اسرائیل پر پاکستان کے اصولی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی

دفتر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی آئی اور پاکستان اسرائیل کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ اجلاس کے ایجنڈے میں مسئلہ کشمیر کے نہ ہونے کے بارے میں غیر ذمے دارانہ افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، یہ مسئلہ او آئی سی ایجنڈے کا مستقل موضوع ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ جھوٹا بھارتی پراپیگنڈا اور غلط معلومات پھیلانے کی مہم کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ تنظیم کئی دہائیوں سے متعدد سمٹ کے ذریعے اور وزرائے خارجہ کے کونسل کی قراردادوں کے ذریعے اس مسئلے کو اٹھارہی ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام کے بعد او آئی سی اس معاملے پر سرگرم رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جموں وکشمیر کے او آئی سی رابطہ گروپ نے گزشتہ 15 مہینوں میں تین بار ملاقات کی ہے اور اس کی آخری نشست رواں سال جون میں وزرائے خارجہ کی سطح پر ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہہ اس اجلاس میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غیرقانونی کارروائیوں کو بند کرے اور غیرقانونی طور پر مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو روکے۔ان کا کہنا تھا کہ نائیجر میں وزرائے خارجہ کا کونسل 5 اگست 2019 کے بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیوں کے بعد اس طرح کی پہلی نشست ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘توقع کی جارہی ہے کہ سیشن مسئلہ کشمیر پر اپنی بھر پور حمایت کا اعادہ کرے گا’۔زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ ‘میں اس بات کی تصدیق کروں گا کہ جموں وکشمیر تنازع او آئی سی کے ایجنڈے میں طویل عرصے سے ایک موضوع رہا ہے’۔متحدہ عرب امارات کی ویزا پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور ہم اس سلسلے میں باقاعدگی سے رابطے میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں کہ ویزا معطلی کے اقدام کے پیچھے سیکیورٹی وجوہات تھیں۔ ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ زیر غور نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس قسم کی افواہیں موصول ہوئی ہیں کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے والا ہے لیکن پاکستان کے اصولی موقف میں کوئی تبدلی نہیں آئی۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان واضح کر چکے ہیں کہ جب تک فلسطینی آباد کاری ایسا حل پیش نہیں کیا جاتا جس پر فلسطینی عوام بھی مطمئن ہوں، پاکستان اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کی قراردادوں کے مطابق دوریاستی حل ضروری ہے جس میں 1967 سے پہلے کے اصول کے مطابق قائم ہوں اور ایک آزاد فلسطینی ریاست ہو جس کا دارالحکوت القدس شریف ہو۔
