عمران نیازی مغربی پاکستان کے جنرل نیازی کیسے بنے؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ کپتان حکومت کی ناکامیوں نے آج مغربی پاکستان کو مشرقی پاکستان بنا دیا ہے اور وزیراعظم عمران خان ملک کے لیے جنرل نیازی ثابت ہو رہے ہیں۔ حالات اتنے ابتر ہو چکے ہیں کہ عوام اور حکومت دو مختلف عناصر بن چکے ہیں، ان دونوں کی زبان تک مختلف ہے، حکومت کو کہیں مہنگائی دکھائی نہیں دے رہی جب کہ عوام کو چینی کے دانے بھی چٹانیں محسوس ہو رہے ہیں، قرضے پہاڑ بن چکے ہیں، ملک پہلی بار دفاعی اخراجات اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہا، عوام میں مایوسی بڑھتی چلہ جا رہی ہے چنانچہ اب وہ کپتان پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ عوام کی جانب سے حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار الیکشن نتائج سے ہو رہا ہے۔
اپنی تازہ تحریر میں جاوید چوہدری ایک حکومتی نمائندے سے اپنی گفتگو کا حال بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’آپ کو سوچنا ہو گا کہ آپ کے پی کے میں 9 برس مسلسل برسر اقتدار رہنے کے بعد بھی بلدیاتی الیکشنز کیوں ہار گئے۔ پشاور سے آپ کے پانچ ایم این ایز ہیں اور11ایم پی ایز ہیں لیکن لوگوں نے میئر شپ کے لیے ووٹ جے یو آئی کو دے دیا، آپ کی انتخابی مہم وزیر اعظم نے خود چلائی تھی، آپ لوگوں نے الیکشن سے قبل ہیلتھ انشورنس لانچ کر دی، الیکشن کمیشن نے خط لکھ کر وزیراعظم کو اسکے افتتاح سے روکا مگر وہ 8 دسمبرکو پشاور بھی آئے اور اسکیم کا فیتا بھی کاٹا لیکن اس کے باوجود عوام نے آپ کو ووٹ نہیں دیا۔ جاوید چوہدری کے بقول اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی فنڈز کے دروازے کھول دیے، وہ لوگوں کو فون پر بتاتے پکڑے گے کہ میرے پاس 70 کروڑ روپے کے فنڈز ہیں اور یہ فنڈز میں صرف الیکشن جیتنے والوں کو دوں گا۔ لیکن اسکے باوجود صوابی کی چار نشستوں میں سے ایک جے یو آئی، ایک ن لیگ اور ایک اے این پی نے حاصل کر لی، بنوں میں حکومت کے دوایم پی ایز ہیں، لیکن وہاں سے بھی پی ٹی آئی امیدوار جے یو آئی کے عرفان اللہ درانی کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ کوہاٹ سے شہریار آفریدی اور شبلی فراز پورے حلقے کے سردار ہیں مگر وہاں سے بھی یوتھیے امیدوار ہار گئے لہٰذا صوبے کی چاروں میئرشپس تحریک انصاف کے ہاتھ سے نکل گئیں۔
جاوید چوہدری کے بقول انہوں نے حکومتی نمائندے کو کہا کہ آپ کی قیادت کو سوچنا پڑے گا کہ پی ٹی آئی کا اتنا برا حشر کیوں ہوا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کپتان حکومت کی غلط پالیسیوں نے مغربی پاکستان کو مشرقی پاکستان بنا دیا ہے۔ عمران کے تین سالہ اقتدار میں تحریک لبیک کی شکل میں پنجاب میں ایک نئی سیاسی قوت سامنے آ گئی۔ یہ بریلوی اکثریت کی پہلی بڑی سیاسی جماعت ہے۔ بریلوی مکتبہ فکر کے لوگ اس سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں میں منقسم تھے، اکثریت ن لیگ کے ساتھ تھی، پیپلز پارٹی کے پاس بھی ان کے ووٹ تھے اور یہ خود بھی چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں میں بٹے ہوتے تھے لیکن پھر ممتاز قادری کے واقعے نے انھیں جوڑ دیا۔ ریاست نے مسلم لیگ ن کا ووٹ توڑنے اور آپ کو اقتدار میں لانے کے لیے انھیں سہارا دے دیا اور اس سہارے کے دوران یہ ایک بڑی سیاسی قوت بن گئی۔ 