وزیرستان میں طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا

افغانستان میں طالبان کی جانب سے کابل شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد جنوبی وزیرستان میں بھی طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ ان کی خاصی تعداد سرحد پار کرکے افغانستان جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ دوسرے قبائلی اضلاع کے مقابلے میں جنوبی و شمالی وزیرستان میں ’گڈ‘ اور ’بیڈ‘ طالبان دونوں دھڑوں کی افرادی قوت اور ان کی موجودگی ایک کھلی حقیقت ہے اور دونوں قبائلی اضلاع میں گذشتہ 6 مہینوں سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی وقتاً فوقتاً طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ تاہم افغانستان میں اشرف غنی کی حکومت کے اچانک خاتمے اور طالبان کی حکومت کے آنے کے بعد گڈ طالبان کے وہ جنگجو بھی سامنے آگئے ہیں، جو ایک عرصے سے زیرِ زمین تھے۔
سینئر صحافی دلاور خان وزیر کی ایک رپورٹ کے مطابق انگور اڈہ سرحدی چیک پوسٹ پر افغانستان کی سرکاری فوج کے چلے جانے کے بعد وہاں کا کنٹرول ’گڈ‘ طالبان کے جنگجوؤں نے سنبھال لیا ہے۔ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں مقامی طالبان کے ایک کمانڈر عالم خان وزیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے انگور اڈہ گیٹ کا کنٹرول عارضی طور پر سنبھال لیا ہے اور برمل کے مختلف علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے گشت بھی شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 150 سے زیادہ طالبان وانا سے افغانستان پہنچ چکے ہیں اور وہ مختلف علاقوں میں افغان طالبان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد پاکستان کی امن و امان کی صورتِ حال میں بہتری آئے گی اور افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری مخالفت کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ وانا میں موجود تمام افغان طالبان افغانستان چلے گئے ہیں، وہ جب چاہیں وانا آسکتے ہیں اور واپس بھی جاسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انگور اڈہ چیک پوسٹ سمیت دوسری چیک پوسٹوں کے عہدوں کی تقسیم کا کام افغانستان میں حکومت کی تشکیل کے بعد عمل میں لایا جائے گا۔ فی الحال عارضی طور مقامی طالبان نے خود کمیٹیاں بنائی ہیں۔
دوسری طرف جنوبی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شوکت علی کے مطابق افغانستان میں حالات بدلنے کے بعد امید ہے کہ وزیرستان میں حالت بہتر ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پرائیویٹ ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ کمانڈر ملنگ وزیر اپنے کچھ ساتھیوں سمیت سرحد کے اُس پار افغانستان چلے گئے ہیں اور انگور اڈہ چیک پوسٹ پر انہیں کسی نے دیکھا ہے، مگر ہمیں سرکاری طور پر اس بارے میں رپورٹ نہیں ملی ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار پاکستان افغان سرحد پر فعال ہیں اور امید ہے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ سامنے نہیں آئے گا۔ یاد رہے کہ ملنگ وزیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں شدت پسندی کے مخالف ہیں اور افغانستان میں غیر ملکی فوج کے خلاف لڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا تعلق ملا نذیر گروپ سے ہے، جسے امریکہ نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ یاد رہے کہ چند دن پہلے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مفتی نور ولی نے بتایا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان نے افغانستان طالبان کے ہاتھوں پر بیعت لی ہے اور وہ افغان طالبان کے حکام کی پاسداری کریں گے۔ دوسری طرف یہ اطلاعات بھی ہیں کہ افغان طالبان کو پاکستان کی جانب سے شکایت کیے جانے کے بعد افغان طالبان اب تحریک طالبان کی قیادت کو پاکستان کے خلاف حملے روکنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وانا سے تعلق رکھنے والے پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر نور محمد کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد قبائلی اضلاع میں طالبان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’قبائلی اضلاع میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان نسل نہ صرف بےروزگار ہے بلکہ ان پڑھ بھی ہے۔ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد یہی بے روزگار نوجوان نسل طالبان میں شامل ہونے کو روزگار کا موقع سمجھے گی اور طالبان میں جانے پر فخر بھی محسوس کرے گی۔‘ نور محمد نے بتایا کہ انہوں نے کئی قبائلی نوجوانوں سے ملاقات کی ہے جو افغانستان میں جاری لڑائی کو جنگ نہیں بلکہ ’جہاد‘ سمجھتے ہیں۔ ’قبائلی نوجوانوں کا خیال ہے کہ طالبان میں شامل ہونا ایک طرف روزگار ہے اور دوسری طرف دین اور اسلام کی خدمت بھی ہے، اس لیے طالبان میں شامل ہونا بہتر آپشن سمجھا جاتا ہے۔‘ سوائے اورکزئی کے باقی تمام قبائلی اضلاع کی سرحدیں افغانستان سے ملی ہوئی ہیں اور اکثر اضلاع کے دونوں اطراف میں صرف ایک ہی قبیلے کے لوگ نہیں بستے، بلکہ ان کی ایک دوسرے سے رشتے داریاں اور گہری دوستیاں بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قبائلی اضلاع کے نوجوان بغیر کسی مشکل کے افغانستان جا سکتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں افغانستان کے حالت جو بھی ہوں مگر قبائلی اضلاع میں ایک دفعہ پھر طالبان کی طاقت کا ذکر اور ان کو اچھے ناموں سے یاد کرنے کے قصے شروع ہو چکے ہیں۔ طالبان کے مخالفین بھی پہلے کی طرح طالبان کو دشمن نہیں سمجھیں گے اور انہیں طالبان کو علاقے میں ایک قوت کے طور پر مجبوراً یا حالت کے مطابق تسلیم کرنا ہوگا۔
