کرکٹر یاسر شاہ نے ریپ ہونے والی لڑکی کو کیا دھمکیاں دیں؟

https://youtu.be/2h-dYucDC3M
قومی کرکٹر یاسر شاہ کے ایک 14 سالہ لڑکی کے ریپ کیس میں بطور ملزم نامزد ہو جانے کے بعد بالآخر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے بھی اپنی خاموشی توڑتے ہوئے تسلیم کر لیا ہے کہ ایسے واقعات پاکستان کیلئے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ یاد رہے کہ رمیز راجہ اس معاملے پر پہلے بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، ان کا موقف تھا کہ پہلے حقائق سامنے آنے دیں پھر ردعمل دیا جائے گا۔ لیکن اب یاسر شاہ کے خلاف پولیس کی جانب سے باقاعدہ جنسی زیادتی کا کیس دائر کیے کے بعد رمیز راجہ نے اپنی چپ توڑ دی ہے۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ کھلاڑیوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ کہ جب وہ کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرتے ہیں تو انہیں پاکستان کے سفیر کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ لہذا جب ان کا نام کسی قبیح فعل میں آتا ہے تو اس سے پاکستان کی نیک نامی نہیں بلکہ بدنامی یوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاسر شاہ کے معاملے میں بھی بھی نہ صرف کرکٹ ٹیم خراب ہوئی ہے بلکہ پاکستان کا نام بھی بدنام ہوا ہے۔
یاد رہے کہ درج شدہ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ یاسر شاہ کے دوست فرحان نے گن پوائنٹ پر ایخ 14 سالہ لڑکی سے زیادتی کی، اسکی ویڈیو بھی بنائی اور ہراساں بھی کیا۔ متاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ یاسر شاہ اور فرحان نے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو اس بارے بتایا تو اسکی ویڈیو وائرل کر کے اسے جان سے مار دیں گے۔
مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ یاسر شاہ نے لڑکی کو دھمکاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بین الاقوامی کرکٹر ہے، لہٰذا اگر اس نےبکسی کو شکایت لگائی تو اسے مختلف کیسز میں پھنسا دیا جائے گا اور اس کا برا حشر کر دیا جائے گا۔ متاثرہ لڑکی نے کہا کہ جب اس نے واٹس اپ پر کال کر کے یاسر شاہ کو بتایا کہ اس کے دوست نے کس طرح اس کے ساتھ زبردستی زیادتی کی تو اس نے پہلے اسکا مذاق اڑایا اور پھر سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یاسر شاہ نے لڑکی کو دھمکاتے ہوئے کہا کہ وہ بہت با اثر ہے، اور اسکی اعلیٰ پولیس افسران سے دوستیاں ہیں لہذا وہ اس معاملے پر منہ کھولنے کی کوشش بھی نہ کرے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو اطلاع دی تو قومی کرکٹر یاسر شاہ نے اسے ایک فلیٹ دینے، 18 سال تک اسکے تمام اخراجات اٹھانے اور دوست کیساتھ شادی کروانے کی پیشکش بھی کی۔ دوسری جانب ضمیر راجہ نے یاسر شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے پر اظہار افسوس تو کر دیا ہے لیکن ابھی تک انکے خلاف کوئی تادیبی کاروائی کرنے کا اعلان نہیں کیا۔

Back to top button