امریکہ کے افغانستان سے انخلا کا منصوبہ غلط اندازوں سے سبوتاژ ہوا

افغانستان سے بتدریج انخلا کے امریکی منصوبے کو وقت، ارادے اور بھروسے سے متعلق 3 غلط اندازوں نے سبوتاژ کردیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ’امریکیوں کو یہ یقین تھا کہ انہیں وقت کی آسائش میسر ہے جبکہ فوجی کمانڈروں نے افغان افواج کی لڑنے کے حوصلے کے بارے میں غلط اندازہ لگایا اور صدر اشرف غنی پر بہت زیادہ اعتماد کیا جو کابل کے سقوط کے بعد فرار ہوگئے تھے۔
اخبار کے مطابق صدر جو بائیڈن کی جانب سے انخلا کے منصوبے کا اعلان کیے جانے کے 2 ہفتوں بعد قومی سلامتی کے اعلیٰ عہدیداروں نے منصوبے کو حتمی شکل دی تھی۔
سیکریٹری دفاع لائڈ جے آسٹن 3، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک اے ملی اور وائٹ ہاؤس اور انٹیلیجنس اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں نے اجلاس میں شرکت کی تھی جبکہ سیکریٹری اسٹیٹ ٹونی بلنکن ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شریک ہوئے۔اجلاس 4 گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد 2 چیزیں واضح ہوگئیں۔
پہلا یہ کہ وہ صدر جوبائیڈن کی مقرر کردہ حتمی تاریخ 11 ستمبر سے 2 ماہ قبل یعنی 4 جولائی تک افغانستان میں باقی رہ جانے والے ساڑھے 3 ہزار امریکی فوجیوں کو نکال لیں گے۔
بشکریہ: ڈان نیوز