31 اکتوبر 2021 کے معاہدے نے اسے مزید مضبوط اور ریاست کو کم زور کر دیا۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان 2013 میں دوری پیدا ہو گئی تھی جو الیکشن 2018 میں بڑھ گئی، عمران حکومت کا خیال تھا مولانا کی سیاست ختم ہو چکی ہے اور یہ اب دوبارہ کبھی سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل نہیں ہو سکیں گے لیکن کے پی کے بلدیاتی رزلٹ نے پوری سیاست کو ہلا کر رکھ دیا‘ جمعیت علماء اسلام نہ صرف پوری طاقت کے ساتھ واپس آئی بلکہ اس نے تین بڑے صوبائی شہر اپنی چادر میں بھی لپیٹ لیے۔ چنانچہ اب صورت حال یہ ہے کے پی میں جمعیت تیزی سے ابھر رہی ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں ٹی ایل پی اور دونوں نیشنل پارٹیاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کم زور ہو رہی ہیں جب کہ تحریک انصاف اپنی سیاسی گرفت کھو چکی ہے لہٰذا اب ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟
پاکستان کے بارے میں قومی اور بین الاقوامی تاثر تھا عوام مولوی کو مال بھی دے دیتے ہیں اور ان کے حکم پر جان بھی لیکن یہ انھیں ووٹ نہیں دیتے۔ 1947میں بھی عوام جلسے امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے گرماتے تھے پر ووٹ انھوں نے قائداعظم کو دیا تھا۔ لیکن اب یہ صورت حال بدل رہی ہے۔ ملک میں پہلی بار مولویوں کو ووٹ بھی پڑ رہے ہیں اور یہ ریاست کو پسپائی پر بھی مجبور کر رہے ہیں۔ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا پوری دنیا اس سے واقف ہے۔ جاوید چودھری موجودہ بحران کا حل تجویز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران خان کو نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بیٹھنا ہوگا۔ یہ تینوں بیٹھیں اور ملک کا سیاسی مستقبل طے کریں ورنہ یہ صورت حال ملک کو مزید انارکی میں لے جائے گی۔ بقول جاوید چوہدری حکومتی نمائندہ میرا یہ مشورہ سن کر ہنسی اور بولا ’’گویا آپ ہمیں کرپٹ لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کا مشورہ دے رہے ہیں‘‘۔ اس پر میں نے قہقہہ لگایا اور عرض کیا ’’آپ کرپٹ لوگوں کے ساتھ پہلے سے ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔ کیا حکومت میں چینی، آٹا، ادویات اور کھاد مافیا موجود نہیں؟ کیا لوگ اس وقت اربوں روپے کی دیہاڑی نہیں لگا رہے؟ آپ اگر ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تو باقی لوگوں کے ساتھ بیٹھنے میں کیا حرج ہے؟ دوسرا اگر مولانا فضل الرحمن، آصف زرداری اور نواز شریف کرپٹ ہیں تو حکومت ابھی تک عدالتوں میں یہ ثابت کیوں نہیں کر سکی، آج تک کیا ریکوری ہوئی ؟ لوگ اب اس بیانیے سے بے زار ہو چکے ہیں، اپوزیشن کی کرپشن کی کہانیاں حکومت کی بیڈ گورننس اور کم زور پرفارمنس کے پیچھے چھپ چکی ہیں۔ سچ تو یہنہے کہ حکومت نے بری حکمرانی کا اتنا بڑا پہاڑ کھڑا کر دیا ہے کہ لوگوں کو اب اپوزیشن کی کرپشن نظر ہی نہیں آتی۔ وزیر اعظم تقریر کرتے ہیں تو لوگوں کی ہنسی نکل جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں عمران خان کس ملک کی بات کر رہے ہیں؟ وزیر اعظم کا پاکستان ہمارا پاکستان تو نہیں ہو سکتا، ہم شاید افریقہ میں رہ رہے ہیں اور یہ امریکا کی کسی ریاست کو پاکستان سمجھ رہے ہیں، چناں چہ بہتر یہی ہے حکومت اور اپوزیشن اکٹھی بیٹھے، اگلے الیکشن فری اینڈ فیئر کرنے کا فیصلہ کرے، معاشی اصلاحات کرے، گورنمنٹ اپنا وقت پورا کرے اور ملک اگلے الیکشن کے بعد استحکام کی طرف بڑھے، عمران خان میدان میں کھڑے رہیں، عوام نے اگر چاہا تو یہ دوبارہ منتخب ہو کر واپس آ جائیں گے، لیکن اقتدار سے چمٹے رہنے کی ان کی خواہش اس ملک کو مزید تباہ کر دے گی۔ اس حقیقت کو طاقتور فیصلہ ساز بھی جتنا جلد سمجھ جائیں گے اتنا ہی ملک کے لیے بہتر ہو گا ورنہ وہ وقت دور نہیں جب کوئی اس ملک کا وزیراعظم بننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوگا۔
