اقوام متحدہ میں افغانستان ، میانمار کی نمائندگی کا فیصلہ ملتوی

اقوام متحدہ نے افغان طالبان اور میانمار کی فوجی حکومتوں کو تسلیم کرنے کا معاملہ غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا، اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی ووٹنگ کے بغیر ہی امریکا، روس اور چین سمیت 9 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی کے معاہدے پر مشتمل قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔

کمیٹی نے جنرل اسمبلی نے افغانستان اور میانمار کے نمائندوں کی شمولیت کو مؤخر کرنے‘ کی تجویز دی تھی جسے منظور کر لیا گیا ، سویڈن 9 ممالک پر مشتمل کریڈنشلز کمیٹی کی صدارت کر رہا ہے۔

یکم فروری کو میانمار میں فوجی قبضہ ہونے کے بعد وزیر خارجہ وونا ماونگ لوین نے 18 اگست کو سابق فوجی کمانڈر اونگ تھورئین کو یو این میں تعینات کیا۔

افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات سفیر غلام اسحٰق زئی نے بھی 14 ستمبر کو اقوام متحدہ میں اسی قسم کی درخواست دائر کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر دفاع پرویز خٹک کو دفع کرنے کا مطالبہ کیوں ہو رہا ہے؟

طالبان نے رواں برس اگست کے وسط میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 20 ستمبر کو یو این سے درخواست کی کہ وہ ان کے سابق ترجمان سہیل شاہین کو افغانستان کے نئے نمائندے کے طور تسلیم کرے۔

Back to top button