اسٹیبلشمنٹ کے بعد عدلیہ بھی عمران خان سے نالاں کیوں؟

تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں 10 نومبر کو تب ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملی جب سپریم کورٹ نے پہلی مرتبہ حکومت کے خلاف جوڈیشل ایکٹیویزم دکھاتے ہوئے سانحہ اے پی ایس کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم عمران خان کو فوری عدالت میں طلب کر لیا اور واقعے کے ذمہ داراہم فوجی حکام کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر ان کی سخت سرزنش کی۔ سپریم کورٹ نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ پشاور سانحے کے ذمہ دار قاتلوں کے خلاف ایکشن لینے کی بجائے عمران خان کی حکومت انکے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرچکی ہے۔ سپریم کورٹ نے تحریک لبیک کے ساتھ ساتھ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرنے پر بھی وزیراعظم کی سرزنش کی اور سوال کیا کہ کیا فوج دہشت گردوں کے سامنے سرنڈر کر رہی ہے؟
سیاسی تجزیہ کار اس واقعے کو ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے پر ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں کیونکہ اب تک یہ خیال کیا جارہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کپتان حکومت کے ساتھ ایک ہی صفحے پر ہیں۔ سپریم کورٹ نے عدالت میں پیشی کے بعد وزیراعظم عمران خان کو چار ہفتوں کے اندر واقعے کے ذمہ دار فوجی حکام اور دیگر کے خلاف کارروائی کی رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے جس نے انہیں ایک نئی مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ شہید بچوں کے والدین نے جن لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ان میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام بھی شامل ہیں۔
کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی امین نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جنھوں نے ہمارے بچوں کو شہید کیا کیا ہم ان لوگوں کے ساتھ مذاکرات کر کے شکست کی ایک اور دستاویز پر دستخط کرنے تو نہیں جا رہے؟‘ ا نھوں نے مزید کہا کہ آپ نے ٹی ایل پی کے ساتھ بھی معاہدہ کیا جس نے احتجاج کے دوران نو پولیس والوں کو ‘شہید’ کیا، تو کیا ان پولیس اہلکاروں کی جانیں ہم سے کم قیمتی ہیں؟
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے عمران خان حکومت کے خلاف سخت ریمارکس ایک ایسے وقت میں دئیے ہیں جب پارلیمنٹ اور اور سانحہ اے پی ایس کے متاثرین کو اعتماد میں لیے بغیر تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات شروع ہیں اور طالبان کو عام معافی دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ خیال رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس حملے میں 144 بچوں سمیت 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔
آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کے لیے تشکیل پانے والے عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس واقعے کو ’سکیورٹی کی ناکامی‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس واقعے نے ملک کے سکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
10 نومبر کے روز وزیراعظم عمران خان کی سپریم کورٹ میں پیشی کے دوران طالبان اور حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ سپریم کورٹ نے حکومتی اقدام پر تحفظات کا واضح اظہار کرتے ہوئے اسے ریاست کی جانب سے سرنڈر کرنے کے مترادف قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے سانحہ اے پی ایس کا نوٹس لیے جانے کے بعد اب وزیر اعظم عمران خان کے لیے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا خصوصا جب اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لئے بغیر یہ کام کرنے پر پہلے ہی نالاں ہیں۔
خیال رہے کہ سانحہ اے پی ایس کی 20 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے جس پر سپریم کورٹ نے شہید ہونے والے سکول کے بچوں والدین کے مطالبے پر اٹارنی جنرل کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داران کو سزاؤں سے متعلق حکومتی اقدامات کی تفصیل طلب کی تھی۔ 10 نومبر کے روز سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین نے ان عوامی اور فوجی عہدیداروں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا مطالبہ کیا تھا جو انکے خیال میں اسکول میں حفاظتی اقدامات کے ذمہ دار تھے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو کہا کہ ہم اس معاملے میں اپنی تمام غلطیاں قبول کرتے ہیں، لیکن فوجی حکام کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنا عہدہ چھوڑ دوں گا مگر کسی کا دفاع نہیں کروں گا۔ اٹارنی جنرل کے جواب سے مطمئن نہ ہونے پر چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس قاضی محمد امین احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے وزیراعظم کو صبح 10 بجے عدالت طلب کر لیا۔
10 نومبر کو کیس کی سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم نے عدالتی حکم پڑھا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے انہیں بتایا کہ وزیراعظم کو عدالتی حکم نہیں بھیجا گیا تھا، اب انہیں اس سے آگاہ کروں گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے، وزیراعظم کو بلائیں ہم ان سے خود بات کریں گے، ایسے نہیں چلے گا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سابق آرمی چیف اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف سانحہ اے پی ایس پر مقدمہ درج کیا گیا؟، انہوں نے سوال کیا کہ جب شہریوں کے تحفظ کی بات آتی ہے تو انٹیلی جنس ایجنسیاں کہاں غائب ہو جاتی ہیں؟