اسٹیبلشمنٹ اب عمران کو اپنے کندھوں کا بوجھ سمجھتی ہے

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی کامیابی کے بعد دوبارہ سے یہ افواہیں گرم ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان اب بھی ایک ہی صفحے پر ہیں اور وہ آئندہ بھی اکٹھے چلتے رہیں گے۔ تاہم نجم سیٹھی اس تائثر کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے درمیان مزاکرات اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں اپوزیشن کو لگنے والا جھٹکا انہیں پٹری سے نہیں اتار سکتا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اس اٹل نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ عمران اسکے کندھوں کا بوجھ بن چکا ہے جس سے فوج کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے لہذا کپتان کے متبادل کا فیصلہ ہوتے ہی گیم پلٹ دی جائے گی۔
فرائیڈے ٹائمز کے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کو متنازعہ قانون سازی سے روکنے میں اپوزیشن کی ناکامی نے ان قیاس آرائیوں کو پھر سے جنم دیا ہے کہ پی ٹی آئی اوراسٹیبلشمینٹ کے درمیان ناپاک اشتراک کی سند رکھنے والا ایک پیج کا بیانیہ نہ صرف زندہ ہے، بلکہ پوری توانائی سے فعال بھی ہے۔ اس معاملے پر حزب اختلاف کو بھی شدید مایوسی ہوئی ہوگی کیونکہ اہم مسائل پر عمران اور فوجی قیادت کے مابین بڑھتے ہوئے تناؤ پر بہت سی امیدیں باندھ لی گئی تھیں۔ بقول سیٹھی، درحقیقت حزب اختلاف نے اسٹیبلشمنٹ سے ہٹتے ہوئے اپنی توپوں کا رخ عمران کی طرف کرلیا تھا۔ ان کے سیاسی نقصان کی اصل وجہ تو اسٹیبلشمنٹ ہی تھی لیکن انہیں شاید اب سیاسی طور پر غیر جانبدار رہنے اور عمران خان کو نظر انداز کرتے ہوئے دیگر آپشنز پر غور کرنے یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ حزب اختلاف کی اس پالیسی کی وکالت بلاول بھٹو اور شہباز شریف کررہے تھے۔ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی رائے اس کے برعکس تھی۔ لہذا اب اپوزیشن کو مل بیٹھ کر یہ طے کرنا ہو گا کہ آیا قانون سازی میں حکومت کی مدد کر کے اسٹیبلشمنٹ نے عمران کی عارضی مدد کی ہے یا پھر اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن کے ساتھ ایک بار پھر دھوکہ کیا ہے اور اس پر آئندہ بھروسا نہیں کیا جا سکتا؟
نجم سیٹھی کے مطابق تجزیہ کاروں کا اتفاق ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ موجودہ جھٹکا ان کو دو وجوہات کی بنا پر پٹری سے نہیں اتارے گا: پہلی وجہ یہ ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اس اٹل نتیجے پر پہنچ چکی کہ عمران خان اس کے کندھوں کا ایسا بوجھ بن چکا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف بطور ادارہ اس کی ساکھ کو زک پہنچ رہی ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔ لہذا وہ عمران خان کے متبادل کی تلاش جاری رکھے گی اور وقت آنے پر بازی پلٹا دے گی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن اس بات پر متفق ہے کہ اسے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکراتی عمل برقرار رکھتے ہوئے اسکے ادارہ جاتی مفاد کا خیال بھی کرنا ہو گا اور اس کے ناپسندیدہ عناصر کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی ضمانت دینا ہوگی۔ اس لیے تمام نظریں نواز شریف پر مرکوز ہوں گی جن کے پاس فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی کنجی ہے۔ اگر وہ جنرل قمر باجوہ کو اہنا نشانہ بنانے سے گریز کرتے ہیں تو یہ سمجھا سکتا ہے کہ مذاکرات تب تک پردے کے پیچھے جاری رہیں گے جب تک ”ضمانتیں” نہیں مل جاتیں۔
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس طرح ایک تبدیلی کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر اپوزیشن والے عمران کو ملنے والی موجودہ حمایت کو دھوکہ اور اعتماد شکنی سمجھ کر مشتعل ہوجاتے ہیں اور دوبارہ فوجی قیادت پر تنقید کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں تو عمران کو توقع سے زیادہ طویل مہلت مل سکتی ہے۔
17 نومبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہونے والی قانون سازی پر تنقید کرتے ہوئے نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ یہ پاکستانی پارلیمانی تاریخ کے سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس دن حکومت نے زور زبردستی سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے درجنوں بل منظور کروا ڈالے۔ پارلیمانی روایت اور قانونی ضرورت کے تحت ان پر بحث کا تو ذکر ہی کیا، حزب اختلاف کو ا بلوں کا متن پڑھنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ ان میں سے الیکشن کمیشن آف پاکستان پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو مسلط کرنے کا انتہائی متنازعہ بل بھی شامل تھا جس نے پہلے ہی اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا، کیونکہ انتخابات میں دھاندلی کے لیے ان مشینوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ 90 لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا حق دینے سے الیکشن نتائج میں دھاندلی اور ردوبدل، دونوں کا خطرہ موجود ہے۔
تاہم نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متنازعہ قانون سازی ممکن نہ ہوتی اگر اسٹیبلشمنٹ حکومت کا ساتھ نہ دیتی۔ حکومت نے مشترکہ اجلاس کو اسلیے ملتوی کر دیا تھا کہ اس کے اتحادی شراکت داروں نے حکمران جماعت سے ناراضی کا اظہار کر دیا تھا۔ لہذا یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ اجلاس سے غیر حاضر رہ کر حکومت کو قانون سازی کے لیے درکار ووٹوں سے محروم کر سکتے ہیں۔ اس پر اسٹیبلشمنٹ میدان میں اتری اور مشترکہ اجلاس میں شرکت کرنے سے گریز اور حکومت کی مخالفت کرنے والوں کو جھکنے پر مجبور کردیا۔ بقول سیٹھی، ایک ایسی حکومت جو کہ ایوان کا اعتماد کھونے اور حق حکمرانی سے محروم ہونے کے دھانے پر تھی، اسے ایک غیر فطری سہارا دے کر کھڑا کردیا گیا ہے۔ اس عمل نے تین سال پہلے کی یاد تازہ کردی جب اسی اسٹیبلشمنٹ نے آر ٹی ایس میں گربڑ کرتے ہوئے انتخابی نتائج تبدیل کردیے تھے اور تحریک انصاف کو اقتدار سونپ دیا تھا۔ تاہم آئی ایس آئی کی کمانڈ میں تبدیلی کے بعد اب یہ سلسلہ مذید اسی طرح چلنا ممکن نظر نہیں اتا۔
نجم سیٹھی کا دعویٰ ہے کہ کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کو لگنے والا جھٹکا اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو پٹری سے نہیں اتار سکتا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اس اٹل نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ عمران خان اسکے کندھوں کا بوجھ بن چکا ہے جس سے فوج ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے لہذا کپتان کے متبادل کا فیصلہ ہوتے ہی گیم پلٹ دی جائے گی۔
