گورنر کے بعد سٹیٹ بنک کا ڈپٹی گورنر بھی آئی ایم ایف سے آ گیا

تبدیلی سرکار نے ملکی معیشت کو مکمل طور پرآئی ایم ایف کے پاس گروی رکھتے ہوئے سٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر کے بعد ڈپٹی گورنر بھی آئی ایم ایف سے امپورٹ کرلیا ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کے ملازم سید مرتضیٰ سید کو ساڑھے اٹھارہ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک تعینات کر دیا ہے جس کے بعد آئی ایم ایف کی پاکستان کی معیشت پر گرفت مزید مضبوط تر ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ فیصلے کپتان حکومت کر رہی ہے جس نے الیکشن سے پہلے عوام سے انتخابی جلسوں میں وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکالیں گے۔
فنانس ڈویژن کی جانب سے 20 جنوری کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سید مرتضیٰ کو تین سال کے لیے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کیا گیا ہے جو فوری طور پر عہدے کا چارچ سنبھالیں گے۔ سید مرتضیٰ سید کی تعیناتی تین سال کیلئے 18 لاکھ 60 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر عمل میں لائی گئی۔ 2004 سے مرتضیٰ سید عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے محکمہ اسٹریٹیجی، پالیسی اینڈ ریویو ڈیپارٹمنٹ میں بطور ڈپٹی ڈویژن چیف فرائض سر انجام دے رہے تھے۔
آئی ایم ایف کی ویب سائٹ کے مطابق مرتضیٰ سید ڈپٹی ریذیڈنٹ نمائندہ آئی ایم ایف برائے چین بھی رہ چکے ہیں جبکہ کولمبیا، کوریا اور جاپان سمیت متعدد یورپی ممالک میں بھی آئی ایم ایف کے مختلف پروجیکٹس سے منسلک رہے ہیں۔ مرتضیٰ سید آئی ایم ایف سے قبل لندن کے فسکل اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ اور اسلام آباد کے ہیومن ڈویلپمنٹ سینٹر میں کام کر رہے تھے۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
مرتضیٰ سید سے قبل وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے مصر میں تعینات افسر رضا باقر کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر تعینات کردیا تھا۔ رضا باقر آئی ایم ایف کے ساتھ مختلف ممالک میں کام کرتے رہے ہیں۔ مئی 2019 میں ، ڈاکٹر رضا باقر نے صدر عارف علوی کی جانب سے گورنر مقرر کرنے کے بعد بطورگورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان چارج سنبھالا تھا۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر کے پاس انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ آئی ایم ایف کے ساتھ 18 سال اور ورلڈ بینک کے ساتھ دو سال کا تجربہ ہے۔ پاکستان کے موجودہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ بھی ورلڈ بینک سے وابستہ رہ چکے ہیں۔
سید مرتضیٰ سید کی بطور گورنر سٹیت بنک تعیناتی کی منظوری گورنر سٹیٹ بینک کی تجویز پر 14 جنوری 2020 کے روز وفاقی کابینہ کی جانب سے دی گئی تھی۔ سید مرتضیٰ کی تعیناتی سے اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنرز کی تعداد دو ہو گئی ہے۔ اس وقت جمیل احمد سٹیٹ بنک میں بطور ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان کی تقرری اکتوبر 2018 میں عمل میں لائی گئی تھی قبل ازایں وی سٹیٹ بنک میں بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کام کر رہے تھے۔
دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے آئی ایم ایف سے وابستہ رہنے والے گورنر کے بعد ڈپٹی گورنر کی تعیناتی کے حکومتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت کے بعد ہم نے قومی بنک تو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے، اب لگتا ہے کہ جلد پتا چلے گا کہ آئی ایم ایف کا آفس ہی پاکستان شفٹ ہو رہا ہے، ان کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف کی ہر بات مان رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے ملازم کو ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بنک بنانے کی قانون میں گنجائش نہیں ۔ حکومت بتائے کہ اس نے کس قانون کے تحت اسٹیٹ بنک کا نیا ڈپٹی گورنر تعینات کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماوں کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی وجہ سے پہلے ہی عوام کودو وقت کی روٹی کھانے میں مشکلات کا سامنا ہے تاہم اب لگتا ہے آنے والا وقت مزید مشکل ہو گا۔
