افغان اسمگلر اور جہادی دونوں پاکستان کیلئے بڑا خطرہ کیوں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ 2021 میں طالبان کی دیوالیہ حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کی درآمدات جتنی زیادہ گھٹیں اس سے کہیں زیادہ افغانستان کی درآمدات افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعہ بڑھیں پاکستان میں درآمدات میں کمی کو افغانستان کی ناجائز ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعہ پورا کیا گیا اور اس کیلئے اربوں ڈالرز کی سمگلنگ افغانستان کو کی گئی۔ پاکستان اور افغانستان کے اسمگلروں نے خوب مال بنایا او رپاکستان کو دیوالیہ پن کی کھائی میں دھکیل دیا. افغان اسمگلر اور جہادی دونوں پاکستان کیلئے بڑا خطرہ ہیں ۔ اپنے ایک کالم میں امتیاز عالم لکھتے ہیں کہ 52برس سے پاکستانی ریاست کی جنرل ضیا الحق سے جنرل مشرف تک کی حکمت عملیوں کے پس منظر میں افغانستان سے ہونے والی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے نتیجہ طالبان کی وہ لہر ہے جنکی حکومت افغانستان میں عالمی تنہائی کے باوجود برقرار ہے اور اس کی پاکستانی شاخ دریائے آمو سے دریائے سندھ تک امارات اسلامی افغانستان کی توسیع کیلئے مائل بہ ’’جہاد‘‘ ہے ، افغانستان یا پشتونستان تو کبھی پختون قوم پرستوں کا ’’قومی نعرہ‘‘ ہوتا تھا جو اب طالبان نے ہتھیا لیا ہے۔ افغانستان سے آنے والے دھشت گردوں کے پاکستان پر حملے رک نہیں پارہے . ایسے میں غیر قانونی افغان مہاجرین کی 31 اکتوبر تک پاکستان سے ملک بدری کے خیبرپختونخوا اور پھر وفاقی ایپکس کمیٹی کے اعلان کے بعد ایک تہلکہ مچ گیا ہے۔ ایک خبر کے مطابق اندازاً 17 لاکھ ایسے افغان مہاجرین ہیں جو قانون کے دائرے سے باہر ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2.18 ملین افغان مہاجر ہیں جن میں سے 13 لاکھ کے پاس سفری دستاویزات ہیں۔ 8 لاکھ 80 ہزار کے پاس افغان شہریت کارڈز ہیں۔ مہاجرین کی بڑی تعداد میں اضافہ طالبان حکومت کے دوبارہ قیام کی صورت سامنے آیا ہے جنکی تعداد آٹھ دس لاکھ تک بیان کی جاتی ہے اور جن میں سے بہت سے مغربی ممالک میں سکونت اختیار کرنے کے منتظر ہیں جو کہ مشکل نظر آتی ہے۔
اب پندرہ بیس لاکھ افغانوں کی پاکستان بدری بذات خود ایک چیلنج ہے۔ امتیاز عالم کہتے ہیں کہ معاملہ افغان مہاجرین کی واپسی ہی کا نہیں ہے، افغانستان کی معاشی تباہی کا بوجھ پاکستان کے ناتواں کندھوں پہ آن پڑا ہے اور ہمارے انصار، مہاجرین کی مہمان نوازی سے تائب ہوتے نظر آرہے ہیں۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ہاتھوں معاشی تباہی نے ریاست پاکستان کو وجودی خطرے سے دوچار کردیا ہے . افغانستان کیلئے پاکستان کے ساتھ تجارتی راہداری کے 2010 کے معاہدے کے بعد اور خاص طور پر 2021 میں طالبان کی دیوالیہ حکومت کے قیام سے ایک ناقابل برداشت معاشی بوجھ پاکستان کی بحران زدہ معیشت کے گلے پڑگیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جتنی زیادہ پاکستان کی درآمدات گھٹیں اس سے کہیں زیادہ افغانستان کی درآمدات ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعہ بڑھیں۔ گزشتہ برس افغانستان کی درآمدات 7.3 ارب ڈالرز تھیں جبکہ برآمدات ڈیڑھ ارب ڈالرز کے قریب تھیں۔
اتنا بڑا تجارتی خسارہ پاکستان میں انہی اشیا کی اسمگلنگ کرکے اور ڈالر کی بلیک مارکیٹنگ سے پورا کیا گیا، جو سراسر ایک ڈاکہ تھا۔ افغانستان کی بڑی درآمدات 5.6 ارب ڈالرز تک بڑھ گئیں جبکہ اس کی منڈی میں انکی مانگ نہ تھی۔ مثلاً مصنوعی کپڑے کی افغان درآمد 35 فیصد بڑھی جبکہ پاکستان میں یہ 40 فیصد کم ہوئی، بجلی کے سامان کی افغان درآمد 72 فیصد بڑھی تو پاکستان میں یہ 62فیصد کم ہوئی۔ افغانستان میں پلاسٹک کی اشیا کی درآمد 206فیصد بڑھی تو پاکستان میں 23فیصد کم ہوئیں، ٹائرز کی درآمد افغانستان میں 80فیصد بڑھی تو پاکستان میں 42 فیصد کم ہوئی، مشینری کی درآمد افغانستان میں 211 فیصد بڑھی تو پاکستان میں 51 فیصد کم ہوئی۔ غرض یہ معلوم ہواکہ پاکستان میں درآمدات میں کمی کو افغانستان کی ناجائز ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعہ پورا کیا گیا اور اس کیلئے پاکستان کی کرنسی کی ہنڈی اور بلیک مارکیٹ کو استعمال کرکے اربوں ڈالرز کی اسمگلنگ افغانستان کو کی گئی۔ اس دوہری اسمگلنگ سے پاکستان اور افغانستان کے اسمگلروں نے خوب مال بنایا او رپاکستان کو دیوالیہ پن کی کھائی میں دھکیل دیا۔ گویا سبق یہ ہے کہ ہم افغان تو ڈوبے ہیں صنم، تم یعنی پاکستان کو بھی لے ڈوبیں گے۔ اب افغان اسمگلر اور جہادی دونوں پاکستان کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان کو لینی تو تزویراتی گہرائی تھی ملی بھی تو تزویراتی کھائی۔ اب بھگتیں تو کیسے؟ افغان باقی کہسار باقی!
