے کبھی بھی فلسطین کی آزادی کی پرجوش حمایت نہیں کی۔ انہوں نے بتایا کہ صرف پاکستان کی مذہبی تنظیمیں نہیں بلکہ مصر کی اخوان المسلمین اور مسلم دنیا کی دوسری اسلامی تنظیمیں بھی فلسطینی سیکولر اور ترقی پسند تنظیموں کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ جو آزادی کے لیے لڑ رہی تھی۔ یہاں تک کہ جب صابرہ اور شتیلا کا واقعہ ہوا اس وقت بھی پاکستان میں مذہبی تنظیموں نے فلسطینیوں کے لیے کوئی بڑا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت میں مذہبی تنظیموں کے رویے کا تعلق فرقہ وارانہ سیاست سے بھی ہے۔ پاکستان کی مذہبی تنظیموں کو پتہ ہے کہ سعودی عرب فلسطین کے مسئلے کا اتنا پرجوش حامی نہیں ہے اور خصوصا پہلی خلیجی جنگ کے بعد زیادہ تر عرب ممالک نے فلسطینی مسئلے کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا تھا کیونکہ فلسطینیوں نے صدام حسین کی حمایت کی تھی۔ اس کے بعد سے ایران نے اس مسئلے کو ہائی جیک کر لیا۔ اس لیے پاکستان کی مذہبی تنظیمیں خصوصا سنی مذہبی تنظیمیں اس مسئلہ پر زیادہ پرجوش نظر نہیں آتیں۔
اس معاملے پر تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر پاکستان میں ہمیشہ بائیں بازو کی قوتوں نے فلسطین کی آزادی کی حمایت کی جبکہ مذہبی تنظیموں کا رویہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی طرف مخالفانہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں جماعت اسلامی اور دوسری مذہبی تنظیمیں جارج حباش اور یاسر عرفات کو ہمیشہ سیکولر اور لادینی سمجھتی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات کے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ مثالی تعلقات تھے۔ دوسری جانب بھٹو کی حکومت ختم کرنے والے مذہبی رجعت پسند جنرل ضیاء نے 1970 میں اردن میں فلسطینیوں کا قتل عام کیا تھا۔ اسی طرح جب صابرہ اور شتیلہ میں اسرائیل کے ایجنٹ فلسطینیوں کا قتل عام کر رہے تھے تو پاکستان کی مذہبی تنظیمیں امریکا کے ساتھ مل کر نجیب اللہ کی حکومت کے خلاف افغانستان میں نام نہاد امریکی جہاد لڑ رہی تھی، اور سب جانتے ہیں کہ اس جہاد کو اسرائیل کی بھی حمایت حاصل تھی۔‘‘
اس معاملے پر سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سنی تنظیمیں اس وقت فلسطین کے مسئلے پر اس لیے بھر پور انداز میں نہیں بول رہیں کیونکہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات بہتری کی طرف جارہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں سنی تنظیمیں فلسطین کے حق میں کیوں کھل کے بولیں گی کیونکہ انہیں یہ اندازہ ہے کہ اس مسئلہ کو مسلم دنیا میں اب ایران نے ہائی جیک کرلیا ہے۔
تاہم پاکستانی مذہبی تنظیمیں اس تاثر کو رد کرتی ہیں۔ خارجہ امور پر مولانا فضل الرحمن کے مشیر اور جے یو آئی ایف کے رہنما جلال الدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین پر آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے بتایا، کہ کرونا اور رمضان کی وجہ سے ہم نے اب تک کوئی بڑا جلسہ نہیں کیا گو کہ چھوٹے جلسے جلوس ہو رہے ہیں لیکن اب مولانا فضل الرحمن پشاور میں ایک بہت بڑے جلسے سے خطاب کریں گے جو مسئلہ فلسطین پر ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ اس مسئلے پر آواز اٹھائی ہے۔ اس سوال پر کہ اسرائیل کی طرف سے کارروائیاں کئی دنوں سے جاری ہیں اور یہ کہ جے یو آئی ایف نے ابھی تک مظاہرہ کیوں نہیں کیا جلال الدین نے کہا، "فلسطین میں یہ گڑبڑ اس وقت تک چلتی رہے گی جب تک فلسطین آزاد نہیں ہو جاتا یہ کوئی وقتی معاملہ نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ رمضان اور کورونا کی وجہ سے لوگوں کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں جس کی وجہ سے جلسہ جلوس کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘
جماعت اسلامی پاکستان سے وابستہ امیر العظیم بھی اس تاثر کو رد کرتے ہیں کہ پاکستان میں مذہبی تنظیموں نے فلسطینیوں کے مسئلے کو بھر پور انداز میں نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی تنظیمیں بھی اس مسئلے پر بھر پور انداز میں احتجاج کررہی ہیں اور جماعت اسلامی نے تو فلسطینیوں کے حق میں۔کئی مظاہرے کیے ہیں لیکن یہ اور بات ہے کہ کرونا کی وجہ سے ان مظاہروں میں شرکاء کی تعداد بہت کم رہی۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر دیکھا نہیں جا سکتا۔ انکے مطابق آپ دیکھیں کہ حماس والوں کا تعلق شیعہ مکتب فکر سے نہیں ہے لیکن ان کو ایران کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ مسلم دنیا میں بھی عوام کی ایک بڑی تعداد فلسطینیوں کے ساتھ ہے۔ تو میرے خیال میں اس مسئلے کا فرقہ وارانہ پہلو نہیں ہے اور پاکستان میں بھی مذہبی تنظیمیں اسے فرقہ وارانہ نظر سے نہیں دیکھتی۔‘
