تھرلر ایکشن فلم ’’جاوید اقبال‘‘ کی نمائش کیوں ملتوی ہوئی؟

بچوں کو اغواء کے بعد قتل کرنے والے لاہور کے ایک سیریل کلر بارے بنائی گئی تھرلر ایکشن فلم ’’جاوید اقبال : دی ان ٹولڈ سٹوری آف اے سیریل کلر‘‘ کی نمائش کو آئندہ سال تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈسٹری بیوٹر عمر خطاب کے مطابق سینما سکرینز کی کمی اور ہالی ووڈ فلموں کی ریلیز کے باعث فلم کی ریلیز کو ملتوی کیا گیا ہے۔
جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ سٹوری آف آ سیریل کلر کا ٹریلر 8 دسمبر کو جاری کرتے ہوئے اسے رواں ماہ ہی ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر اب ہالی وڈ فلموں کی وجہ سے سینماؤں میں بکنگ ملنا مشکل ہو گئی ہے لہذا اس فلم کی نمائش ملتوی کر دی گئی ہے۔ فلم کے ڈسٹری بیوٹر عمر خطاب نے بتایا ہے کہ جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ سٹوری آف آ سیریل کلر’ کو دستیاب سینما سکرینز کم ہونے کی وجہ سے ریلیز نہیں کیا جا رہا۔ عمر خطاب کے مطابق اس وقت ہالی ووڈ فلم ’اسپائیڈر مین: نو وے ہوم‘ سینماؤں میں لگی ہوئی ہے جوکہ بہت اچھی چل رہی ہے۔ڈسٹری بیوٹر کا کہنا تھا کہ ہالی ووڈ فلم کے بعد ’دی میٹرکس‘ بھی سینماؤں میں پیش کی جائے گی، جس وجہ سے بھی اسکرین کم دستیاب ہوں گے جبکہ پاکستانی سینماؤں نے پہلے ہی کافی کم اسکرینز کو کھولا ہے، اس لیے بہتر کمائی کی خاطر ’’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر‘‘ کی نمائش کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا۔
فلم ڈسٹربیوٹر نے فلم کی نئی ریلیز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تاہم بتایا کہ اس کا اعلان جلد کیا جائے گا، اس سے قبل ’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ کو رواں ماہ کرسمس کے موقع پر 24 دسمبر کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، خیال کیا جا رہا ہے کہ فلم کو 2022 کی پہلی سہ ماہی میں پیش کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر اسے جنوری کے اختتام یا فروری کے آغاز تک ریلیز کر دیا جائے گا۔
فلم میں مرکزی کردار ’جاوید اقبال‘ یعنی یاسر حسین کو جہاں اعتراف جرم کرتے ہوئے دکھایا گیا، وہیں ٹریلر میں پس پردہ اس کی جانب سے بھیانک حقائق سامنے لانے اور انتہائی سخت سوالات اٹھائے جانے کی آواز بھی سنائی دی تھیں۔ فلم کی کہانی پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے بدنام سیریل کلر ’’جاوید اقبال مغل‘‘ کے جرائم اور ان کے قانونی ٹرائل کے گرد گھومتی ہے،’جاوید اقبال مغل‘ 100 بچوں کے قتل اور ان کے ’ریپ‘کا مجرم تھا۔
1999 میں جاوید اقبال نے پولیس کو ایک خط لکھا تھا جس میں 100 بچوں کے قتل کا اعتراف کیا جن کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھیں، اس نے ساتھ میں یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ اس نے زیادہ تر بچوں کو گلا گھونٹ کر مارا اور ان کے جسم کے کئی ٹکڑے بھی کیے، جاوید اقبال مغل نے 2001 اکتوبر میں لاہور کی جیل میں خودکشی کر لی تھی۔
