کیا پٹرول کی قیمت میں 30 روپے لیٹر کمی ممکن ہے؟

روپے کی قدر میں استحکام، ڈالر کی قیمت میں کمی،عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تنزلی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت میں 12 ڈالر کی کمی ہوئی ہے جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 9 ڈالر کمی سے 117 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد مقامی سطح پر پیٹرول کی قیمت میں 38 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 18 روپے فی لیٹر کمی متوقع ہے۔دوسری جانب روپے کی قدر میں مسلسل اضافے سے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے تاہم حتمی فیصلہ 15 اکتوبر کو کرے گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق ٓحکومت کے ڈالر کے ذخیرہ اندوزوں اور حوالہ ہنڈی کا کاروبار کرنے والی کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے باعث روپے کی قدر مستحکم ہو رہی ہے اور انٹر بینک میں ڈالر 307 روپے سے کم ہو کر 281 روپے کا ہو گیا ہے۔دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی ہے۔ خام تیل کی قیمت 27 ستمبر کو 95 ڈالر فی بیرل تھی جو کہ 6 اکتوبر کو 82 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تھی۔ تاہم اب خام تیل کی قیمت 85 روپے فی بیرل ہے۔15 اکتوبر سے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تو کی جائے گی، تاہم ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ 30 روپے یا اس سے زائد کی کمی ہو گی۔
ماہرین کے مطابق نگراں حکومت نے 30 ستمبر کو جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا تھا، اس وقت ڈالر کی قیمت 288.6 روپے تھی اور آج 282.6 روپے ہے، اس عرصے میں ڈالر کی قیمت 6 روپے یعنی 2.1 فیصد کم ہوئی ہے، جبکہ 30 ستمبر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 91 ڈالر فی بیرل تھی جو کہ اب 85 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، اس عرصے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 6 روپےیعنی 7 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔ڈالر کی قیمت میں 2 فیصد اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد کمی سے واضح ہوتا ہے کہ نگراں حکومت کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 7 یا 8 فیصد سے زائد کمی کرنا ممکن نہیں۔ 30 روپے یا زائد کی کمی کے لیے قیمتوں میں 10 فیصد کمی کا اعلان کرنا ہوگا جس کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔خیال رہے کہ نگراں حکومت نے ڈیڑھ ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں 58 روپے 43 پیسہ جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 55 روپی 83 پیسے کا اضافہ کیا تھا جس کے بعد یکم اکتوبر کو پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے کی کمی کی گئی تھی۔ اس وقت پیٹرول کی نئی قیمت 323 روپے 38 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 318 روپے 18 پیسے ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن ذرائع کے مطابق اس وقت حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس وصول نہیں کر رہی ہے، 22 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی جبکہ 50 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ اگر حکومت پیٹرولیم لیوی 50 روپے فی لیٹر برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے اور دیگر ٹیکسز میں ردوبدل نہ کیا گیا تو 15 اکتوبر سے پیٹرول کی قیمت میں 15 سے 25 روپے تک کی کمی ہو سکے گی۔روپے کی قدر میں بڑے اضافے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی سے امکانات واضح ہو گئے ہیں کہ 15 اکتوبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہو گی۔بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 35 سے 38 روپے کی کمی کی جائے گی، تاہم پٹرول کی قیمتوں سے متعلق حتمی فیصلہ اوگرا کی سمری کے بعد وزارت خزانہ کرے گی۔حکومتی ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں 30 روپے یا اس سے زائد کی کمی ممکن نہیں ہے۔
