الیکشن کمیشن ممبران کی تقرری پر ڈیڈ لاک کا امکان


پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے الیکشن کمیشن کے ریٹائر ہونے والے دو ممبران کی جگہ نئے اراکین کی تقرری کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دوبارہ میچ پڑنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے آئینی طریقہ کار کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اراکین کے خالی نشستوں میں تقرر کے لیے قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو خط لکھتے ہوئے جلد جواب دینے پر زور دیا یے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو لکھے گئے خط کی نقل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان نے آئین کے آرٹیکل 213 اور 218 کے مطابق قائد حزب اختلاف کو الیکشن کمیشن میں ممبران کی خالی اسامیوں کے لیے خط لکھا ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘پنجاب اور خیبرپختوخخواہ کے لیے تین، تین نام تجویز کر دیے گے ہیں، ان ناموں پر اپوزیشن کے جواب آنے کے بعد الیکشن کمیشن میں نئے ممبران کی تعیناتی ہو سکے گی’۔ خط کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کی خالی نشستوں کے لیے پولیس سروس آف پاکستان کے سابق افسر احسان مطلوب، سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل راجہ عامر خان اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے سابق افسر ڈاکٹر سید پرویز عباس کے نام تجویز کردیے ہیں۔ خیبر پختونخواہ کے اراکین الیکشن کمیشن کے لیے وزیراعظم نے جسٹس (ر) اکرام اللہ خان، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے سابق افسر فریداللہ خان اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ مزمل خان کے نام تجویز کیے ہیں۔
یاد رہے کہ آئین پاکستان کے تحت وزیراعظم کو الیکشن کمیشن کی ہر خالی نشست میں تعیناتی کے لیے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے ساتھ متفقہ طور پر تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجنے ہوتے ہیں۔ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اتفاق نہ ہونے کی صورت میں دونوں کو تین ناموں پر مشتمل اپنی الگ، الگ فہرست بھیجنی ہوتی ہے، جس کی تعداد حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے برابر ہوتی ہے۔ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کوئی بھی نشست 45 دن سے زائد خالی نہیں رہنی چاہیے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا سے الیکشن کمیشن کے اراکین36 جولائی کو ریٹائر ہو گئے تھے۔ پنجاب سے جسٹس (ر) الطاف ابراہیم قریشی اور خیبر پختونخوا سے جسٹس (ر) ارشاد قیصر ای سی پی کے اراکین کی حیثیت سے 5 سالہ مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہوگئے تھے۔
لیکن اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین اتفاق رائے ہونے کے امکانات کافی معدوم ہیں جس کی بنیادی وجہ دونوں فریقین کے مابین پائی جانے والی سیاسی کشیدگی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سندھ اور بلوچستان سے ای سی پی اراکین کے تقرر کا معاملہ ایک سال تک لٹکا رہا تھا اور حل نہیں ہو سکا تھا۔ سندھ اور بلوچستان سے اراکین کی تقرری کا معاملہ وزیراعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے درمیان مشاورت نہ ہونے کے باعث التوا کا شکار ہوا تھا۔ پارلیمنٹ کی کمیٹی کی جانب سے ان تعیناتیوں کے لیے الگ الگ فہرستیں بھیجنے کے بعد کسی فیصلے تک پہنچنے میں ناکامی اور حکومت کی طرف سے ای سی پی کے دو اراکین کے تقرر کے یکطرفہ نوٹی فکیشن سے تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔بعد ازاں ان اراکین سے اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا نے حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔
لہازا اب ماضی کی طرح ایک دفعہ پھر ڈیڈ لاک پیدا ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے تجویز کردہ ناموں پر اتفاق نہیں کرے گی۔ آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری حکومت اور اپوزیشن کے باہمی اتفاق سے ہوتی ہے۔ آئین کے تحت ای سی پی میں چیف الیکشن کمشنر اور ہر صوبے سے ایک رکن شامل ہوتا ہے اور اسوقت یہ نامکمل ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے ممبران کی تقرری کے حوالے سے فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا جائے گا کیونکہ حکومت اور چیف الیکشن کمشنر کے آپسی معاملات ٹھیک نہیں ہیں اور ویسے بھی عمران خان کے خلاف اکبر ایس بابر کا دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے۔
اب پہلے مرحلے میں وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو پنجاب اور کے پی کے سے تین تین نام تو بھجوا دیے ہیں لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ شہباز شریف یہ سارے نام مسترد کر دیں گے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان اور شہباز شریف کے باہمی تعلقات کشیدہ ترین ہیں کیونکہ پچھلے ایک برس میں وزیر اعظم ااپوزیشن لیڈر کو دو مرتبہ نیب کا مہمان بنوا چکے ہیں۔ اس لئے زیادہ امکان یہی ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے مابین ناموں پر اتفاق نہیں ہو گا اور ایک مرتبہ پھر ڈیڈ لاک پیدا ہو جائے گا۔

Back to top button