اسٹیبلشمنٹ جسٹس فائز پر مسلسل حملہ آور کیوں ہے؟

پاکستانی اسٹیبلشمینٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ انکے خلاف سازشوں میں بار با ناکامی کا سامنا کرنے کے باوجود ہمت ہارنے کو تیار نہیں، اور اب آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے جج کے خلاف ایک نئے حملے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ان تمام تر سازشوں کا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کو اگست 2019 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا چیف جسٹس بننے سے روکا جا سکے۔
خیال رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ایما اور وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائس پر صدر عارف علوی کی جانب سے جسٹس فائز عیسی کے خلاف دائر کردہ نااہلی کا صدارتی ریفرنس مسترد ہو گیا تھا جسکے بعد اس فیصلے پر حکومت کی نظر ثانی پٹیشن بھی خارج ہو گئی تھی۔ تاہم ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت نے اس معاملے میں ایک اور نظر ثانی درخواست یعنی کیوریٹیو ریویو پٹیشن دائر کرنے کوشش کی جسے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے واپس کر دیا۔ رجسٹرار کا موقف تھا کہ وفاق نے ایک ہی وقت میں اور ایک ہی کیس میں 5 نئی نظر ثانی درخواستیں دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے رولز 1980 کو غلط پڑھا ہے اور یہ درخواستیں قبول نہیں کی جا سکتیں۔ رجسٹرار آفس نے واضح کیا کہ نظرثانی درخواست میں آئین کے آرٹیکل 184 (3)، 187، 188 اور 189 کے تحت ‘ازخود’ کارروائی کے لیے معلومات فراہم کی گئی ہے، جسے سپریم کورٹ رولز کے آرڈرز 26 اور 33 کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔
فائز عیسی کے خلاف نئی درخواستیں صدرِ علوی، وزیر اعظم عمران، وزیرِ قانون فروغ نسیم، وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر اور وفاقی ریونیو بورڈ یعنی ایف بی آر شامل ہیں۔ ان درخواستوں پر اپنے اعتراض میں رجسٹرار آفس نے واضح کیا کہ یہ معاملہ دوسری نظرثانی درخواست کے مانند ہے، اس لیے یہ سپریم کورٹ رولز کے آرڈر 36، رول 9 کے تحت قابل سماعت نہیں جس میں کہا گیا ہے کہ پہلی نظرثانی درخواست نمٹائے جانے کے بعد عدالت میں مزید کوئی نظرثانی درخواست دائر نہیں کی جاسکتی۔
رجسٹرار آفس نے اپنے اعتراض میں کہا کہ ان درخواستوں کے عنوان میں ‘ازخود نوٹس’ لکھا تھا لیکن متن میں اسے ‘نئی نظرثانی درخواست’ کہا گیا ہے۔ ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران رجسٹرار نے ان درخواستوں میں 5 مرتبہ ایک سینئر جج کے بارے تضحیک آمیز زبان پر بھی اعتراض کیا۔ رجسٹرار آفس نے کہا کہ درخواست گزار، درخواستیں دائر کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت فریقین کو نوٹسز ٹھیک طریقے سے جاری کرنے میں ناکام رہا اس لیے انہیں مسترد کر دیا گیا۔ تاہم دوسری جانب حکومت ان درخواستوں کو دائر کرنے پر مصر ہے اور اس کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے کے بعد درخواستوں کو دوبارہ سے دائر کر دیا
جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے حکومت کی جانب سے فائز عیسی کے خلاف نئی نظرثانی درخواست دائر کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کے خلاف قانونی برادری ملک گیر احتجاج کرے گی۔ بار کونسل کا موقف ہے کہ صدر، وزیر اعظم اور وفاقی وزیر قانون کا کردار اور انکی سرگرمیاں عدلیہ کی آزادی اور جمہوری عمل کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ بار کونسل نے کہا کہ وہ آزاد عدلیہ کو ہدف بنانے کے مذموم حکومتی عزائم کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین خوشدل خان اور پی بی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین محمد فہیم ولی نے جسٹس عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ کے 26 اپریل کے حکم کے خلاف دوسری نظرثانی درخواست دائر کرنے پر حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے خلاف قانونی برادری ملک گیر احتجاج کرنے میں بالکل نہیں ہچکچائے گی۔خوشدل خان اور فہیم ولی نے نئی نظرثانی درخواست دائر کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹرار آفس نے اس پر بالکل درست اعتراض اٹھائے ہیں۔ بار کونسل نے الزام لگایا کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر جسٹس فائز کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتی ہے تاکہ وہ چیف جسٹس نہ بن سکیں۔
واضح رہے کہ سنیارٹی لسٹ کے مطابق 17 اگست 2023 کو جسٹس قاضی  فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان بن جائیں گے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق 2023 بڑا اہم اور بڑا نازک سال ہو گا کیونکہ موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 13 اگست 2023 تک ہے۔ یعنی جسٹس قاضی فائز عیسی کے چیف جسٹس کا حلف اٹھانے سے صرف تین دن پہلے اسمبلی تحلیل ہو جائے گی جس کے 90 دن کے اندر عام انتخابات ہونا ہوتے ہیں۔ لہذا ایسے نازک موقع پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان دونوں ہی یہ برداشت نہیں کریں گے قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر براجمان ہوں۔ لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ 2023 تک فوجی اسٹیبلشمنٹ جسٹس قاضی فائز عیسی کو سپریم کورٹ سے باہر کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال جاری رکھے گی۔

Back to top button