افغان سپریم کورٹ کی دو خواتین ججز فائرنگ سے قتل

سپریم کورٹ کے ترجمان احمد فہیم قیوم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ججز پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ عدالت کی گاڑی میں اپنے دفتر جارہی تھیں۔
انہوں نے کہا: ’بدقسمتی سے آج کے حملے میں ہم نے دو خواتین ججوں کو کھو دیا ہے۔ ان کا ڈرائیور بھی اس حملے میں زخمی ہو گیا ہے۔ یہ گاڑی خواتین ججوں کو ان کے دفتر لے جا رہی تھی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ملک کی اعلیٰ عدالت میں 200 سے زائد خواتین جج کام کررہی ہیں۔ کابل پولیس نے بھی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خواتین ججز کو مرکزی کابل میں عدالت جاتے ہوئے راستے میں نشانہ بنایا گیا۔
مسلح افراد نے سپریم کورٹ کے لیے کام کرنے والی دو افغان خواتین کو ایک ایسے وقت میں نشانہ بنایا ہے جب دوحہ میں طالبان اور حکومتی نمائندے بین الافغان امن مذاکرات میں مصروف ہیں جب کہ ملک میں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران فغانستان، خاص طور پر کابل میں، تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور ہائی پروفائل شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کے ایک نئے رجحان نے شہر میں خوف اور افراتفری پھیلا دی ہے۔ حالیہ مہینوں میں افغانستان میں خواتین پر حملوں میں اٖٖضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ماہ دسمبر میں افغانستان کے مشرقی صوبے ننگر ہار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے معروف خاتون ٹی وی اینکر ہلاک ہوگئی تھیں۔
اس سے قبل مئی میں بھی ایک معروف خاتون صحافی مینا منگل کو قتل کیا گیا تھا۔ خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی صحافی اور سیاسی مشیر مینا منگل کو دن دیہاڑے دارالحکومت کابل کے ایک عوامی مقام پر اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ اپنے دفتر کے لیے روانہ ہو رہی تھیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی افغانستان کو خواتین کے حوالے سے بدترین ملک قرار دیا ہے جہاں انہیں سکول جانے یا ملازمت کرنے کی پاداش میں قتل کرنا عام سی بات ہے جبکہ ملک میں خواتین کی عصمت دری اور ان پر گھریلو تشدد، بچپن میں شادیاں اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات تشویش ناک حد تک زیادہ ہیں۔
