الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کی نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ایم این اے فیصل واوڈا کی نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ، کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی لیکن کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر نے پیپلز پارٹی کے رہنما قادر خان مندوخیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں نے کہا تھا ہم حتمی دلائل دے چکے، کیا آپ مزید دلائل یا دستاویزات دینا چاہتے ہیں؟ آج 30ویں پیشی ہے، گزشتہ ڈیڑھ سال سے کمیشن تنبیہ کر رہا ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران سکندر سلطان راجا نے کہا کہ وہ جواب دیں نہ دیں، فیصلہ کرنا کمیشن کا کام ہے، یہ آخری بار ہے، وکیل درخواست گزار قادر مندوخیل نے کہا کہ فیصل واوڈا امریکی شہریت رکھتے تھے، متعلقہ آر او کو کوئی سزا نہیں ہوئی۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ میں نے امریکی سفارت خانے کو نوٹس بھیجا تھا،ہم افراد کو جواب نہیں دیتے، میں نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ہی امریکی سفارت خانے سے پوچھ لے۔
دوران سماعت درخواست گزار کا کہنا تھا فیصل واوڈا نے غیرملکی پراپرٹی ظاہر کر دی، آپ امریکی قونصل خانے سے فیصل واوڈا کی شہریت کی انکوائری کرائیں۔چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا گزشتہ سماعت پر آپ نے کہا دلائل مکمل ہو گئے، آج نئی بات کر رہے ہیں، قونصل خانہ الیکشن کمیشن کے ماتحت نہیں،کمیشن انہیں نہیں لکھ سکتا۔
درخواست گزار کے وکیل آصف محمود نے کہا کہ ہم نے سارے تحریری جواب دے دیئے ہیں، کمیشن فیصلہ کرے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیصل واوڈا کی دوہری شہریت تھی یا نہیں؟ قادر خان مندوخیل کا کہنا تھا فیصل واوڈا نے کاغزات نامزدگی جمع کراتے وقت جھوٹا حلف نامہ جمع کرایا اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے وقت دوہری شہریت چھپائی۔
فیصل واوڈا کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ درخواست گزار شہریت چھوڑنے کے سرٹیفیکٹ پر بھروسہ کر رہے ہیں، ہم نے بیان حلفی جمع کرایا ہے، شہریت سے متعلق دو سوالات ہیں، فیصل واوڈا ہمیشہ سے پاکستانی شہری ہیں اور انہوں نے پاکستانی شہریت کبھی نہیں چھوڑی۔
وکیل بیرسٹر معید کا مزید کہنا تھا کہ فیصل واوڈا نے کبھی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے کیلئے اپلائی نہیں کیا، برتھ سرٹیفکیٹ کے مطابق فیصل واوڈا امریکا میں پیدا ہوئے، کاغذات نامزدگی میں لکھا کہ کبھی غیرملکی شہریت کے لیے اپلائی نہیں کیا، پیدائشی شہری ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فیصل واوڈا نے اپنا پاسپورٹ منسوخ کر دیا، ان کے پاس کوئی غیرملکی پاسپورٹ نہیں، ممبر کمیشن نے فیصل واوڈا کے وکیل سے استفسار کیا کہ کب کینسل کیا پاسپورٹ، تاریخ تو بتائیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ اس میں تاریخ نہیں ہے۔
بیرسٹر معید کا کہنا تھا جب آر او کے سامنے پیش ہوئے تو امریکی پاسپورٹ منسوخی کی دستاویزات جمع کرائی، کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے پہلے ہی غیر ملکی پاسپورٹ منسوخ کرایا، آر او نے کہا میں نے منسوخ پاسپورٹ دیکھا ہے، ہمارے پاس اس دن کوئی غیر ملکی پاسپورٹ نہیں تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے تحریری دلائل جمع کرانے کی مہلت مانگی تھی۔

Back to top button