افریقی ارب پتی خاتون ملک کی لوٹی ہوئی دولت سےعیاشیاں کرتی رہی

کم سےکم 3 درجن صحافتی اداروں نےاپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہےکہ وسطی افریقی ملک انگولیا کےسابق صدر جوس اڈارڈوڈاس سینٹوس کی ارب پتی بیٹی ملک سے لوٹی ہوئی دولت کے پیسوں سے یورپی ممالک وامریکا میں عیاشیاں کرتی رہی۔
یہ دعویٰ چند سال قبل دنیا بھرمیں’پاناما لیکس‘کوسامنےلانےوالی صحافیوں کی عالمی تنظیم’انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلسٹس‘(آئی سی جے) اوربرطانوی اخباردی گارجین سمیت 37 صحافتی اداروں کی جانب سے کی جانی والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔ مذکورہ 37 صحافتی اداروں نےانگولا کےسابق صدرکی46 سالہ بیٹی ازابیل ڈاس سینٹوس کی جانب سے کرپشن اورغیرقانونی طریقےسے جمع کی گئی دولت کےالزامات کی تفتیش کی اوراس تفتیش میں کئی ہفتے لگے۔
’آئی سی جے‘نے اس اسکینڈل کو’لواندا لیکس‘ کا نام دیا ہے کیوں کہ’لواندا‘انگولا کےدارالحکومت کا نام ہےاورسابق صدر کی46 سالہ بیٹی ازابیل ڈاس سینٹوس نے محض 26 سال سے اسی شہرسے ملکی وحکومتی معاملات میں مداخلت کرکےاپنی دولت بنانا شروع کی۔ آئی سی جے کے مطابق مذکورہ تفتیش کے دوران 7 لاکھ سےزائد دستاویزات کا جائرہ لیا گیا جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہےکہ ازابیل ڈاس سینٹوس نے اپنےوالد کے دورمیں اپنا اثرررسوخ استعمال کرتے ہوئےغیرقانونی طورپرنہ صرف اربوں روپےکےٹھیکےحاصل کیے بلکہ کمیشن کےعوض ٹھیکےفروخت بھی کیے۔
azabeel
تحقیقاتی صحافتی تنظیم نےافریقی اوربرطانوی اداروں سمیت یورپی اداروں کےساتھ مل کرمذکورہ معاملےکی تفتیش کی اور رپورٹ میں بارباراس بات کا ذکرکیا گیا ہےکہ سابق صدرکی ارب پتی بیٹی نےغریبوں کے ٹیکس کی لوٹی ہوئی دولت سے برطانیہ، امریکا اوردیگریورپی ممالک میں پرتعیش پارٹیاں منعقد کیں اوران پارٹیوں میں امیرترین افراد کومدعوکیا جاتا رہا۔ اسی رپورٹ کے حوالےسے برطانوی اخبار’دی گارجین‘نے بتایا کہ37 اداروں کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ نہ صرف46 سالہ ازابیل ڈاس سینٹوس بلکہ ان کے شوہربھی انگولا سے دولت کو جمع کرنےمیں شریک مجرم پائے گئے۔
abaeel shohar
رپورٹ کےمطابق ازابیل ڈاس سینٹوس کےامیربننےاوران کی جانب سےدولت جمع کرنے کا سلسلہ1999 سے شروع ہوتا ہے جب انگولا میں پہلی بارٹیلی کمیونی کیشن کا ٹھیکا دیا جانے لگا۔ اس وقت ازابیل کی عمرمحض25 یا 26 برس تھی اور انہوں نے ٹیلی کام کمپنی کو ٹھیکا دینے کے بدلے ان سے 25 فیصد شیئر خریدے اوراب مذکورہ ٹیلی کام کمپنی انگولا کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی ہے اور اس کی مالیت تقریبا 2 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی طرح ازابیل ڈاس سینٹوس والد کے دورصدارت میں اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ٹھیکوں پرکمیشن لینے سمیت کئی طرح کی کمپنیوں کےشیئرخرید کرمذکورہ کمپنیوں کو ٹھیکے دلواتی رہیں۔
azbeel 2
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق صدر کی بیٹی نے نہ ٹیلی کام، تیل، ہیروں، بینکنگ اور ریئل اسٹیٹ سمیت کئی طرح کے کاروبارات میں والد کی رضامندی سے کئی غیر قانونی معاہدے کرکے دولت بنائی۔ رپورٹ میں امریکی اقتصادی جریدے ’فوربز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ازابیل ڈاس سینٹوس کی 2019 تک 4 ارب ڈالر کی دولت تھی اورانہیں افریقا کی امیر ترین خاتون کا اعزاز حاصل تھا۔ گارجین کے مطابق ازابیل ڈاس سینٹوس نے تیل، بینک، میڈیا، ٹیلی کام، ہیرے اورسونے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنےسمیت شاپنگ سینٹرز میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اوران کی لندن، دبئی اور لزبن سمیت کئی شہروں میں اربوں روپے کی جائدادیں ہیں۔
افریقا کی ارب پتی خاتون کی دنیا کے امیرترین اورکم آبادی والے یورپی ملک مناکو میں بھی جائدادیں ہیں جب کہ وہ افریقا کی سب سےبڑی آرٹ گیلری کی مالک بھی ہیں۔ انہوں نے دنیا کےمختلف ممالک میں شاپنگ سینٹرزسمیت ریزورٹس اور ہوٹلوں میں بھی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ گارجین کے مطابق ’لواندا لیکس‘سامنےآنے کے بعد ازابیل ڈاس سینٹوس نے خود پر لگے تمام الزامات کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قانون کےتحت دولت جمع کی۔’لواندا لیکس‘ میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ازابیل ڈاس نےایک طرح سے قدرتی وسائل سے مالا مال اپنے ملک کو لوٹ کرغریب عوام کا استحصال کرکے ان کے پیسےہتھیائےاوران ہی پیسوں سےوہ عیاشیاں کرتی رہیں۔
خیال رہے کہ ازابیل ڈاس سینٹوس کے والد38 سال تک ملک کے صدررہے اورانہیں2017 میں عہدے سے استعفٰی دینے پر مجبورکیا گیا۔ والد کےعہدہ صدارت سے ہٹنےکےبعد ازابیل ڈاس سینٹوس کی طاقت اوراختیارات میں بھی کمی ہوئی اورانہیں کئی عہدوں اورمعاہدوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ازابیل ڈاس سینٹوس زیادہ تر لندن، نیویارک، میامی بیچ، دبئی اور مناکو جیسے شہروں میں زندگی گزارتی اورمعروف وامیرترین شخصیات کے ساتھ پرتعیش پارٹیاں کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ازابیل ڈاس سینٹوس کی پارٹیوں میں نامورہولی وڈ اداکارائیں، اداکار، گلوکاروفیشن شخصیات شامل ہوتی رہتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button