اسٹیبلشمنٹ نے نیوٹرل فریق کا سٹیٹس پانے کی کوشش تیز کردی

اپوزیشن جماعتوں کی قیادت نے اسٹیبلشمینٹ کی جانب سے ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کرانے کی مشروط آفر مسترد کر دی ہے کیونکہ تیسرے فریق کی جانب سے یہ واضح پیغام تھا کہ ڈائیلاگ میں نہ تو عمران خان کا استعفیٰ مانگا جائے گا اور نہ ہی الیکشن وقت سے پہلے کروانے کا مطالبہ ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اپوزیشن اِن شرائط کے ساتھ مذاکرات پر کہاں تیار ہوتی لہذا تیسرے فریق کی گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی آفر مسترد کر دی گئی جسکے بعد اپوزیشن نے اپنے لانگ مارچ اور استعفوں کے منصوبے پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم پی ڈی ایم اتحاد کی حکومت مخالف تحریک میں سخت تنقید کا نشانہ بننے والے تیسرے فریق کی خواہش ہے کہ ملک میں گڑ بڑ نہ ہو کیوں کہ لانگ مارچ ہوا تو بڑوں کے استعفوں کا مطالبہ بھی آ سکتا یے۔ پھر نہ سیاسی استحکام رہے گا اور نہ معاشی استحکام بچے گا، اور اگر اجتماعی استعفے بھی ہوگے تو سارا نظام ہی معطل ہو کر رہ جائے گا، اور ضمنی انتخابات کروانا ناممکن ہوں گے۔ لہذا اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ڈائیلاگ کی کوششں ابھی جاری ہے۔ اگرچہ یہ عمل اس لیے سست روی کا شکار ہے کہ پہلا فریق دوسرے فریق اور تیسرے فریق کو ایک سمجھتا یے۔ لہذا ماضی کی طرح تیسرا فریق یعنی اسٹیبلشمنٹ اس مرتبہ ایک کریڈیبل ضامن نہیں بن پا رہا۔ لیکن اسکی جانب سے خود کو ایک نیوٹرل فریق ثابت کرنے کی کوششیں ضرور جاری ہیں تاکہ وہ اپنی ساکھ بحال کروا کے مذاکرات کروانے کو پوزیشن میں آ سکے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے مطابق حالیہ دنوں میں ان کوششوں کی ایک جھلک سینیٹر محمد علی درانی کی شہباز شریف سے جیل میں ملاقات میں نظر آئی، وہ کہتے ہیں کہ درانی گھاگ سیاست کار ہیں، وہ ’’کچے‘‘ پر پاؤں نہیں رکھتے، اور ممکن نہیں کہ حالات کا جائزہ لیے بغیر اُنہوں نے یہ ٹاسک اپنے ذمہ لیا ہو، اِس لیے اِس بات کا پورا امکان ہے کہ تیسرے فریق کی طرف سے اِن مذاکرات کی اشیر باد دی گئی ہو۔ سینئر صحافی سلیم صافی بھی اس سے پہلے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ جیل میں شہباز شریف سے محمد علی درانی کی ملاقات رکوانے کیلئے وزیراعظم عمران خان نے بھرپور کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو پائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے فورا بعد عمران خان کا وہ بیان غور طلب ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اپوزیشن کو این آر او دینے والا ملک سے غداری کرے گا۔ یعنی وزیراعظم کا یہ بیان اسٹیبلشمنٹ کے لئے تھا جو کہ اپنی ساکھ بحال کرکے ضامنن کی کھوئی ہوئی پوزیشن پھر سے حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔ تاہم وزیراعظم کی مسلسل ایک ہی کوشش ہے کہ وہ فوج کو اپنے ساتھ نتھی کر کے دکھایئں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق اگر اِس مفروضے کو مان لیا جائے کہ محمد علی درانی کی شہباز سے جیل میں ملاقات تیسرے فریق کے ایما پر ہوئی تو پھر اِس کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات شہباز شریف سے ہوں گے اور ظاہر ہے کہ انہیں آگے بڑھانے کے لیے اُنہیں رہا کرنا ہوگا، گویا آنے والے دو مہینوں میں تبدیلی ضرور آئے گی، یہ تبدیلی اگر حکومت کی نہ ہوئی تو پالیسی کی ہوگی اور سب جانتے ہیں کہ اس ملک میں پالیسی ساز کون ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق حزبِ مخالف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی پہلی اینٹ رکھی جا چکی ہے لیکن اِس کی بنیاد بھی لازماً لانگ مارچ سے فوراً پہلے یا اُس کے ساتھ ہی رکھی جائے گی۔ انکا کہنا یے کہ ہمارا موجودہ سیاسی نظام کچھ ایسا بنا ہے کہ حکومت کو کچھ ہوگا تو لازماً تیسرے فریق کو بھی زک پہنچے گی، اِس لیے اسکی جانب سے سیچویشن کو ڈفیوژ کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اپوزیشن تجربہ کار ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کئی تحریکوں اور کئی حکومتوں کا تجربہ کر چکے ہیں، اِس لیے اُن سے توقع یہی کرنی چاہیے کہ وہ کسی نادانی کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور اپنی سیاسی چالوں کی منصوبہ بندی ایسے طریقے سے کریں گے جس سے اپوزیشن کو سیاسی فائدہ اور حکومت کو سیاسی نقصان ہو۔ اجتماعی استعفوں کی ٹائمنگ کے حوالے سے بھی یہی نکتہ زیر غور ہوگا کہ کیا استعفے مارچ سے پہلے دیے جائیں یا بعد میں دینے چاہئیں، پیپلز پارٹی 1985کے غیرجماعتی انتخابات کے بائیکاٹ سے یہ سبق سیکھ چکی ہے کہ ہر الیکشن میں حصہ لینا چاہیے، کیونکہ الیکشن کے بائیکاٹ سے آپ کے مخالفوں کو واک اوور مل جاتا ہے۔ 1983ءکے بلدیاتی الیکشن اور 1985کے غیرجماعتی الیکشن میں واک اوور سے جیتنے والے بعد میں سیاسی منظر پر نمایاں ہو گئے، اِنہی میں نواز شریف اور اُن کی پارٹی کے بیشتر اراکین تھے۔
دوسری طرف ن لیگ اقتدار سے بہت طویل عرصے سے لطف اندوز ہوتی رہی ہے، اُس کے اراکینِ اسمبلی اور منتخب لوگ احتجاجی سیاست کے تقاضوں سے زیادہ شناسائی نہیں رکھتے، اِس لیے ن لیگ کو چاہیے کہ وہ احتجاجی سیاست کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے تجربات سے فائدہ ضرور اُٹھائے۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں اپوزیشن اجتماعی استعفے تبھی دے گی جب اُس کو یقین ہوگا کہ اُن کے استعفوں سے نظام مفلوج ہو جائے گا اور نئے الیکشن کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں رہے گا، لانگ مارچ کے پیچھے بھی یہی فلسفہ کارفرما ہوگا کہ اِس سے حکومتی رٹ کو چیلنج کیا جائے اور سیاسی تصادم کا ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس میں سیاسی کشیدگی کے حل کے لیے دباؤ پیدا ہو جائے، اپوزیشن اپنے اِن اقدامات کو فیصلہ کن نتیجے تک پہنچانے تک کی حکمت عملی لازماً ترتیب دے رہی ہوگی۔
دوسری طرف حکومت کی ممکنہ جوابی حکمت عملی یہ ہوگی کہ کسی نہ کسی طرح مارچ کو گزارا جائے، لانگ مارچ سے پہلے سینیٹ کا انتخاب ہو جائے، ہو سکتا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے بھی کوئی سنجیدہ کارروائی کرے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حکومت کی سوچ یہ ہے کہ اگر سینیٹ کا الیکشن ہو گیا اور تحریک انصاف کی سینیٹ میں اکثریت آگئی تو اُسے قانون سازی میں آسانی پیدا ہو جائے گی، حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ سینیٹ الیکشن کے بعد اگلے دو سال میں کوئی بڑا سیاسی معرکہ درپیش نہیں ہوگا، اِس لیے حکومت کسی چیلنج کے بغیر اپنا وقت گزار لے گی۔
بظاہر سینیٹ انتخابات کے بعد ہی سے اگلے انتخابات کے لیے صف آرائی اور منصوبہ بندی شروع ہو جائے گی، حکومت کی بےبسی یہ ہے کہ اُن کے پاس کچھ ایسا نیا نہیں جس سے وہ اگلے دو تین سال لوگوں کو بہلائے رکھے یا مطمئن کر سکے۔ مسلہ یہ ہے کہ حکومتی اقدامات میں تخلیقی پن اور نیا پن نہیں اور اگر یہ ایسا ہی رہا تو پھر تحریک انصاف عوامی اور سیاسی سطح پر کوئی کرشمہ نہیں دکھا سکے گی اور یوں اُس کے سیاسی مخالفین کے ہاتھ مضبوط ہوتے جائیں گے۔
