اسلام آباد میں انتہاپسندی کا لاوا کیوں امڈنے لگا؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ ہم دُنیا سے بھلے بات کریں نہ کریں خود سے تو سوال کر سکتے ہیں، اس وقت ہمیں بحیثیت ریاست خود سے مذاکرات اور بات چیت کی ضرورت ہے۔ اب جبکہ انتہا پسندی کا لاوا اسلام آباد کے سینے میں امڈ رہا ہے تو ہم افغانستان میں امن کی ضمانت کیسے دے سکتے ہیں؟ ہمارے غیر محفوظ شہر بیرونی خطرے کو کیسے ٹال سکتے ہیں اور ہمارے اندرکی تقسیم ہمیں ففتھ یا سسکتھ جنریشن وار فیئر سے کیسے بچا سکتی ہے۔ پوچھنا تو یہ بھی چاہیے کہ ہم کس کس کی جنگ کب کب لڑیں گے اور یہ کہ ماضی کی غلطیاں کب تک دُہراتے رہیں گے؟ اب بھی نہ سوچا تو کب سوچیں گے۔ اب نہیں تو کبھی نہیں۔
بی بی سی کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ اسلام آباد میں گذشتہ چند دنوں کے واقعات اور راولپنڈی میں عین میچ کے آغاز سے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم کا پاکستان چھوڑ جانا محض ہزیمت نہیں بلکہ کروڑوں باسیوں کے لیے مایوس کن بھی تھا۔ ابھی یہ غم مٹا نہ تھا کہ برطانوی کرکٹ ٹیم کا ’مصدقہ انکار‘ سامنے آ گیا۔ کرکٹ وطن لوٹ رہی تھی اور قوم ایک واحد تفریح کی منتظر تھی مگر یکایک منظر نامہ بدل گیا۔ اسّی ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی قوم وضاحتیں پیش کرتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ امن کے لیے قربانیاں دینے کے باوجود دنیا آخر پہچانتی کیوں نہیں۔ عاصمہ کے مطابق کرکٹ ہمارے خون میں ہے اور اس کھیل کے لیے ہماری رگوں میں بہنے والا خون سبز رنگ کا۔ یہ محض کھیل نہیں بلکہ وہ جذبہ ہے جو پاکستان کو اکائی بنا دیتا ہے۔ اسی لیے دشمن کا یہ حملہ دراصل پوری قوم پر نفسیاتی حربہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہزاروں جانوں کی قربانی کے باوجود دنیا کو یہ باور کروانے میں ناکام ہیں کہ ہم پر مسلط ہونے والی دہشت گردی کی جنگ نے قیمتی جانیں تو چھینی ہیں، ہمارے خواب بھی چھین لیے ہیں۔
عاصمہ کے مطابق ٹی وی پر ایک نوجوان میچ منسوخ ہو جانے کے بعد بات کر رہا تھا کہ کس طرح اُس نے میچ کے لیے ٹکٹ خریدا اور کتنی دیر سفر کر کے راولپنڈی سٹیڈیم پہنچا اور معلوم ہوا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم بھاگ گئی۔ کیا۔ماضی میں کبھی ایسا بھی ہوا ہے؟ لیکن سوال یہنیے کہ ایسا کیوں ہوا؟ کس نے کیا؟ ایسی کون سی دھمکی تھی اور کس نے دی تھی؟ عوام ششدر، حکمران حیران، تماشائی پریشان کہ الٰہی ماجرا کیا ہے؟ یہ کیسا کھیل تھا جسے منسوخ کرنے سے پہلے تماشائیوں کے سٹیڈیم تک آنے کا، پچ کے بچھائے جانے اور سیٹی بجائے جانے کا بھی انتظار کیا گیا تاکہ پاکستان کی دگنی ہزیمت ہو۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کی بات اندازوں اور تخمینوں سے بہت آگے کی ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ دُنیا ہمیں کیسے دیکھ رہی ہے، دُکھ اس بات کا ہے کہ ہم نے اپنی قربانیوں کو دُنیا کے سامنے پیش کیسے کیا ہے۔
دُنیا ہماری قربانیوں کو ڈالر میں تولتی رہی اور ہم لاشیں اُٹھاتے رہے۔ یہی نہیں بار بار زخم کھانے کے باوجود ایک بار پھر تحریک طالبان کو معاف کرنے کو تیار ہیں جبکہ وہاں سے جواب اب بھی یہی ہے کہ معافی مانگیں تو کیوں؟ دُنیا ہم سے خوش نہیں اور ہم دُنیا سے ناراض۔ ایک طرف امریکہ پاکستان کو آنکھیں دکھا رہا ہے تو دوسری جانب ہم چین سے آنکھیں چُرا رہے ہیں۔ افغانستان کی کابینہ ہم نے بنائی یا نہیں بنائی لیکن ’حقانی قبیلہ‘ ایسا گلے پڑا ہے کہ ایران اور روس جیسے ہمسائے بھی تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
عاصمہ سوال کرتی ہیں کہ آخر کوئی بتائے کہ ہماری خارجہ پالیسی ہے کیا اور اسخے اہداف کیا ہیں؟ انکا کہنا یے کہ اس بارے کسی کو کوئی خاص معلومات نہیں مگر ایک بات ظاہر ہے کہ ہمارا جھکاؤ امریکہ کی جانب ہے اور امریکہ کا انڈیا کی جانب۔وہ کہتی ہیں کہ امریکی اعلیٰ عہدیدار پاکستان سے تعلقات کو ’نئی شرائط‘ پر دوبارہ مرتب کرنا چاہتے ہیں تو دوسری جانب مفکر افراد اور مؤقر اخبار ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان کو ’فکس‘ کرنے کا چرچا کر رہے ہیں اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ’ایبسولوٹلی ناٹ‘ پر ہی اترا رہے ہیں۔ ایسے میں وقت اور حالات ملک کو کہاں لے جائیں گے اس بارے میں خود حکومتی اہلکار بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ کمزور معیشت، بظاہر ناکام خارجہ پالیسی اور اندرونی جھگڑے کسی طور حالات کی سنگینی تو سمجھا رہے ہیں مگر نوشتہ دیوار کون پڑھے کیونکہ ہائبرڈ نظام حکومت میں یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ملک چلانے کی ذمہ داری حکومت کی ہے یا اسے اقتدار میں لانے والی اسٹیبلشمنٹ کی؟
