الیکشن کمیشن نے مستعفی ہونے کا مطالبہ مسترد کر دیا


کپتان حکومت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر سمیت پورے الیکشن کمیشن سے مستعی ہونے کے مطالبے پر راجہ سکندر سلطان اور ان کے ساتھیوں نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی ردعمل نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اپنے استعفوں کا مطالبہ سختی سے رد کر دیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے ایک حالیہ اجلاس میں حکومتی وزراء کی جانب سے خود پر لگائے جانے والے الزامات اور استعفوں کے مطالبے کو سختی سے رد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کمیشن پاکستانی آئین اور قانون کے مطابق چل رہا ہے اور اسی طرح دیانت داری اور غیر جانبداری کے ساتھ اہنے فراض سرانجام دیتا رہے گا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے جب وزیراعظم عمران خان نے اپنی ایک تقریر میں الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کیے تھے تو چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے ایک جوابی پریس ریلیز میں ان کا منہ توڑ جواب دیا گیا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن کے حالیہ اجلاس میں چند وفاقی وزراء کی جانب سے خود پر لگائے گئے الزامات کا تحریری جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ یہ تاثر نہ بن جائے کہ کمیشن بھی حکومت کی طرح پارٹی بن چکا ہے۔ لیکن اجلاس میں یہ باور بھی کروایا گیا کہ الیکشن کمیشن خود پر لگے الزامات کے جواب میں متعلقہ وزراء کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس اور اس جیسے دیگر کچھ کیسز الیکشن کمیشن کے پاس فیصلے کے لیے نہ جاتے تو حکومت کبھی بھی اس اہم قومی ادارے پر حملہ آور ہو کر اس کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش نہ کرتی۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن پر مسلسل دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور اسکے سربراہ سمیت دیگر ذمہ داران سے مستعفی ہونے کے مطالبے میں شدت آ گئی ہے۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے تو یہ تنبیہ کی ہے کہ اگر الیکشن کمیشن فوری مستعفی نہ ہوا تو سپریم کورٹ میں اس کے خلاف توہینِ عدالت کا کیا دائر کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سینیٹ انتخابات میں الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکا اس لیے متنازع الیکشن کمیشن آگے نہیں چل سکتا۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے تمام ذمہ داران اپنی آئینی اور قانونی حدود میں رہ کر ذمہ داری ادا کر رہے ہیں اور حکومتی وزرا کو بھی اپنی حدود میں رہنا چاہیے۔
الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کہتے ہیں کہ اگر حکومت کو کمیشن پر اعتراض ہے تو اس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جایا جائے۔ لیکن چونکہ حکومت کے پاس ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے استعفوں کے مطالبے سے دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ فارن فنڈنگ کیس میں کمیشن ممبران کو ڈرایا جا سکے۔ کمیشن کے ارکان کو ہٹانے کے بارے میں سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کہتے ہیں کہ ان کو ہٹانا اس قدر آسان کام نہیں ہے۔ حکومت کو اس کے لیے مکمل چارج شیٹ درکار ہوگی۔ ان کے بقول اس وقت ایسی کوئی چارج شیٹ موجود نہیں اور سپریم جوڈیشنل کونسل میں حکومت کو ہزیمت کا سامنا ہوگا۔ البتہ حکومت ابھی خود بھی اس راستہ سے احتراز کر رہی ہے اور صرف دباؤ ڈال رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا موجودہ حالات میں دباؤ ڈالنا درست نہیں۔ کیوں کہ الیکشن کمیشن دباؤ میں نہیں آئے گا۔
دوسری جانب سینئر کالم نگار اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اگر حکومت کو فارن فنڈنگ کیس اور ڈسکہ ضمنی الیکشن جیسے چیلنجز درہیش نہ ہوتے تو پھر موجودہ الیکشن کمیشن سے اچھا کمیشن شائد پی ٹی آئی کو پاکستان کی پوری تاریخ میں نظر نہ آتا۔
