اسلام آباد کی فضاؤں میں مارشل لاء کا خوف کیوں ہے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ مارشل لا کے ہیولے ایک بار پھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی فضاؤں میں منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں جسکی بڑی وجہ غلط پالیسیاں ہیں جنہوں نے ریاست کی رٹ مکمل طور پر ختم کردی ہے۔
فرائیڈے ٹائمز میں اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں نجم سیٹھی ملک کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ریاست پاکستان کو آج کسی مقبول یا مرکزی دھارے کی سیاسی جماعت یا کسی قوم پرست، نسلی یا علیحدگی پسند جماعت یا غیر ملکی شہ پر دھشت گردی کرنے والے گروہ کی طرف خطرہ لاحق نہیں۔ انکا کہنا یے کہ پاکستانی ریاست کو یہ خطرہ ایک نئی تیار کردہ مذہبی شدت پسند جماعت تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے تھا جس کے ہزاروں جوشیلے، جذباتی اور مشتعل حامی لاہور میں پنجاب پولیس کے خلاف ایک طے شدہ منصوبے کے تحت جم کر لڑے۔ اس جنگ کے نتیجے میں ایک درجن سے زیادہ افراد جاں بحق، بیسیوں زخمی اورسینکڑوں گرفتار ہوئے۔ اس جنگ کے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے انسداد دھشت گردی ایکٹ کے تحت تحریک لبیک پر فوراً پابندی عائد کردی اور اسے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے سے روک دیا۔ لیکن پھر ملک گیر ہنگاموں اور احتجاج کے بعد یہ ہوا کہ تحریک لبیک پاکستان کے قائدین اور ریاست اور حکومت کے نمائندگان کے درمیان ہونے والے مذاکرات نے صورت حال کا تناؤ کم کیا اورمعاملے کو قرار داد کے لیے قومی اسمبلی میں لے جانے فیصلہ ہوگیا۔
نجم سیٹھی سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ اس معاملے کا اختتام ہے یا شروعات؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ تحریک لبیک پیغمبر اسلام ﷺ کے ناموس کی سربلندی اور تحفظ کے مذہبی جذبات سے وجود میں آئی۔ یہ جماعت مسلمانوں اور غیر مسلموں، دونوں کی طرف سے ملک میں یا بیرون ملک کی گئی توہینِ رسالت کے خلاف میدان میں آئی تھی۔ اس کے اشتعال کا ابتدائی نشانہ گورنر پنجاب، سلمان تاثیر بنے جنہیں 2011 ء میں اُن کے سکیورٹی گارڈ نے گولی مار کر قتل کردیا جو تحریک لبیک کا پیروکار تھا۔اس وقت گورنر تاثیر اس مسیحی عورت کا تحفظ چاہتے تھے جو توہین کے الزام میں جیل میں سزائے موت کی ملزمہ تھی۔ گورنر پنجاب کا خیال تھا کہ اس پر توہین کا غلط الزام ہے۔ سلمان تاثیر کے قاتل، ممتاز قادری نے خود کو ”عاشق رسولﷺ“ قرار دیا۔ وہ پانچ سال تک جیل میں رہا یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے ہمت کرکے اُس کی سزائے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ مسلم لیگ ن کی لرزتی، ڈرتی حکومت نے فیصلے پر عمل درآمد کرادیا۔ لیکن قاتل ممتاز قادری کا جنازہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ اس سے ایک نئی جماعت کے قیام کی بنیاد پڑی جس کایک نکاتی ایجنڈا اتنا موثر ہے کہ یہ جماعت ریاست کو عملی طور پر گھٹنوں کے بل جھکا سکتی ہے۔
نجم سیٹھی کا کہنا یے کہ تحریک لبیک پر پابندی کے بعد ملک گیر مظاہروں کو روکنے کے لیے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے تو مذاکرات کرتے ہوئے عملی طور پر تحریک لیبک کے راہ نماؤں کے گھٹنوں کو ہاتھ تک لگائے اور اسلام آباد مارچ منسوخ کرنے کی التجا کی۔ جب دوسال پہلے تحریک لبیک نے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تھا تو صورت حال اس کے بالکل برعکس تھی۔ اس کا احتجاج وفاقی وزیر قانون، زاہد حامد کا استعفیٰ لینے میں کامیاب ہوا۔ وزیر موصوف پر ایک حلف نامے میں تبدیلی کا الزام تھا۔ اس کے بعد احتجاجی مظاہرین ریاست کے ایک باوردی افسر سے نقد رقم لے کر منتشر ہوگئے۔ ہمیں حالات کی ستم ظریفی یا د رکھنی چاہیے: جس جج، قاضی فائز عیسیٰ، نے اس وقت تحریک لبیک کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے والے سکیورٹی اداروں کے رویے کے خلاف تیزو تند فیصلہ دیاتھا، وہ آج کٹہرے میں کھڑے اپنے کیئریر کو بچانے کی جنگ لڑرہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اُن کی دلیری کو معاف نہیں کیا ہے۔ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کے سامنے پاکستانی ریاست کا تاریخی طور پر ردعمل افسوس ناک بھی ہے اور موقعہ پرستانہ بھی۔ جنرل ضیا کے دور سے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مذہبی انتہا پسندی اور نسل پرستانہ تنظیموں کو پروان چڑھاکر، ان کی ترویج کر کے اور ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر انہیں ریاست اور معاشرے کے سیاسی دھارے میں شامل کرایا ہے۔ یہ جماعتیں ملک میں اس کے سیاسی اور ہمسایہ ممالک میں عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔ اس کی بڑی مثالیں کراچی میں ایم کیو ایم اور کشمیر میں جہاد کرنے والے گروہ ہیں۔ ایم کیو ایم نے ایک عشرے تک کراچی کو اپنے سخت کنٹرول میں رکھا۔ جہادی تنظیموں نے اتنے پرپرزے نکال لیے کہ جب جنرل پرویز مشرف نے 2000ء کی دہائی میں بھارت کے خلاف جہاد کا بٹن بند کرنے کی کوشش کی تو ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ تحریک طالبان پاکستان کو کئی مواقع پر بھاری ”مالیاتی معاہدوں“ کے ذریعے رام کیا جاتا رہا۔ جب وہ قتل عام کرتے، سکولوں کو بموں سے تباہ کرتے، بازاروں میں دھماکے کرتے تو بھی اُنہیں ”بھٹکے ہوئے لیکن مخلص مسلمان بھائی“ کہا جاتا رہا، یہاں تک کہ اُنہوں نے دسمبر 2014 ء میں ایک آرمی سکول پر حملہ کرکے ایک سوپچاس طلبا کو قتل کردیا۔ تب کہیں جا کر فوج ان پر ہاتھ ڈالنے پر مجبور ہوئی۔ اب یہ عناصر افغانستان میں ٹھکانے بنانے کے بعد پاکستان مخالف کارروائیاں کرتے ہیں۔ انہوں نے فاٹا اور بلوچستان میں مسلکی بنیاوں پر حملے کیے ہیں۔ لیکن اپنی غلطیوں سے نہ سیکھنے کی پاکستانی اسٹیبلشمینٹ کی مسلسل پالیسی کی ایک تازہ ترین مثال تحریک لبیک پاکستان ہے۔
نجم سیٹھی یاد دلاتے ہیں کہ فروری 2021 میں تحریک لبیک نے دھمکی دی تھی کی اگر حکومت نے توہین آمیز خاکوں کے خلاف احتجاج کے طور پر فرانس کے سفارت کار کو نہ نکالااور فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ توڑے تو وہ ملک میں بھونچا ل لے آئے گی۔ حکومت نے اسمبلی سے قرار داد کی منظوری کے نام پر دو ماہ کا وقت حاصل کرلیا۔ لیکن جب طے شدہ تاریخ، بیس اپریل آئی اور اس کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو تحریک لبیک سڑکوں پر آگئی۔ اب کئی جانوں کے نقصان، املاک کی تباہی اور ملک کے مفلوج ہونے کے بعد حکومت نے ایک اور کھوکھلا سا پارلیمانی وعدہ کرکے خود کو وقتی طور پر بچا لیا ہے۔ لیکن اگلی مرتبہ جب تحریک لبیک گلیوں میں آئے گی تو نہ صرف اس کے احتجاج کی شدت میں اضافہ ہوچکا ہوگا بلکہ حکومت کی وعدہ خلافی پر اس کا مطالبہ بھی بڑھ جائے گا۔ اس دوران ہم توقع کرسکتے ہیں کہ ریاست اور معاشرے کو چیلنج کرتے ہوئے تحریک لبیک اپنی قوت کا مظاہرہ کرتی رہے گی تاکہ یہ اگلے انتخابات کے لیے خود کو ایک طاقت کے طور پر میدان میں رکھ سکے۔ تحریک لبیک ایم کیو ایم کے نمونے پر بنی ہے۔ ایم کیو ایم بھی نسلی بنیادوں پر تشدد اور دھشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے مالی اور انتخابی فائدہ حاصل کرتی تھی۔ اسے بھی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ تاہم ایک فرق ہے۔ ایم کیو ایم ایک خاص علاقے تک محدود تھی، تحریک لبیک کے سامنے پورا پاکستان ہے کیوں کہ یہ مذہبی جذبات کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
تحریک لبیک کی اٹھان پر اسٹیبلشمنٹ کا ردعمل مبہم ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کی بھارت، امریکا، سعودی عرب اور اسرائیل سے فنڈنگ کی جارہی ہے تاکہ پاکستان کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے رابطہ کو زک پہنچا کر وسطی ایشیا، ایران، ترکی اور روس پر مشتمل مغرب مخالف بلاک کا راستہ روکا جاسکے۔ لیکن نجم سیٹھی کے مطابق حقیقت کچھ اور ہے۔ تحریک لبیک فوجی اسٹیبلشمنٹ کے غلط کھیل کا نتیجہ ہے۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ اب یہی اسٹیبلشمینٹ اپنے ہی کھڑے کیے ہوئے طوفان کے نشانے پر ہے، اور اس کی بھاری قیمت پاکستانیوں کو اپنے خون سے چکانی پڑے گی۔