‘۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سانحہ اے پی ایس کی انکوائری رپورٹ میں سابق آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل کے خلاف کوئی مواد نہیں ملا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک میں اتنا بڑا انٹیلی جنس سسٹم ہے، اس پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، ایک دعویٰ یہ بھی ہے کہ ہم دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی ہیں جس پر اتنا بجٹ خرچ کیا جا رہا ہے، لیکن اسکے باوجود نتائج صفر ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اداروں کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کا ردعمل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے آسان اور حساس ترین ہدف بچے تھے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہم معصوم بچوں کو اسکولوں میں مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے، یہاں چوکیدار اور سپاہیوں کے خلاف کارروائی کر دی گئی اور بڑوں کو چھوڑ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی مگر اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کر چلتے بنے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا یہ ممکن نہیں کہ دہشت گردوں کو اے پی ایس حملے کے لیے اندر سے سپورٹ نہ ملی ہو، اے پی ایس واقعہ سیکیورٹی کی ناکامی تھی۔
اس کے بعد چیف جسٹس گلزار احمد نے وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ طلب کرلیا۔ عدالتی حکم پر وزیر اعظم تقریباً دو گھنٹے بعد کمرہ عدالت نمبر 1 میں پہنچے جہاں وکلاء، سکیورٹی اہلکاروں اور اے پی ایس حملے کے متاثرین کے لواحقین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیر اطلاعات فواد چوہدری سمیت چند وفاقی وزرا بھی سپریم کورٹ میں موجود تھے۔ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب، آپ آئیں جس پر وزیر اعظم روسٹرم پر پہنچے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ شہید بچوں کے والدین کی تسلی کروانا ضروری ہے، والدین چاہتے ہیں کہ سانحے کے وقت اہم عہدوں پر موجود حکام بالا کے خلاف غفلت برتنے پر کارروائی ہو۔ چیف جسٹس نے عمران خان سے استفسار کیا کہ آپ سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے کیا کر رہے ہیں؟ ج
اس پر وزیر اعظم نے عدالت کو بتایا کہ جو بھی ممکنہ اقدامات ہوسکتے تھے ہم نے کیے، تب خیبر پختون خواہ میں ہماری حکومت تھی۔ یاد رہے کہ تب پرویز خٹک وزیر اعلی کے پی کے تھے۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق کوئی خصوصی اقدام نہیں اٹھائے گئے، ہمیں بتائیں کی حکومت نے کون کون سے اقدام کئے۔ جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ جب سانحہ ہوا تو میں فوراً پشاور پہنچا اور والدین سے ملاقات کی تھی۔
چیف جسٹس نے وزیراعظم سے استفسار کیا کہ ریاست نے بچوں کے والدین کو انصاف دلانے کے لیے کیا کیا؟ اس پر عمران خان نے بتایا کہ میں تو اسوقت حکومت میں نہیں تھا۔ اس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق آپ تو سانحہ پشاور کے ذمہ داران سے مذاکرات کررہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ مجھے بات کرنے کا موقع دیں، میں ایک ایک کرکے وضاحت کرتا ہوں۔ لیکن چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں آپ کے پالیسی فیصلوں سے کوئی سروکار نہیں، ہمیں یہ جاننا ہے کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی مجرموں کا سراغ کیوں نہ لگایا جا سکا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 7 سال سے کسی بڑے کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی، اب آپ با اختیار وزیر اعظم ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شہداء کے والدین کو سننے والا کوئی نہیں ہے، سپاہی سے پہلے ذمہ دارن اعلیٰ افسران تھے، فوج کے اس وقت کے جو کرتا دھرتا تھے، مراعات کے ساتھ ریٹائرڈ ہوگئے ہیں۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد داعش، ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند پاکستان آگئے ہیں، اور ڈھائی لاکھ لوگ پاکستان کے راستے باہر بھی گئے ہیں، دہشت گرد ان لوگوں کی آڑ میں پاکستان میں گھس کر روپوش ہوئے ہیں۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ ماضی میں جانے کی ضرورت نہیں، آپ وزیراعظم ہیں، ہم آپ کا احترام کرتے ہیں، یہ بتائیں کہ پشاور سانحہ کے بعد اب تک کیا اقدامات اٹھائے۔ وزیر اعظم نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا، ہم جنگ اس لیے جیتے کہ پوری قوم پاک فوج کیساتھ کھڑی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینشن کمیٹی بنائی جو اس معاملے کو دیکھ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ شہید بچوں کے والدین نے جو نام دیے ان میں سے کوئی بھی مقدس گائے نہیں، سپریم کورٹ حکم دے ہم سب کے خلاف ایکشن لیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے فوراً بعد میں پشاور پہنچا اور لواحقین سے ملا، ماں باپ سمیت پوری قوم صدے میں تھی، واضح کر دوں کہ جو ازالہ کر سکتے تھے کیا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ان کو ازالہ نہیں اپنے بچے چاہیے تھے‘، اور استفسار کیا کہ آخری آرڈر میں ہم نے ایکشن لینے کے لیے باقاعدہ لوگون کے نام دیئے تھے ،ان کا کیا ہوا۔ اب آپ اقتدار میں ہیں، حکومت بھی آپ کی ہے، آپ نے کیا کیا ؟ ان ہی مجرموں کو آپ مذاکرات کی میز پر لے آئے۔
جسٹس قاضی امین نے دوران سماعت سوال کیا کہ کیا فوج دوبارہ ان کے سامنے سرنڈر کر رہی ہے؟ تاہم وزیراعظم خاموش رہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے حکومت کو سانحہ اے پی ایس متاثرین کے ساتھ مل کراقدامات اٹھانے کا حکم اور دو ہفتوں کے اندر پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی جس پر اٹارنی جنرل نے مزید وقت کی استدعا کی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کی استدعا قبول کرتے ہوئے 4 ہفتے کا وقت دے دیا اور سماعت 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور طالبان کے مابین جاری مذاکرات کا کیا بنتا ہے اور وزیراعظم عمران خان سانحہ اے پی ایس کے ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف کاروائی کرتے ہیں یا نہیں؟