وسعت اللہ کہتے ہیں کہ آج کل پی ٹی آئی اوپر سے نیچے تک چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سمیت پورے الیکشن کمیشن کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے حالانکہ راجہ صاحب اور کمیشن کے دیگر چار صاحبان کا تقرر خود وزیرِ اعظم عمران خان نے کیا تھا۔ اب اسے الیکشن کمیشن سے یہ مسئلہ ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف بشمول وزیراعظم کے مستقبل کا فیصلہ بھی اسی ادارے کو کرنا ہے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کے علاوہ 2023 کے عام انتخابات بھی یہی ادارہ کروائیں گے۔ وسعت اللہ خان کا کہنا ہے کہ مستقبل کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کپتان سرکار الیکشن کمیشن پر چڑھائی تو کر چکی یے لیکن مشکل یہ ہے کہ الیکشن کمیشن مالی و انتظامی اعتبار سے ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے اور اس کی مدتِ حیات بھی پانچ برس ہے۔ اس کمیشن کے چار میں سے دو ارکان یعنی پنجاب کی نمایندگی کرنے والے ریٹائرڈ جسٹس الطاف ابراہیم اور خیبر پختونخوا کے نمایندہ جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر تین ماہ بعد یعنی جون 2021میں ریٹائر ہونے والے ہیں اور ان کی جگہ پر کرنے کے لیے پھر حزبِ اختلاف کی رضامندی ضروری ہو گی۔اس وقت حزبِ اقتدار و اختلاف کے مابین جس قدر سنگین اختلافات ہیں اس کے پیشِ نظر دو نئے ارکان کی تقرری بھی فریقین کے مابین ایک نئی کشیدگی کا موجب بننا ناگزیر ہے۔
وسعت اللہ کہتے ہیں کہ سرکار کو بھی معلوم ہے کہ چیف الیکشن کمشنر یا کسی بھی رکن کو ہٹانے کا طریقِ کار کتنا مشکل ہے۔کمیشن کے سربراہ کا مرتبہ سپریم کورٹ کے جج کے برابرہے۔ انھیں ہٹانے کے لیے بھی وہی راستہ ہے جو کسی بھی اعلیٰ جج کی سبکدوشی یا برطرفی کے لیے آئین نے مقرر کر رکھا ہے۔ یعنی سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنا ہوگا۔ اب یہ چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم کونسل پر منحصر ہے کہ وہ اس ریفرنس میں پیش کردہ شکایات و دلائل تسلیم کرتی ہے یا ریفرنس ہی اٹھا کر پھینک دیتی ہے۔البتہ گذشتہ دو ماہ کی انتخابی بے قاعدگیوں کو سرکار کی جانب سے الیکشن کمیشن کے سر منڈھنے کی مسلسل مہم اور اپوزیشن کی طرف سے اس مہم کو بلیک میلنگ قرار دے کر اس کی مزاحمت کے عزم نے پہلے سے ہی کشیدہ باکسنگ رنگ میں ایک اور نوکیلے پتھر کا اضافہ کر دیا ہے۔
وسعت اللہ یاد دلاتے ہیں کہ جب 20 جولائی 2012 کو گیلانی حکومت نے فخر الدین جی ابراہیم کے بطور چیف الیکشن کمشنر تقرر کا اعلان کیا تو پہلی بار پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن سمیت تمام چھوٹی بڑی سرکردہ جماعتوں نے فخرو بھائی کی تقرری کا متفقہ خیرمقدم کیا کیونکہ ان کی پوری قانونی زندگی کسی داغ سے پاک تھی۔لیکن جب 11 مئی 2013 کو منعقد ہونے والے عام انتخابات میں نواز شریف نے سادہ اکثریت حاصل کر لی تو نہ صرف پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل پر مایوسی کا اظہار کیا بلکہ عمران خان نے تو اس انتخاب کو ملکی تاریخ کا بدترین دھاندلی والا انتخاب قرار دے ڈالا۔ چنانچہ اصول و قانون پسند فخرو بھائی کے لیے یہ سارا کھیل تماشا ناقابلِ برداشت ہو گیا اور انھوں نے صرف ایک برس اس عہدے پر رہنے کے بعد احتجاجاً استعفی دے دیا۔اس کے بعد تقریباً سولہ ماہ تک چیف الیکشن کمشنر کی کرسی خالی رہی۔کیونکہ نواز شریف حکومت اور حزبِ اختلاف پیپلز پارٹی مختلف ناموں کو پسند ناپسند کرتے رہے۔بالاخر قرعہِ فال وفاقی شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج سردار رضا خان کے نام کا نکلا۔ پی ٹی آئی نے بھی اس نام کو خاموشی سے قبول کر لیا۔ جیسے ہی الیکشن کمیشن نے اکبر بابر کی جانب سے دائر پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس سماعت کے لیے قبول کیا پی ٹی آئی نے چیف الیکشن کمشنر کا نام ولن کے خانے میں لکھ دیا۔ مگر جولائی 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد عمران خان کو الیکشن کمیشن پھر سے اچھا اور مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمیعیت علماِ اسلام وغیرہ کو زہر لگنے لگا۔
تاہم حالیہ ڈسکہ الیکشن اور سینیٹ الیکشن طریقہ کار پر اختلافات کے بعد جب تحریک انصاف کے خلاف 6 برس سے لٹکے ہوئے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت میں تیزی آئی تو عمران خان حکومت کو بھی الیکشن کمیشن برا لگنا شروع ہو گیا اور اس نے پورے کمیشن سے ہی استعفیٰ مانگ لیا۔ اب تحریک انصاف حکومت بھی سمجھتی ہے کہ آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن ملک کے وسیع تر مفاد میں نہیں ہے لہذا اسے فوری استعفی دے دینا چاہیے۔ لیکن کپتان اینڈ کمپنی کی یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button