حکومتی کارکردگی دکھانے کیلئے انڈین سائٹ کا استعمال

تحریک انصاف کی حکومت اپنی تین سالہ کارکردگی کی تشہیر کے لیے بنائے اشتہارات پر انڈین ویب سائٹس سے تصاویر چرا کر لگانے پر عوامی تنقید کی زد میں ہے۔

مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا ہے کہ استعمال شدہ تصاویر ایک انڈین ویب سائٹ کی ہیں، ساتھ میں انہوں نے اس بھارتی ویب سائٹ کا لنک بھی شیئر کیا جس کے بعد حکومتی میڈیا مینیجرز کی جانب سے خاموشی ہے اور کوئی جواب نہیں آیا۔ بتایا گیا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے میڈیا منیجر نے اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے جو اشتہارات بنائے ہیں ان میں استعمال کی گئی تصاویر سٹاک امیجز ہیں جو کوئی بھی فرد آن لائن اپنے ذاتی کام کے لیے خرید کر لگا سکتا ہے۔ سٹاک امیجز انٹرنیٹ پر اشتہارات بنانے اور تشہیری مہم چلانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق مریم اورنگزیب نے اس حوالے سے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’جعلساز عمران صاحب نے اپنی تین سال کی نام نہاد حکومتی کارکردگی دکھانے کے لیے انڈین ویب سائٹ (http://imagesbazaar.com) کی تصویریں استعمال کی ہیں۔ لنک سے عمران خان حکومت کی کارکردگی رپورٹ کے ثبوت بمع تصویر دیکھے جاسکتے ہیں۔‘ خیال رہے کہ تحریک انصاف نے اپنی حکومت کے تین سال پورے ہونے پر 26 اگست کو ایک عوامی جلسہ کیا تھا جس میں وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کی کارکردگی قوم کے سامنے پیش کی تھی۔ تاہم اس تقریر کے بعد مریم اورنگرزیب نے کہا کہ عمران صاحب کو مسیحا دکھانے کے لیے وزارت اطلاعات کے کروڑوں روپے کے خوشحالی کے منصوبے انڈین پورٹل کی چوری شدہ تصاویر پر مبنی ہیں۔ آپ اندازہ کریں کہ یہ ملک کن لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے تین سالہ دور اقتدار میں عوام کی حالت بدلنے کا دعوی کرنے والے کے دور میں اگر مہنگائی کم ہوئی ہوتی تو حکومتی اشتہارست میں پاکستانی بازاروں کی تصویریں ہوتیں۔

دوسری جانب مریم اورنگزیب کے الزامات کے جواب میں کوئی حکومتی وزیر تو نہیں بولا لیکن بھارتی ویب سائٹ سے تصاویر چرانے کے ذمہ دار پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے ایک اظہر مشوانی نے یہ لطیفہ سنایا کہ اشتہارات حکومت کوئی خود بیٹھ کر نہیں بناتی، ایڈ ایجنسیاں بناتی ہیں جو مختلف ذرائع سے ڈیٹا خرید کر استعمال کرتی ہیں۔لہٰذا اس بلنڈر کی ذمہ دار حکومت نہیں ہے۔ اظہر مشوانی نے ایک ٹویٹ میں مسلم لیگ ن کی جانب سے چلنے والا ایک اشتہار شیئر کیا جس میں استعمال کی گئی تصویر مبینہ طور پر کسی ویب سائٹ سے لی گئی تھی۔ اظہر مشوانی نے لکھا کہ ’نون لیگی حکومت کے اشتہارات میں بھی اسی ویب سائٹ کی تصاویر استعمال کی گئیں۔ اگر یہ تصاویر انڈیا کی ہیں تو فواد چودھری صاحب کو ایجنسی کے خلاف ایکشن لینا چاہئے۔‘

خاور ملک نامی ایک ٹوئٹر صارف نے کپتان حکومت کی جانب سے اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے بھارتی انڈین ویب سائٹ کا سہارا لینے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسی حکومت جو دوسری جماعتوں کی قیادت پر مودی سے یاری کا الزام عائد کرتی ہے خود اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے بھارتی ویب سائٹ سے تصاویر چرا رہی ہے۔ شرم انکو مگر نہیں آتی۔

Back to top button