الیکشن کمیشن اور حکومت کے میچ میں کس کی جیت ہو گی؟


الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ لڑائی ختم کرنے اور زور زبردستی کی بجائے باہمی افہام و تفہیم سے معاملات طے کرنے کے لئے تحریک انصاف حکومت کو فواد چوہدری ماڈل یعنی معافی تلافی کی حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے کیونکہ اسی طرح معاملات خوش اسلوبی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
سنیئر صحافی نسیم زہرہ اپنے تازہ سیاسی تجزیئے میں کہتی ہیں کہ الیکشن کمیشن کا موجودہ حکومت سے میچ پڑھ چکا ہے، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے الیکشن کمیشن کے آئینی اختیارات کے دفاع اور استعمال کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ اس کی عکاسی کمیشن سے متعلقہ کئی معاملات پر بھرپور طریقے سے ہو چکی ہے۔ مثلاً جب فواد چوہدری اور اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن اور الیکشن  کمشنر پر سخت اور بے بنیاد تنقید کی تو الیکشن کمشنر نے معاملات کو ہلکی پھلکی صفائی اور معافی پر ختم نہیں ہونے دیا بلکہ الیکشن کمیشن نے دونوں وزرا پر ہتک عزت کا  الزام لگایا۔ وزیر ریلوے اعظم سواتی الیکشن کمیشن ٹریبیونل کے سامنے پیشی سے انکاری ہیں تاہم اپنا تحریری معافی نامہ وکیل سینیٹر علی ظفر کے ذریعے آخری سماعت میں جمع کروا چکے۔ لیکن ٹریبیونل نے انہیں 22 دسمبر کو ذاتی طعر۔پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے، اسی طرح کمیشن فیصل واوڈا کے خلاف غلط حلفیہ بیان جمع کروانے پر کیس کا فیصلہ کرے جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ڈسکہ کے الیکشن میں کمیشن پی ٹی آئی کے حق میں انتظامیہ کی بے قاعدگیوں کو بے نقاب کر کے ملوث افسران کے خلاف فوج داری مقدمات بھی دائر کر چکا۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس بھی الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے اور اس کا فیصلہ بھی ہونے جا رہا ہے۔
نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ ایسے میں چاہے حکومت اپنی آواز جتنی بھی اونچی کر لے، جتنی پریس کانفرنسیں مرضی کر لے اور جتنی بھی بے بنیاد تنقید الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر پر کر لے، ای سی پی اب یہ معاملات عدالت میں اٹھائے گا۔ دوسری جانب حکومت کو بھی تمام معاملات کو آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے ہی چلانا ہوگا۔ بقول نسیم زہرہ الیکشن کمیشن سے حکومت کا میچ پڑ چکا ہے۔ اگر حکومت سوچ سمجھ کر معاملات طے نہیں کرتی تو پھر کبھی کسی عدالت میں اور کبھی کسی پریس کانفرنس میں یوں ہی بات آگے بڑھے گی۔ حکومت اگر اپنی بہتری چاہتی ہے اور خاص طور پر الیکشن سے جڑے معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنا چاہتی ہے تو پھر لڑائی جھگڑا اور تہمت بندی سے اجتناب ہی کرنا پڑے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ حکومت کے سامنے اپنے بنائے ہوئے دو ماڈلز ہیں۔ ایک سواتی اور فواد چوہدری ماڈل اور دوسرا اٹارنی جنرل ماڈل۔ انکا کہنا یے کہ سواتی اور فواد ماڈل اب تک الیکشن کمیشن کے سامنے معافی، پیشی اور جواب دہی میں الجھا ہوا ہے۔ اگر حکومت سمجھے تو اس کی یقیناً سبکی بھی ہوتی ہے اور حکومت کو کچھ حاصل بھی نہیں ہوتا۔ دوسری جانب سب جانتے ہیں کہ اٹارنی جنرل اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات کے نتیجے میں اوورسیز ووٹنگ کے معاملات بھی طے پائے ہیں اور ای وی ایم پر کچھ کسی ایک خانے میں سلجھی ہوئی گفتگو جاری ہے لیکن بقول نسیم زہرہ یہ بات عجیب ہے کہ حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ایک ایسا اٹل فیصلہ کیا ہے جس پر کم از کم 2023کے الیکشن میں عمل ہوتا نظر نہیں آتا۔ وہ کہتی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل کہتے ہیں کہ صاف اور شفاف انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین لازمی ہے اور یہ طے ہو چکا ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں بھی ووٹنگ مشین استعمال ہوگی۔ اس سے قبل پنجاب کے وزیراعلیٰ کے حوالے سے یہ خبر چلی کہ وہ بلدیاتی حکومت کے  الیکشن قوانین میں ای وی ایم مشین کا استعمال لازمی قرار دینے والے ہیں لیکن انتہائی مضحکہ بات یہ ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے سب سے زیادہ تعلق رکھنے والے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہہ دیا ہے کہ ملک میں بنی ای وی ایم یا جو عالمی مارکیٹ میں موجود ہے وہ تکنیکی طور پر بلدیاتی الیکشن کے لیے استعمال نہیں ہوسکتی، صرف ناظم یا چیئرمین کے انتخاب کے لیے شاید استعمال کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں قیدیوں کی فرار کے بعد بخشی خانے میں توڑ پھوڑ

ایسے میں نسیم سوال کرتی ہیں کہ حقائق اور خواہشات میں تفریق کرنا اور پھر سیاست اور پالیسی کو اس کے مطابق ہر شعبے میں ہر معاملے میں آگے چلانا کیا حکومت اپنی بہتری میں سمجھتی ہے؟ یقیناً یہ اہم سوال ہے اور آج کل جب حکومت اور کمیشن کے تعلقات پر نظر ڈالی جائے تو یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ نسیم زہرہ کہتی ہیں کہ نومبر 17 کو یقیناً پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی عددی جیت ہوئی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا بل پاس ہو گیا لیکن اس بل کا نفاذ اب پیچیدگیوں سے لیس ہے۔ یقیناً قانون بنانا اور جمہوری نظام کو بہتر کرنے کے طریقوں کو اپنانے کا فیصلہ کرنا پارلیمان کا آئینی حق ہے لیکن ان فیصلوں کا نفاذ متعلقہ اداروں کے پاس ہوتا ہے۔ یہی پاکستان کے آئین میں درج ہے۔ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اداروں کے اختیارات بھی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اب تین کمیشن ترتیب دیئے ہیں جو ای وی ایم کے معاملات کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔  معاملہ ان کمیشنز کی سفارشات کی بنیاد پر آگے بڑھے گا نہ کہ حکومت کی عددی جیت کے نتیجے میں جو بل پاس ہوا اس کی بنیاد پر۔۔۔

Back to top button