افغان طالبان کا پاکستانی طالبان کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ

پاکستان میں تحریک طالبان کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی شکایت کے بعد افغان طالبان نے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ٹی ٹی پی پر زور دے گا کہ وہ پاکستان کی سرزمین پر ہونے والے حملے روک دیں۔ تحریک طالبان کے جنگجووں کو یہ تجویز بھی دی جائے گی کہ وہ ہتھیار ڈال کر پاکستانی حکام سے عام معافی حاصل کریں اور افغانستان چھوڑ کر واپس پاکستان چلے جائیں۔
وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد می ایک اعلیٰ سطحی ذریعے نے بتایا ہے کہ پاکستان کی شکایات کے پیشِ نظر تین رُکنی کمیشن افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی ہدایت پر حال ہی میں بنایا گیا ہے۔ کمیشن نے پاکستانی طالبان کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات حل کریں اور پاکستانی حکومت کی جانب سے عام معافی کے عوض اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ افغانستان سے پاکستان چلے جائیں۔ خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان کا یہ الزام رہا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے دہشت گرد افغان سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
البتہ طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد ملک چھوڑ جانے والے اشرف غنی کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔پاکستان اور افغان طالبان نے اس پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔
یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا تھا کہ پاکستان تحریکِ طالبان کا معاملہ افغان طالبان کے سامنے رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ زاہد حفیظ نے کہا تھا کہ وہ ٹی ٹی پی کی پاکستان مخالف کارروائیوں کا معاملہ سابقہ افغان حکومت کے سامنے بھی رکھتے رہے ہیں اور اب مستقبل کی افغان حکومت پر بھی زور دیں گے کہ وہ یقینی بنائے کہ ٹی ٹی پی پاکستان پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال نہ کرے۔
البتہ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے پیش رفت سے آگاہ ایک با خبر ذریعے نے بتایا کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ پاکستان ٹی ٹی پی کے مطالبات تسلیم کر لے گا۔ اُن کے بقول پاکستانی قانون کے مطابق عام معافی ہتھیار ڈال کر پاکستان کے خلاف آئندہ کسی بھی سرگرمی میں ملوث نہ ہونے کی یقین دہانی پر مل سکتی ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ اور اقوامِ متحدہ نے تحریکِ طالبان پاکستان کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری 2020 میں طے پانے والے دوحہ امن معاہدے میں بھی افغان طالبان نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ طالبان کے دوحہ دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بتایا کہ "یہ تحفظات جائز ہیں اور ہماری یہ واضح پالیسی ہے کہ ہم کسی کو بھی افغان سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک بشمول پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔”سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ چاہے وہ تحریکِ طالبان پاکستان ہے یا کوئی اور تنظیم ان کی اب افغانستان میں کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ سب کے لیے واضح پیغام ہے۔ افغانستان پر کنٹرول کے بعد طالبان ہمسایہ ممالک سمیت خطے کے دیگر ممالک کے تعاون کے خواہاں ہیں جب کہ دگرگوں معاشی صورتِ حال اور دیگر مسائل سے نمٹنا بھی اُن کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ افغان طالبان کے لیے پاکستان سمیت اُن ممالک کے تحفظات نظرانداز کرنا مشکل ہو گا جو افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کی شکایات کرتے آئے ہیں۔اسلام آباد میں ذرائع نے بتایا کہ اگر افغان طالبان انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدوں پر قائم نہ رہے تو نہ صرف پاکستان بلکہ چین، روس، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں بھی اُن سے بدظن ہو جائیں گی۔ خیال رہے کہ پاکستان کے علاوہ یہ مذکورہ ریاستیں بھی افغان سرزمین کے اپنے خلاف استعمال ہونے کی شکایات کرتی آئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کا ساتھ دے کر پاکستان کو ناراض نہیں کریں گے کیوں کہ چاروں طرف خشکی میں گھرے افغانستان کی تجارت کا انحصار پاکستان پر ہے۔ لیکن ناقدین اب بھی شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں کہ آیا افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور چین مخالف ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے مسلم جہادی گروہوں کے خلاف جائیں گے یا نہیں کیونکہ وہ امریکہ کے خلاف لڑائی میں افغان طالبان کے شانہ بشانہ لڑتے رہے ہیں۔
