اسلام آباد نے ہمیشہ کی طرح بلوچستان کو اکیلا چھوڑ دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بلوچستان میں شدید برفباری کے بعد ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں خاطر خواہ مدد نہ کرنے پر وفاقی حکومت کو چارج شیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد نے ہمیشہ کی طرح بلوچستان کو مشکل وقت میں اکیلا چھوڑ دیا حالانکہ ہم وفاق کے اتحادی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ بلوچستان کبھی بھی عمران خان کی دلچسپی کا مرکز نہیں رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران حالیہ برف باری اور اس سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے کیا۔ جام کمال کا کہنا تھا کہ وفاقی سیکریٹری برائے توانائی، چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی، چیئرمین ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر سمیت تمام حکام اور محکموں نے مشکل میں گھرے بلوچستان کو مکمل نظر انداز کیا جبکہ انہیں ایسی صورت حال میں فوری طور پر بلوچستان پہنچنا چاہیے تھا کیوںکہ صوبہ بارش اور برفباری کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔
جام کمال نے شکوہ کیا کہ وفاق اور وزیر اعظم نے ثابت کر دیا کہ ان کے دعووں کے برعکس سچ یہ ہے کہ بلوچستان کبھی ان کی دلچسپی کا مرکز نہیں رہا۔ وزیر اعلیٰ جام کمال نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اتھارٹی نے بند ہائی ویز کو کلیئر کرنے کی اپنی ذمے داری بھی ابھی تک پوری نہیں کی جس سے لوگوں شدید دشواریوں کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور اس کے محکمے اپنے وسائل کو برائے کار لا کر ہائی ویز کو بحال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قدرتی آفت کا ایک یا دو محکمے مقابلہ نہیں کر سکتے کیوںکہ ان آفات پر مشترکہ کوشش کے ذریعے سے قابو پایا جاسکتا ہے۔
جام کمال کا کہنا تھا کہ ملک کے سب سے نظرانداز صوبے کی قدرتی آفت کے دوران مدد کرنے کے بجائے وفاقی حکومت نے اسے اکیلا چھوڑ دیا جس سے صوبے کے عوام کو منفی تاثر ملا ہے۔ خیال رہے کہ بلوچستان کے سات اضلاع میں 11 اور 12 جنوری کو شدید برف باری کے نتیجے میں مختلف حادثات و واقعات میں 20 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ برف باری کے باعث جہاں دیگر علاقوں میں نقصانات ہوئے، وہیں ضلع مستونگ میں بھی متعدد لوگوں کے مکانات گرگئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button