اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو بھارتی اور یہودی فنڈنگ کا نوٹس لے

تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے وزیراعظم عمران خان پر بطور تحریک انصاف کے سربراہ بھارت اور امریکی یہودی لابی سے غیر قانونی طور پر فنڈنگ لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے لیکن ہمارے ادارے اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کر رہے۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستانی تاریخ کے اس دھماکہ خیز سکینڈل میں وسیع پیمانے پر مالی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے علاوہ سب سے حساس معاملہ پی ٹی آئی کو پاکستان کے ازلی دشمن ممالک سے غیر قانونی طریقے سے فنڈز ملنے کا ہے خصوصا جبکہ سب جانتے ہیں کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ فنڈنگ کے ذریعے سے سیاسی جماعتوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔

تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر کا جیو ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو میں
کہنا تھا کہ اگر فارن فنڈنگ کیس ثابت ہو گیا تو پارٹی کے مالی معاملات مینج کرنے والے تمام پارٹی عہدیدار خصوصا عمران خان کٹہرے میں آئیں گے اور ان پر سیاسی جماعت کا عہدہ رکھنے پر تاحیات پابندی عائد ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے برس ہا برس کیس چلنے کے بعد اب اچانک غیر قانونی فنڈنگ لینے کا۔الزام کی قبول کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری اپنے دو ایجنٹوں پر ڈال دی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ یہ دو ایجنٹ دو اشخاص نہیں بلکہ دو امریکی کمپنیاں ہیں جو کہ عمران خان کے احکامات پر رجسٹرڈ ہوئیں۔ اکبر ایس بابر نے بتایا کہ ان دونوں کمپنیوں کے بورڈ آف گورنرز بھی عمران خان کے احکامات سے مقرر ہوئے اور ان دونوں کمپنیوں کے مرکزی آفس کا ایڈریس پر بھی پی ٹی آئی کا سینٹرل آفس درج ہے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاور نے الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کے سامنے تحریری طور پر تسلیم کیا ہے کہ ان دو کمپنیوں کو امریکی اور دیگر غیر ملکیوں اشخاص اور اداروں سے تحریک انصاف کے لیے فنڈنگ ہوئی۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ عمران خان کے دوست اور یوٹیلٹی اسٹورز کے چیئرمین ذوالقرنین علی خان نے مشرق وسطیٰ سے کروڑوں روپے کی فنڈنگ تسلیم کی ہے جو ہنڈی کے ذریعہ پرائیویٹ بینک اکاؤنٹس میں پاکستان منتقل ہوئی۔ پارٹی قیادت پر فنڈز میں خورد برد کا الزام عائد کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ ڈنمارک، آسٹریلیا اور کینیڈا سے کی گئی فنڈنگ کی کہیں نشاندہی نہیں ہورہی۔ انہوں نے کہا کہ ہنڈی کے ذریعہ پی ٹی آئی کو ایسے ممالک سے فنڈنگ ہوئی جس کی تفصیلات سامنے لے آؤں تو بھارت میں بھی سیاسی واویلا مچ جائے، انہوں نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو بھارت سے بھی بڑے پیمانے پر فنڈنگ ہوئی، اور امریکا سے آنے والی فنڈنگ میں کانگریس کے یہودی لابسٹ کا نام نمایاں ہے۔

اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ نے فارن فنڈنگ کیس کا ریکارڈ پبلک قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود سکروٹنی کمیٹی ہمیں اسکا ریکارڈ فراہم نہیں کررہی، انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی نے تسلیم کیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے دباؤ کی وجہ سے انہیں ریکارڈ نہیں دے رہی۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ اگر اسکروٹنی کمیٹی ہی ملزم کے دباؤ میں کام کر رہی ہے تو اس کیس کی آزادانہ تحقیقات کیسے ہوں گی، انکا۔کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں آج تک پی ٹی آئی کا کوئی اکاؤنٹ نہیں دکھایا۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس ثابت ہو گیا تو پارٹی کے مالی معاملات مینج کرنے والے تمام عہدیدار بشمول اس کے چیئرمین عمران خان کٹہرے میں آئیں گے، اور ایسے لوگوں پر کسی بھی سیاسی جماعت کا عہدہ رکھنے پر تاحیات پابندی لگ جائے گی۔ اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ فنڈنگ کے ذریعہ سیاسی جماعتوں پر اثرانداز ہوتی ہے، لہازا پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ قومی سلامتی کا معاملہ ہے لیکن آئینی اداروں کو ابھی تک اپنی قومی ذمہ داری کا احساس نہیں ہوا۔ بابر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے مجھے کبھی کیس کے سلسلے میں نہیں بلایا، لیکن تحریک انصاف کے چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی کی چیف الیکشن کمشنر سے حالیہ ملاقات انکی ساکھ پر سوالات اٹھاتی ہے اور انکو متنازع بناتی ہے کیونکہ عمران خان کے بعد انکے کزن سیف اللہ نیازی ہی پارٹی کے تمام اکاؤنٹس مینج کرتے ہیں۔ اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے اس شخص سے ملاقات کی ہے جس کی پارٹی کیخلاف ان کے ادارے میں تحقیقات ہورہی ہے لہذا اس میٹنگ کا ایجنڈا بھی وضاحت کے ساتھ پبلک کیا جانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button